Home
Image

مریم نواز شریف کی ‘ریڈ لائن’ کا کیا بنے گا؟

لاہور میں 2 غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، زیادتی اور تاوان کا واقعہ صرف نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے خاندان تک محدود معاملہ نہیں، کیونکہ خاندانی رشتوں کے یہ تانے بانے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خاندان سے جا ملتے ہیں۔


اگر خاندانی پس منظر دیکھا جائے تو یہ تعلق اس طرح بنتا ہے کہ نواز شریف صاحب کی صاحبزادی اور مریم نواز شریف کی ہمشیرہ عاصمہ نواز کی شادی اسحاق ڈار صاحب کے بیٹے علی ڈار سے ہوئی ہے۔ یوں شریف خاندان اور ڈار خاندان آپس میں قریبی سمدھی رشتےدار ہیں۔


اس کیس میں جس محمد رضا ڈار کا نام لیا جا رہا ہے، اسے رپورٹس میں اسحاق ڈار صاحب کا قریبی رشتہ دار (نواسہ) بتایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے بھی ایک بڑا ‘ٹیسٹ کیس’ بن چکا ہے۔


چونکہ شریف خاندان اور ڈار خاندان کئی دہائیوں سے سیاسی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں اور اب خاندانی رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں، اس لیے اس واقعے پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں سوالات کا اٹھنا فطری ہے کہ جب ملزم کی پشت پر ڈار فیملی اور شریف فیملی جیسے ملک کے دو طاقتور ترین خاندانوں کا اثر و رسوخ موجود ہو تو صوبے کی سربراہ کے طور پر مریم نواز شریف کا اپنے “ریڈ لائن” والے بیانیے پر قائم رہنا اور قانون کی بالادستی ثابت کرنا ایک بہت بڑا اور کٹھن امتحان بن گیا ہے۔


آج اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی طاقتور خاندان کے شخص کا نام کسی سنگین اور حساس کیس میں آتا ہے تو کیا قانون عام شہری اور طاقتور رشتہ دار کے لیے ایک جیسا حرکت میں آتا ہے یا نہیں؟


وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف بار بار “ریڈ لائن” اور قانون کی بالادستی کی بات کرتی رہی ہیں۔ اب یہی کیس ان کے لیے اصل امتحان ہے کہ کیا پنجاب حکومت اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری دکھائے گی یا دو طاقتور خاندانوں کا اثر و رسوخ قانون پر غالب آ جائے گا۔


مریم نواز شریف کی سیاست میں خواتین کا تحفظ اور ان کے حقوق ہمیشہ ایک مرکزی بیانیے کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم ان کے لیے ایک “ریڈ لائن” یعنی سرخ لکیر ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست اور خصوصاً وزارتِ اعلیٰ کے دور میں خواتین کے تحفظ کے بیانیے کو باقاعدہ اپنی حکومت کی پہچان بنانے کی کوشش کی ہے۔


ان کی حکومت نے خواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب بھر میں ورچوئل پولیس اسٹیشنز قائم کیے اور ‘نیور اگین’ (Never Again) جیسی پینک بٹن ایپس متعارف کروائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خواتین فوری طور پر پولیس سے رابطہ کر سکیں۔


مریم نواز شریف اکثر پبلک فورمز پر یہ کہتی آئی ہیں کہ ورک پلیس یعنی کام کی جگہ یا عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنا یا ان پر تشدد ان کی حکومت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ وہ خود کئی ایسے کیسز میں ذاتی طور پر نوٹس لیتی رہی ہیں جہاں خواتین متاثرہ فریق تھیں۔


انہوں نے پنجاب پولیس اور دیگر انتظامی عہدوں پر خواتین افسران کی تعیناتی کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنا کر ہی معاشرے میں جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔


بیانیے کی حد تک وزیر اعلیٰ کے یہ اقدامات اور عزم ہمیشہ بہت مضبوط دکھائی دیے ہیں، لیکن کسی بھی حکومت کے ان دعووں کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب کوئی بڑا، ہائی پروفائل اور پیچیدہ کیس سامنے آئے۔ جب الزامات کی زد میں نظام پر اثر انداز ہونے والے بااثر افراد یا طاقتور حلقے ہوں تو وہاں قانون کا بلا تفریق حرکت میں آنا ہی یہ ثابت کرے گا کہ ‘ریڈ لائن’ محض ایک سیاسی نعرہ ہے یا ایک ناقابلِ عبور حقیقت۔


اس کیس نے مریم نواز شریف کی ‘ریڈ لائن’ کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کے ماضی کے بیانات اور موجودہ کیس کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا موازنہ ناگزیر ہو چکا ہے۔


اس چیلنج میں ان کی کامیابی یا ناکامی ہی ان کی آئندہ سیاسی زندگی کا ایک اہم حوالہ بنے گی۔ اگر قانون واقعی بلا تفریق حرکت میں آیا تو یہ ان کے بیانیے کو مضبوط کرے گا۔ اگر وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کرتی ہیں یا ان کی انتظامیہ ملزمان کو بچاتی ہوئی نظر آتی ہے تو اپوزیشن اور پبلک کو یہ کہنے کا پورا موقع ملے گا کہ خواتین کا تحفظ صرف ایک سیاسی نعرہ تھا جو غریب پر تو لاگو ہوتا ہے، لیکن جب اپنے گھر کی بات آئے تو ریڈ لائن مٹا دی جاتی ہے۔


واضح رہے کہ مریم نواز شریف مستقبل میں وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں ایک اہم نام ہیں۔ غیر ملکی خواتین کے اس کیس میں بین الاقوامی پریس اور سفارتی حلقے ان کے اقدامات کو ان کے بیانات سے ضرور پرکھیں گے۔ اس کیس کو میرٹ پر حل کرنا انہیں عالمی سطح پر ایک میچور اور قانون پسند اسٹیٹس وومن (Stateswoman) کے طور پر مضبوط کر سکتا ہے۔

اس لیے مریم نواز کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ ان کی ریڈ لائن صرف معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے نہیں بلکہ بلا تفریق سب کے لیے ایک ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا یہ ایک المیہ رہا ہے کہ جب کوئی عام آدمی، موٹر سائیکل والا یا ریڑھی بان کسی جرم میں ملوث ہوتا ہے تو ریاست کی پوری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے، فوری گرفتاریاں ہوتی ہیں اور قانون کا جلال دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن جب معاملہ مقتدر اشرافیہ کا ہو تو تفتیش کی رفتار سست، دفعات میں نرمی اور پسِ پردہ سمجھوتوں کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔


اگر اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا تو عوام کا مریم نواز کے اس بیانیے پر سے اعتبار ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا کہ خواتین ان کی ریڈ لائن ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ لکیر سب کے لیے برابر ہے، ان کی حکومت کو ملزمان کے خاندانی اثر و رسوخ کو بالائے طاق رکھ کر کارروائی کرنی ہوگی۔


نوجوان نسل اور خصوصاً خواتین ووٹرز سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پریس کے ذریعے اس کیس کو لمحہ بہ لمحہ قریب سے دیکھ رہی ہیں۔ ن لیگ مریم نواز کی قیادت اور ان کی پالیسیوں کو خواتین کے تحفظ کے بیانیے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اگر اس ہائی پروفائل کیس میں انصاف ہوتا نظر نہ آیا تو یہ بیانیہ سخت متاثر ہو گا اور نوجوان و خواتین ووٹرز اس تضاد کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ اور اگر مریم نواز شریف تمام تر خاندانی اور سیاسی دباؤ کو پسِ پشت ڈال کر مظلوم غیر ملکی خواتین کو انصاف فراہم کرتی ہیں تو ان کا سیاسی قد کاٹھ بہت بلند ہو جائے گا۔


وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسی طاقتور خاتون لیڈر کے طور پر ابھریں گی جس نے اپنے بیانیے یعنی ریڈ لائن کی لاج رکھنے کے لیے اپنے ہی سمدھیوں اور اقتدار کے شراکت داروں کے دباؤ کو بھی قبول نہیں کیا۔

0
Views
10
1

مزید زمینی حقائق

Image

Image

Image

Image

Image