Home
پبلشنگ کی تاریخ: 30 اکتوبر, 2025
مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 6 منٹ
Image

پنجاب میں بڑے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے بعد زمینوں اور جائیدادوں پر قابض بڑے قبضہ مافیا کے خلاف بڑا آپریشن شروع ہونے جا رہا ہے

'سی سی ڈی' کی طرز پر 'پی پی پی اے' بھی قائم کر دی گئی

آج 31 اکتوبر کو لاہور میں پنجاب میں جائیدادوں کے حقوق کے تحفظ کا نیا آرڈیننس وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ نے منظور کر لیا۔

قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کرتے ہوۓ خاتون وزیراعلیٰ نے کہا کہ زمین اور جائیداد کے اصل مالکان کا حق اب کوئی نہیں چھین سکے گا، اور حکومت ہر شہری کی ملکیت کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

اس سے قبل خاتون وزیراعلیٰ نے صوبے میں کرائم کنٹرول اتھارٹی (CCA) کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس پر خاتون وزیراعلیٰ دعویٰ کرتی نظر آ رہی ہیں کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں ستر فیصد کمی آئی ہے۔

اب نئے قانون کو جسے Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance 2025 کہا گیا ہے، کافی بحث کے بعد منظور کیا گیا۔

اس تاریخی فیصلے کا مقصد صوبے میں زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کا تحفظ اور قبضہ مافیا کا مکمل خاتمہ ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس کے دوران کہا کہ "جس کی ملکیت، اسی کا حق، ماں جیسی ریاست ہمیشہ کمزوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔" انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد عوام کو ان کی زمینوں کا تحفظ دینا اور طاقتور طبقے کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کا مستقل خاتمہ ہے۔

اس آرڈیننس کے تحت ہر ضلع میں ضلعی تنازعات کے حل کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کریں گے۔ کمیٹی چھ ارکان پر مشتمل ہوگی اور 30 دن کے اندر فعال ہو کر 90 دن کے اندر فیصلہ دینے کی پابند ہوگی۔ فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے ایک خصوصی ٹریبونل بنایا جائے گا جس کی سربراہی ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کریں گے، اور وہ بھی 90 دن میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

فیصلہ آنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ناجائز قبضہ خالی کروایا جائے گا، اور کارروائی کو شفاف بنانے کے لیے اسے براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ پورا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر کارروائی کا ریکارڈ محفوظ رہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ قانون زمینوں کے تنازعات کے فوری حل اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ہے جو برسوں سے زیرِ التوا مقدمات کے خاتمے کا باعث بنے گا۔

درحقیقت پچھلے کئی ماہ سے پنجاب اسمبلی کے کئی ارکان اس بل کے حوالے سے اختلافات رکھتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ زمین اور جائیداد سے متعلق فیصلوں کا اختیار مقامی نمائندوں یا منتخب اسمبلی اراکین کو دیا جانا چاہیے تاکہ عوامی نمائندگی کے اصول کو تقویت ملے۔ ان اراکین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ منتخب نمائندے اپنے علاقوں کے مسائل اور زمینی تنازعات کی نوعیت کو بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے انہیں ضلعی کمیٹیوں (District Dispute Resolution Committees) میں مرکزی کردار ملنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کو سربراہی دینے سے فیصلہ سازی کا عمل دوبارہ افسر شاہی کے دائرے میں چلا گیا ہے، جس سے سیاسی نمائندگی کمزور پڑتی ہے۔ البتہ حکومت کا موقف یہ رہا کہ چونکہ زمین اور ریونیو سے متعلقہ فیصلے قانونی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں غیرجانبدار، انتظامی اور عدالتی تجربہ رکھنے والے افسران کے سپرد کرنا ہی زیادہ مؤثر اور شفاف طریقہ ہے۔ یہ اختلاف ابھی بھی بعض سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔

میری رائے میں ڈپٹی کمشنر صرف انتظامی افسر نہیں بلکہ اسے زمین اور ریونیو کے معاملات میں عدالت کے برابر اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ Land Revenue Act 1967 کے تحت ڈپٹی کمشنر بطور کلکٹر زمین کی ملکیت، انتقال، قبضے، لیز اور دیگر ریونیو جھگڑوں کے مقدمات سنتا ہے۔ وہ اسسٹنٹ کمشنر یا تحصیلدار کے فیصلوں کے خلاف اپیل بھی سن سکتا ہے۔ اس کی اپنی عدالت بھی ہوتی ہے اور ریکارڈ میں غلطیوں کی درستگی یا سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کے خلاف حکم جاری کرنے کا اختیار بھی اسے حاصل ہے۔

برطانوی دورِ حکومت میں ڈپٹی کمشنر کو ایک ہی وقت میں انتظامیہ، عدلیہ اور مالیات تینوں شعبوں کا سربراہ سمجھا جاتا تھا۔ British India کے نظام میں اسے ضلعی حکومت کا محور مانا گیا تھا، جو کلکٹر آف ریونیو، مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے طور پر بیک وقت اختیارات استعمال کرتا تھا۔ زمین کے ریکارڈ، محصول، ٹیکس، زرعی تنازعات، قبضے اور کرایہ داری جیسے مقدمات کی ابتدائی سماعت اسی کی عدالت میں ہوتی تھی۔ بعض اوقات چھوٹے فوجداری مقدمات کی کارروائی بھی وہ خود کرتا تھا، جب کہ بڑے مقدمات اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ یا چیف کورٹ پنجاب کو بھیجے جاتے تھے۔ اس طرح برطانوی ہندوستان میں ڈپٹی کمشنر نہ صرف انتظامی سربراہ بلکہ نیم عدالتی ادارہ بھی تھا، جس کا فیصلہ ضلعی نظم و نسق اور انصاف دونوں کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔

انہی عدالتی اختیارات کی وجہ سے اب اگر پنجاب حکومت نے نئے آرڈیننس میں ضلعی تنازعات کے حل کی کمیٹی کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کو دی ہے تو یہ قدم ایک احسن اور حقیقت پسندانہ فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف فیصلوں کی رفتار بڑھا سکتا ہے بلکہ ان میں انتظامی سمجھ بوجھ اور عدالتی توازن بھی پیدا کرے گا۔ اس سے عدالتی بوجھ کم ہوگا، زمینوں کے مقدمات میں برسوں کی تاخیر کم ہوگی، اور عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور فوری پلیٹ فارم میسر آئے گا۔

1
Views
19
12

مزید زمینی حقائق

Image

ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔

پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے...


Image

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہ...


Image

اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:

اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونک...


Image

پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟

▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ...


Image

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا ق...


مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: