مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 8 منٹ
پنجاب میں ٹریفک چالانوں کی بڑھتی ہوئی شرح: کیا یہ عوام کی اصلاح کے لیے ہیں یا یہ نیا ریونیو ماڈل ہے؟
پنجاب حکومت نے 2025 میں صرف چالانوں کی مد سے 6 ارب روپے کی خطیر رقم اکٹھی کی ہے اور دوسری طرف اسی مالی سال میں پنجاب میں ٹریفک حادثات میں تقریباً پانچ ہزار لوگوں کی اموات اور 5 لاکھ 70 ہزار کے قریب زخمی رپورٹ ہوئے، جن میں تقریباً 2 لاکھ 48 ہزار شدید زخمی شامل تھے۔
اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں معمولی ٹریفک غلطیوں پر بھی انتہائی سنگین جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ محض لاہور شہر میں ڈرائیونگ بیلٹ نہ پہننے پر دس ہزار روپے جرمانہ اور غلط موڑ کاٹنے پر آٹھ ہزار روپے جرمانہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اتنی ہی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پھر حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری کہاں تک پوری کر رہی ہے۔
اگر بے شمار سڑکوں اور چوکوں پر واضح ٹریفک سائن، لین مارکنگ، اسپیڈ لِمٹ بورڈز اور وارننگ اشارے سرے سے موجود ہی نہیں، تو ایک ڈرائیور کو کیسے معلوم ہو کہ اگلے چوک پر اسے سیدھا جانا ہے، مڑنا ہے یا رفتار کم کرنی ہے؟ ہر چوک یا کراسنگ پر اگر کیمرے بڑی سنجیدگی اور اہتمام سے لگائے جا سکتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ ٹریفک سائن کیوں نہیں لگائے جا رہے؟
قانون کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ریاست محفوظ اور واضح انفراسٹرکچر فراہم کرے، سڑکوں کو معیاری بنائے، Signage مکمل کرے اور شہریوں کو درست رہنمائی دے۔ اس کے بعد سخت نفاذ اور جرمانے مؤثر ہوتے ہیں، اور لوگ انہیں خوش دلی سے قبول بھی کرتے ہیں۔
میرے قارئین کے لیے یہ بات قابل غور ہے کہ مالی سال جولائی 2025 سے جون 2026 کے لیے پنجاب حکومت نے بجٹ دستاویزات میں یہ ہدف رکھا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس فیس اور ٹریفک چالانوں سے مجموعی طور پر 30.5 ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا جائے گا۔ اس میں سے ٹریفک چالانوں کے ذریعے تقریباً 11.2 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ بھی شامل ہے۔
اگر بجٹ میں یہ درج ہو کہ صرف ٹریفک چالانوں سے 11.2 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری منتخب حکومت کی ترجیح کیا ہے؟
اصولی طور پر ٹریفک جرمانے ایک ڈیٹرنس ٹول (Deterrence Tool) یعنی خلاف ورزی روکنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، مستقل آمدنی کا ماڈل نہیں۔ جب انہیں باقاعدہ ریونیو ہدف کی شکل دی جائے تو عوام میں یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ حکومت کو عوام کی جان کی حفاظت سے زیادہ غرض ریونیو اکٹھا کرنے اور ان کی جیب سے رقم نکلوانے میں دلچسپی ہے۔
حکومتیں اگر اپنے سالانہ بجٹ میں جرمانوں (Challans) سے حاصل ہونے والی رقم کو بھی آمدنی شمار کرنے لگیں اور انہیں “Non-Tax Revenue” کے خانے میں رکھنا شروع کر دیں تو یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ اگر پولیس یا متعلقہ اداروں کو مخصوص مالی ہدف دیا جائے کہ انہیں اتنی رقم جرمانوں کی صورت میں جمع کرنی ہے تو ان کی ترجیح بدل سکتی ہے۔ اس صورت میں ان کی توجہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر رکھنے، خطرناک ڈرائیونگ کو بروقت روکنے اور حادثات کی روک تھام پر کم اور زیادہ سے زیادہ چالان کرنے پر زیادہ ہو سکتی ہے، اور یوں سڑکوں پر حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
میرے اس مؤقف کو سمجھنے کے لیے سب سے مضبوط حوالہ وہ سالانہ اعداد و شمار ہیں جو ریسکیو 1122 نے جاری کیے۔ ان کے مطابق سال 2023 میں 420,387 حادثات اور 3,967 اموات رپورٹ ہوئیں، 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 467,561 حادثات اور 4,139 اموات تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں مزید اضافہ ہو کر 482,870 حادثات اور 4,791 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار صوبائی ایمرجنسی سروس اور ریسکیو ریکارڈ پر مبنی ہیں اور صرف رپورٹ شدہ واقعات تک محدود ہیں، جبکہ غیر رپورٹ شدہ حادثات شامل نہیں۔ اس لیے حقیقی صورت حال اس سے زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔
اگر انہی رپورٹ شدہ سالانہ اعداد و شمار کو روزانہ اوسط میں تبدیل کریں تو اس صوبے میں ٹریفک حادثات کی صورتحال اور گھمبیر ہو جاتی ہے۔
سال 2023
420,387 حادثات کا مطلب تقریباً 1,151 حادثات روزانہ
3,967 اموات کا مطلب تقریباً 11 اموات روزانہ
سال 2024
467,561 حادثات کا مطلب تقریباً 1,281 حادثات روزانہ
4,139 اموات کا مطلب تقریباً 11 سے 12 اموات روزانہ
سال 2025
482,870 حادثات کا مطلب تقریباً 1,323 حادثات روزانہ
4,791 اموات کا مطلب تقریباً 13 اموات روزانہ
یعنی سادہ الفاظ میں کہا جائے تو پنجاب میں آج روزانہ اوسطاً 1,200 سے 1,300 کے درمیان حادثات ہو رہے ہیں اور تقریباً 11 سے 13 افراد روزانہ جان سے جا رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سخت جرمانوں اور انفورسمنٹ کے باوجود ٹریفک سیفٹی کا شدید بحران نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں ہر سال مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت کے اقدامات اور غیر معمولی حد تک سخت جرمانوں کے باوجود سڑکوں پر وہ بہتری نمایاں نہیں ہو سکی جس کی توقع وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کی جا رہی تھی۔
مئی 2025 میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں دس گنا تک اضافے کی منظوری دی اور متعلقہ حکام کو فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی۔ بعد ازاں عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد روڈ سیفٹی کو بہتر بنانا، ٹریفک نظم و ضبط کو مضبوط کرنا اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت واقعی اپنے شہریوں کی روڈ سیفٹی میں سنجیدہ ہے تو اسے ایک Balanced Approach اپنانی ہوگی۔ صرف سخت جرمانے بڑھا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ ٹریفک انجینئرنگ کو ترجیح دیتے ہوئے پہلے سڑکوں کی حالت، لین مارکنگ، واضح Signage اور چوکوں کی ڈیزائننگ کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ Graduated Fining کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے جس میں پہلی خلاف ورزی پر وارننگ یا معمولی جرمانہ ہو اور بار بار خلاف ورزی پر سخت سزا دی جائے۔
یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ چالانوں سے حاصل ہونے والے ریونیو کے استعمال میں مکمل Transparency ہو، اور عوام کے سامنے یہ رکھا جائے کہ یہ رقم صرف اور صرف سڑکوں کی بہتری، جدید ٹریفک انجینئرنگ، واضح Signage، مضبوط ایمرجنسی سسٹم اور ایمبولینس سروس پر خرچ ہو رہا ہے۔
جب شہری اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ان سے وصول کی گئی رقم براہ راست ان کی حفاظت اور سہولت پر لگ رہی ہے تو ریاست پر اعتماد بحال ہوگا، ورنہ جرمانے اصلاح کے بجائے محض وصولی کا ذریعہ محسوس ہوتے رہیں گے۔
لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں شہریوں کے پاس کوئی مؤثر Legal Remedy یا پبلک فورم موجود ہے جہاں وہ اس پالیسی کو چیلنج کر سکیں، یا پھر یہ جرمانے اب مستقل Policy Framework کی صورت اختیار کر چکے ہیں؟
لیکن اصل سوال میری نظر میں اس وقت یہ ہے کہ ایک عام شہری ان حالات میں آخر جائے کہاں؟ اگر اسے یہ محسوس ہو کہ جرمانوں کا یہ سلسلہ غیر منصفانہ ہے تو کیا اس کے پاس کوئی مؤثر قانونی راستہ ہے جہاں وہ اپنی بات کہہ سکے؟ کیا کوئی ایسا عوامی فورم موجود ہے جہاں اس پالیسی پر کھل کر بحث ہو سکے اور اسے چیلنج کیا جا سکے؟ یا پھر ان جرمانوں کے سامنے اسے اپنا سر خم کرنا پڑے گا؟
nice