مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 9 منٹ
کل مطالعے کا دورانیہ: 7 منٹ 54 سیکنڈ (اب تک 31 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے)
اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:
اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 فروری 2026 کو درختوں کی کٹائی پر 13 فروری تک حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اور شہری حلقوں کا اعتراض ہے کہ کٹائی کے دوران پیپر ملبری کے ساتھ کچھ پرانے اور مقامی درخت بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ سی ڈی اے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کٹائی صرف الرجی پیدا کرنے والے درختوں تک محدود ہے اور یہ تمام کارروائی وزیراعظم آفس کی منظوری سے کی جا رہی ہے
فروری 2026 تک موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت کاٹے جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر حکومت نے اسلام آباد سے تقریباً 80,000 ایسے درخت ختم کرنے کی نشاندہی کر رکھی ہے۔
اس مہم کے تحت سب سے زیادہ کٹائی ایف نائن پارک میں کی گئی ہے جہاں تقریباً 12,800 درخت ہٹائے گئے، جبکہ شکر پڑیاں میں تقریباً 8,700 درخت کاٹے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جی 10، جی 11، ایف 10، ایف 11 اور سری نگر ہائی وے کے اطراف سے بھی ہزاروں درخت ختم کیے جا چکے ہیں۔
سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ پیپر ملبری اسلام آباد میں پولن الرجی کی بنیادی وجہ ہے، جس کے باعث ہر سال ہزاروں شہری سانس کی بیماریوں کے باعث اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، اسی لیے یہ اقدام ناگزیر سمجھا گیا۔
ماحولیاتی نقصان کے تدارک کے لیے حکومت نے ایک کے بدلے تین کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے تحت ہر کاٹے گئے پیپر ملبری کے بدلے تین مقامی اور ماحول دوست درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اب تک 40,000 سے زائد نئے پودے، جن میں املتاس، کچنار، دیسی شہتوت اور چیڑ شامل ہیں، لگائے جا چکے ہیں اور اپریل 2026 تک یہ تعداد 90,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
درخت کا ماحول دوست ہونا صرف اس کی ظاہری ہریالی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ مقامی ماحول، انسانی صحت اور Biodiversity (حیاتیاتی تنوع) کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہے۔
حکومت کی جانب سے پیپر ملبری کے متبادل کے طور پر جو درخت لگائے جا رہے ہیں، یعنی املتاس، کچنار، دیسی شہتوت اور چیڑ، وہ مجموعی طور پر پیپر ملبری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ماحول دوست سمجھے جاتے ہیں، اگرچہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور حدود موجود ہیں۔
املتاس اور کچنار اسلام آباد کے مقامی (Indigenous) درخت ہیں جن کا پولن بھاری ہوتا ہے اور ہوا میں معلق نہیں رہتا، اسی لیے یہ الرجی کا سبب نہیں بنتے، جبکہ مقامی پرندے اور شہد کی مکھیاں ان درختوں میں اپنے گھونسلے اور چھتے بنا کر زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں دوسرا یہ کہ یہ درخت شہری خوبصورتی میں بھی کافی اضافہ کرتے ہیں۔ دیسی شہتوت کے بارے میں عام طور پر یہ کنفیوژن پایا جا رہا ہے کہ اگر پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) نقصان دہ ہے تو دیسی شہتوت کیوں لگایا جا رہا ہے، حالانکہ پیپر ملبری ایک درآمدی قسم ہے جس کا پولن انتہائی باریک اور شدید الرجی پیدا کرنے والا ہوتا ہے، جبکہ دیسی شہتوت کا پولن اس حد تک مضر نہیں ہوتا اور یہ پھل بھی دیتا ہے جو پرندوں کی خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
چیڑ، جسے Pine (Pinus Roxburghii) کہا جاتا ہے، اسلام آباد اور مارگلہ کے پہاڑی علاقوں کا قدرتی درخت ہے جو سدا بہار ہونے کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے، تاہم خشک موسم میں اس کے پتے آگ کے خطرات بڑھا سکتے ہیں، اسی لیے ماہرین اسے مخصوص بلندیوں تک محدود رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پیپر ملبری کے مقابلے میں ان درختوں کا زیادہ ماحول دوست ہونا اس لیے اہم ہے کہ یہ مقامی ایکو سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، الرجی کے خطرات کم کرتے ہیں اور Biodiversity کو سہارا دیتے ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ Diversity (تنوع) کا ہے، کیونکہ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق صرف ایک ہی قسم کے درخت لگانا Mono culture ( صرف ایک قسم) کو فروغ دیتا ہے جو بیماریوں اور ماحولیاتی دباؤ کے سامنے کمزور ثابت ہوتا ہے، جبکہ حکومت کی “ایک کے بدلے تین” کی پالیسی اس لیے مثبت سمجھی جا رہی ہے کہ اس میں مختلف اقسام کے درخت شامل کیے جا رہے ہیں، جس سے ایکو سسٹم میں لچک پیدا ہوتی ہے اور کسی ایک بیماری کے باعث پورا جنگلاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ نئے درخت پیپر ملبری کے مقابلے میں اسلام آباد کے ایکو سسٹم، انسانی صحت اور Biodiversity کے لیے کہیں زیادہ بہتر اور محفوظ انتخاب ہیں۔
لیکن اس وقت ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ 80 ہزار درختوں کی کٹائی کے نتیجے میں شہری Heat Regulation، مقامی نمی، ہوا کے بہاؤ، اور مجموعی ایکو سسٹم کی ساخت میں کس نوعیت کی تبدیلیاں آئیں گی، اور نئے درختوں کی نشوونما اس خلا کو کس مدت میں پُر کر سکے گی اور شہر کی ہریالی Green Gap) میں جو کمی آئی ہے اس کا تدارک کیسے ممکن ہے ؟
زمینی حقائق یہ ہیں کہ درختوں کی کٹائی کے بعد نئے درختوں کی نشوونما ایک تدریجی عمل ہے اور اس کے درجہ حرارت پر اثرات بھی وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کی آب و ہوا میں املتاس اور کچنار درمیانی رفتار سے بڑھنے والے درخت ہیں جو عموماً 5 سے 8 سال میں مؤثر سایہ فراہم کرنے لگتے ہیں، جبکہ کچنار 3 سے 4 سال میں پھول دینا شروع کر دیتا ہے۔ دیسی شہتوت نسبتاً تیز رفتاری سے نشوونما پاتا ہے اور 4 سے 6 سال میں ایک قد آور درخت بن جاتا ہے، اس کے برعکس چیڑ یا Pine (Pinus Roxburghii) سست رفتار ہے اور اسے مکمل طور پر بالغ ہونے اور گھنا سایہ دینے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔ قلیل مدت میں پیپر ملبری کے ہزاروں درخت اچانک کاٹے جانے سے کچھ منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں مخصوص علاقوں میں زمین کے براہِ راست دھوپ میں آنے سے مقامی درجہ حرارت میں ایک سے دو درجہ سنٹی گریڈ تک اضافہ، اور فضا میں نمی کی کمی شامل ہے، کیونکہ پیپر ملبری کے چوڑے پتے Transpiration کے ذریعے ماحول میں نمی برقرار رکھتے تھے۔ تاہم طویل المدت تناظر میں یہ تبدیلی شہر کے لیے زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پیپر ملبری زیرِ زمین پانی کو غیر معمولی حد تک استعمال کرتا ہے، جبکہ مقامی درخت نسبتاً کم پانی لیتے ہیں، جس سے Water Table بہتر رہتا ہے اور بالآخر شہر کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ مزید یہ کہ املتاس اور کچنار کا سایہ پیپر ملبری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے نیچے ہوا کی قدرتی آمد و رفت بہتر رہتی ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت کی “ایک کے بدلے تین” یعنی 1:3 کی پالیسی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جب یہ نئے پودے بالغ ہوں گے تو وہ کاٹے گئے درختوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ آکسیجن پیدا کریں گے اور شہر میں Sustainable Cooling کے عمل کو مضبوط بنائیں گے
اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگلے 3 سے 4 سال تک اسلام آباد کے ان مخصوص علاقوں میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے، لیکن 2030 تک جب یہ 90,000 پودے جوان ہوں گے، تو اسلام آباد کا ماحول نہ صرف ٹھنڈا ہوگا بلکہ الرجی سے بھی پاک ہوگا
پیپر ملبری کے خاتمے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی خلا (Green Gap) کو پُر ہونے میں چونکہ چند سال کا عرصہ درکار ہے اس لیے اس عرصے میں شہریوں کی انفرادی سطح پر شجرکاری (Urban Plantation) نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ اسلام آباد اور اس جیسے شہروں میں رہائش پذیر افراد اپنے گھروں، لان یا گلیوں میں الرجی سے پاک اور ماحول دوست درخت لگا کر اس خلا کو کم کرنے میں عملی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چھوٹے گھروں اور لان کے لیے کچنار اور املتاس موزوں ہیں، جبکہ نیم کو قدرتی ایئر کنڈیشنر (Natural Air Purifier) سمجھا جاتا ہے۔ گلیوں اور سڑک کے کناروں کے لیے سکھ چین، ارجن اور جامن بہتر انتخاب ہیں کیونکہ یہ گھنا سایہ فراہم کرتے اور شہری درجہ حرارت (Urban Temperature) کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پودے لگانے کے لیے فروری، مارچ یا مون سون کے مہینے زیادہ موزوں ہوتے ہیں، تاہم نئے پودوں کو ابتدائی دو برس باقاعدہ پانی اور مناسب فاصلہ درکار ہوتا ہے تاکہ وہ مضبوط جڑیں بنا کر شہر کے ایکو سسٹم (Urban Ecosystem) کو طویل مدت میں سہارا دے سکیں