Home
Image


🔳 ساہیوال کا کوئلے سے بجلی بنانے والا آئی پی پی (پاور پلانٹ) پاکستان کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا چکا ہے، جس سے نکلنا اب ہمارے لیے ایک بڑا قومی چیلنج بن گیا ہے۔

دنیا کے مشہور فنانشل نیوز پیپر Wall Street Journal نے 3 دسمبر 2024 کو لکھا کہ چین کے بنائے ہوئے پاور پلانٹس پر پاکستان کا انحصار اس کی معیشت کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اصل الفاظ یہ ہیں:

‏Pakistan’s Reliance on Chinese Built Power Plants Is Strangling Its Economy

وزیر اعلی مریم نواز حکومت کے لیے یہ بڑا امتحان ہے کہ وہ ساہیوال پاور پلانٹ جیسے قومی خزانے پر بوجھ بنتے اس منصوبے کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ آج کل یہ تجویز بھی سننے میں آ رہی ہے کہ اس پلانٹ کو بند کر دیا جائے، کیونکہ 2047 تک پاکستان کی معیشت اس کے کیپیسٹی چارجز برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی۔ ایک راستہ واقعی یہ ہے کہ حکومت پلانٹ بند کرے، چینی کمپنی کو بھاری ادائیگی کرے اور اس مسئلے سے جان چھڑانے کی کوشش کرے، مگر یہ کمزور اور غیر حقیقی راستہ ہو گا۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ مریم نواز حکومت ایک smart move کرے اور ساہیوال ڈویژن میں اسی پلانٹ سے نزدیکی شہر میں ایک جدید National Economic Zone بنا دے۔ اس سے تمام بجلی صنعت میں استعمال ہو سکے گی کیپیسٹی چارجز کا خاتمہ ہو سکے گا، روزگار پیدا ہو گا، مقامی معیشت مضبوط ہو گی اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان چینی کمپنیوں سے بہتر شرائط پر بات کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔

ایک اچھا سیاسی ویژن رکھنے والی مریم نواز اگر اس نکتے کو سمجھ لیں تو ساہیوال پاور پلانٹ پنجاب کی صنعتی بحالی کا آغاز بن سکتا ہے، اور نواز شریف اور شہباز شریف کے دور میں جلد بازی، سیاسی مصلحتوں اور غلط منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی اس بڑی قومی سطح کی غلطی کو بھی بڑی حد تک سنبھالا جا سکے گا۔ اس تجویز کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مریم نواز حکومت کو روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر “انرجی پلس انڈسٹری” (Energy led Industrialization) کا ماڈل اپنانا ہو گا۔

حیرانی کی بات ہے کہ محض 1320 میگا واٹ کے ساہیوال کول پاور پلانٹ کو 690 ہیکٹر یعنی تقریباً 1,705 ایکڑ زرعی زمین پر قائم کیا گیا۔ یہ زمین پنجاب حکومت نے چینی کمپنی کو بجلی بنانے کے لیے بلا قیمت دی۔ زمین کی یوں بے قدری اسی ملک میں ممکن ہے۔ واضح رہے کہ لاہور کا علامہ اقبال ٹاؤن 1600 ایکڑ زمین پر قائم ہے۔

پنجاب سپیڈ کی اصطلاح چینی حکام اور سفیر نے شہباز شریف کی بطور وزیرِ اعلیٰ کارکردگی، خاص طور پر ساہیوال پاور پلانٹ کی ریکارڈ مدت میں تکمیل، کے لیے استعمال کی تھی۔ لیکن وقت نے بتایا کہ یہ اسپیڈ دراصل ملکی معیشت کو تباہی کی طرف لے جانے کی اسپیڈ تھی۔

اس منصوبے کا افتتاح اپریل 2015 میں چین کے صدر Xi Jinping نے کیا تھا، اور اسے سی پیک (CPEC) کا flagship prioritized project کہا گیا۔ یعنی یہ صرف ایک عام پاور پلانٹ نہیں تھا، بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سب سے نمایاں early harvest projects میں شامل تھا۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ 2025 میں امریکی تھنک ٹینک IEEFA یعنی Institute for Energy Economics and Financial Analysis نے ساہیوال پلانٹ کو early retirement یعنی وقت سے پہلے بند کرنے کے لیے ایک logical pilot قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس پلانٹ کو 5 سے 10 سال پہلے retire کیا جائے تو 2046 تک جاری capacity payments کے مقابلے میں مالی طور پر یہ کم نقصان والا راستہ ہو سکتا ہے، اور اس سے 27 سے 38 million tonnes کاربن ڈائی آکسائیڈ emissions سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اگر سی پیک کے flagship منصوبے کا یہ حال ہوا ہے تو پھر پورے سی پیک پراجیکٹ کے بارے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا اس کی بیل خیریت سے منڈھے چڑھائے۔

ساہیوال پاور پلانٹ کی منظور شدہ لاگت تقریباً 1.8 ارب ڈالر، یعنی 1.37 ملین ڈالر فی میگاواٹ رکھی گئی تھی۔ اعتراض یہ ہے کہ اسی دور میں چین، بھارت اور بنگلہ دیش میں اسی نوعیت کے پلانٹس اس سے تقریباً آدھی لاگت پر لگ رہے تھے۔ اگر عالمی معیار کو دیکھا جائے تو ساہیوال پلانٹ کی لاگت تقریباً 1.05 ارب ڈالر سے بھی کم ہونی چاہیے تھی۔ اس حساب سے منصوبے کی لاگت تقریباً 700 سے 800 ملین ڈالر، یعنی اس وقت کے حساب سے 75 سے 80 ارب روپے، زیادہ دکھائی گئی، جس کا بوجھ آج بھی مہنگے ٹیرف، ROE اور capacity payments کی صورت میں صارفین اٹھا رہے ہیں۔


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 35

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟

عنوان: ساہیوال کول پاور پلانٹ، ایک آئی پی پی ایک کہانی

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

جس طرح ایک مردہ انسان اپنے مال کی تقسیم یا چوری سے بے خبر ہو جاتا ہے، اسی طرح مردہ قوموں کے قیمتی وسائل، بجلی، پانی، معدنیات اور سرمایہ، ان کے سامنے لوٹ لیے جاتے ہیں اور وہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔ میں نہیں جانتا یہ قول کس کا ہے، مگر اسی سے اپنے آرٹیکل کا آغاز کر رہا ہوں۔

پاکستان میں بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ کے موضوع پر اپنی 34 ویں قسط کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ یہ معاملہ صرف آئی پی پیز، کوئلے، ایندھن یا معاہدوں کا نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑا مسئلہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ملک میں بڑے فیصلے کیسے ہوتے ہیں، ان کا بوجھ عوام پر کیسے ڈالا جاتا ہے، اور قومی پالیسیاں کیسے ناکام ہو جاتی ہیں۔

اسی لیے میں نے پاکستان کے تمام بڑے کول پاور پلانٹس پر باقاعدہ تحقیقاتی سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ یہاں ہر پلانٹ کی الگ کہانی ہے۔ مالکان، ناکارہ معاہدے، کیپیسٹی پیمنٹس اور فیول ارینجمنٹ سب مختلف ہیں۔ جب تک یہ دستاویزی حقائق الگ الگ عوام کے سامنے نہیں آئیں گے، بحران کی اصل تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

بجلی کے بحران اور آئی پی پیز پر تحقیق کے دوران جیسے جیسے حقائق سامنے آ رہے ہیں، یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور اعلیٰ قیادت نے آخر کس سوچ کے تحت اتنے مہنگے منصوبے منظور کیے؟

کیا انہیں اس کے سنگین انجام کا اندازہ نہیں تھا؟ افسوس یہ ہے کہ ذمہ دار آج بھی اقتدار میں ہیں اور عوام کے نام پر نئے معاہدے کر رہے ہیں، مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔

اس مایوسی کے باوجود، ایک لکھنے والے کی حیثیت سے میرا کام سچ لکھنا ہے، اس امید پر کہ شاید کبھی کوئی بااختیار شخص یہ تحریر پڑھ لے، جس کے دل میں احساس، اصلاح کی نیت اور اختیار ہو، اور وہ اس نظام کی اصلاح کے لیے عملی قدم اٹھا سکے۔

️پاکستان میں کوئلے سے بجلی بنانے والے منصوبوں کی مجموعی تعداد تقریباً 11 بنتی ہے، مگر اس وقت 9 بڑے کول پاور پلانٹس نیشنل گرڈ سے منسلک ہیں۔ ایک چھوٹا پلانٹ K Electric کے نظام سے جڑا ہے، جبکہ گوادر کول پاور پلانٹ ابھی مکمل عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف توانائی کا نہیں، بلکہ قومی منصوبہ بندی کا بھی ہے۔

کسی بھی بڑے IPP پاور پلانٹ کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی location یا capacity دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے 30 سالہ PPA یعنی Power Purchase Agreement کا جائزہ لیا جائے تو اصل مالی ذمہ داریاں، capacity payments، ایندھن کی لاگت، منافع اور حکومتی ضمانت زیادہ واضح طور پر سمجھ آتی ہیں۔

اسی لیے کسی پاور پلانٹ پر بات کرتے ہوئے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اسے کس دور میں اجازت ملی، NEPRA اور PPIB نے کب منظوری دی، CPEC یا حکومتی framework کے تحت اسے کیسے آگے بڑھایا گیا، PPA کب مؤثر ہوا، COD کس حکومت کے دور میں آئی، اور اس وقت فیصلہ ساز اداروں میں کون لوگ موجود تھے۔

اسی سلسلے، ایک IPP اور ایک کہانی، کی پہلی قسط ساہیوال کول پاور پلانٹ کے بارے میں ہے۔ یہ 1,320 میگاواٹ کا بڑا منصوبہ ہے اور CPEC کے نمایاں توانائی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

️ساہیوال کول پلانٹ کو پنجاب کے عین مرکز میں لگانا ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی شعبدہ بازی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کے محل وقوع (Location) کو ایک بڑی سٹرکچرل غلطی سمجھتے ہیں، جس کا بوجھ پاکستان کی معیشت، زراعت اور آنے والی نسلیں 2047 تک برداشت کریں گی۔

اس فیصلے کو “قومی جرم” یا ایک سنگین پالیسی اور معاشی ناکامی کیوں تصور کیا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے چند بنیادی اور ٹھوس تکنیکی و ماحولیاتی وجوہات ہیں۔

1۔ زرخیز زرعی زمین کا ضیاع اور فوڈ سیکیورٹی

ساہیوال اور اس کے گردونواح کا علاقہ پنجاب کا دل کہلاتا ہے، جو اپنی انتہائی زرخیز زرعی زمین اور لائیوسٹاک (مال مویشی) کے لیے مشہور ہے۔ ایسے شدید زرخیز اور ملکی خوراک کی ضرورت پوری کرنے والے خطے میں ایک بڑا کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا، جس سے نکلنے والی راکھ اور گیسیں زمین اور فصلوں کو متاثر کرتی ہیں، زراعت پر ایک بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

2۔ لاجسٹکس کی تباہی اور “ان لینڈ” (Inland) پلانٹ کی منطق

کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس عام طور پر ساحلی علاقوں (جیسے پورٹ قاسم یا گوادر) میں لگائے جاتے ہیں تاکہ درآمدی کوئلہ بندرگاہ سے سیدھا پلانٹ تک پہنچ سکے۔

ساہیوال پلانٹ کے لیے درآمدی کوئلہ کراچی بندرگاہ پر اترتا ہے۔ وہاں سے تقریباً 1200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ریل گاڑیوں کے ذریعے کوئلہ ساہیوال پہنچایا جاتا ہے۔ اس طویل ترین سفر کی وجہ سے نہ صرف ریلوے کے نیٹ ورک پر شدید بوجھ پڑتا ہے، بلکہ کوئلے کی نقل و حمل کے اخراجات (Freight Costs) حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخر کار عوام کو “فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ” کی شکل میں اٹھانا پڑتا ہے۔

3۔ ماحولیاتی تباہی اور اسموگ میں اضافہ

پنجاب پہلے ہی ہر سال موسمِ سرما میں بدترین اسموگ (Smog) اور فضائی آلودگی کا شکار رہتا ہے۔ ساہیوال پلانٹ سے خارج ہونے والی گیسیں (نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ) اور ہوا میں اڑنے والے باریک ذرات (PM2.5) اس خطے کی ہوا کو مزید زہریلا بنا رہے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات انسانی صحت، بالخصوص پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

4۔ زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال

کول پاور پلانٹس کو کولنگ (Cooling) کے عمل کے لیے لاکھوں گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ساہیوال ایک ایسے علاقے میں ہے جہاں پانی کا کوئی بڑا قدرتی ذخیرہ یا سمندر نہیں ہے۔ چنانچہ یہ پلانٹ زیرِ زمین پانی (Groundwater) اور مقامی نہری نظام پر انحصار کرتا ہے، جس سے ساہیوال اور اس کے اطراف میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور مستقبل میں پینے اور زراعت کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

5۔ متبادل اور سستے ذرائع کو نظر انداز کرنا

جب یہ پلانٹ لگایا گیا، اس وقت دنیا کلین انرجی (سولر اور ونڈ) کی طرف جا رہی تھی۔ پاکستان کے پاس چولستان میں سولر اور جھمپیر میں ونڈ کی وسیع گنجائش موجود تھی، جہاں سستی بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ ایک ایسے وقت میں درآمدی کوئلے پر مبنی پلانٹ لگانا اور وہ بھی ملک کے زرعی مرکز کے بیچوں بیچ، نواز شریف حکومت کی وہ حکمتِ عملی ہے جس پر تاسف ہی کیا جا سکتا ہے۔

6۔ “ٹیک اور پے” (Take or Pay) اور کیپیسٹی چارجز کا بھاری بوجھ

ساہیوال کول پلانٹ ان منصوبوں میں شامل ہے جن کے معاہدے “ٹیک اور پے” کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اس پلانٹ سے بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے پلانٹ کو فعال رکھنے اور اس کی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے اربوں روپے کے کیپیسٹی چارجز (Capacity Charges) ادا کرنے ہی پڑتے ہیں۔

چونکہ یہ پلانٹ درآمدی کوئلے پر چلتا ہے اور اس کی بجلی مہنگی پڑتی ہے، اس لیے کئی بار اسے کم چلایا جاتا ہے، لیکن عوام کی جیب سے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں اربوں روپے ہر ماہ اس پلانٹ کو جا رہے ہیں۔

7۔ ڈالر میں بجلی کی قیمت کی ادائیگی (Forex Drain)

یہ پلانٹ مقامی کوئلے، جیسے تھر کا کوئلہ، کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اسے ملائیشیا، انڈونیشیا یا جنوبی افریقہ سے آنے والے درآمدی کوئلے (Imported Coal) پر چلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

جب بھی ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں بڑھتی ہے، کوئلے کی درآمدی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

اس کے نتیجے میں ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ (Foreign Exchange) صرف اس پلانٹ کے ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باہر چلا جاتا ہے، جو ملکی معیشت پر ایک مستقل بوجھ ہے۔

8۔ طویل المدت “کاربن لاک اِن” (Carbon Lock in)

جب کوئی ملک ہائیڈرو، پانی، سولر یا ونڈ کے بجائے کوئلے کے اتنے بڑے پلانٹ کا 30 سالہ معاہدہ کر لیتا ہے، تو وہ تکنیکی اور قانونی طور پر ایک کاربن لاک اِن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی اب بین الاقوامی سطح پر گرین انرجی کے دباؤ اور کاربن ٹیکسز کے باوجود، پاکستان قانونی طور پر اگلی کئی دہائیوں تک اس آلودہ ترین ایندھن کو جلانے اور اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے۔

9۔ جب پاکستان نے اپنے مقامی کوئلے (Thar Coal) کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، تو ساہیوال پلانٹ کو تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے (Retrofitting) کی باتیں ہوئیں۔ لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ یہ پلانٹ بوائلر کی جس ٹیکنالوجی پر بنا ہے، وہ اعلیٰ معیار کے درآمدی کوئلے (Bituminous) کے لیے ہے، جبکہ تھر کا کوئلہ کم درجے کا (Lignite) ہے، جس کے لیے پلانٹ میں اربوں روپے کی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

10۔ گرڈ اسٹیشنز پر پریشر اور ٹرانسمیشن کے نقصانات (Line Losses)

بجلی کی پیداوار کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے لوڈ سینٹرز، جہاں بجلی استعمال ہونی ہے، کے قریب یا پھر سستے ایندھن کے منبع (Source) کے قریب ہونا چاہیے۔

ساہیوال پلانٹ نہ تو کسی ایندھن کے منبع، بندرگاہ یا کان، کے قریب ہے اور نہ ہی یہ ملکی گرڈ کے لیے سستے ترین متبادل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

️آج جون 2026 میں اس پاور پلانٹ کے حالات اور گھمبیر ہو چکے ہیں۔ IEEFA جیسے تھنک ٹینکس اور حکومتی حلقوں میں یہ بحث سنجیدہ ہو چکی ہے کہ imported coal کے اس پلانٹ کو 2047 تک چلانا پاکستان کی معاشی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ چینی کمپنیوں کو ایک یکمشت رقم، جس کا تخمینہ 400 ملین سے 1.5 ارب ڈالر تک لگایا جا رہا ہے، دے کر پلانٹ کو وقت سے پہلے بند کیا جائے، کیونکہ اگلے 20 سال کی capacity payments کا بوجھ 5 ارب ڈالر سے زیادہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت چین کے ساتھ قرضوں کی Debt Reprofiling پر بھی مذاکرات کر رہی ہے۔

نیپرا کی تازہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 25 میں نیپرا نے صرف capacity payments کی مد میں تقریباً 413 ارب روپے imported coal پر چلنے والے تین بڑے 1,320 میگاواٹ کے پلانٹس (ساہیوال، پورٹ قاسم اور حب) کو ادا کیے، یعنی اوسطاً ہر پلانٹ کو سالانہ 130 سے 140 ارب روپے اور ماہانہ تقریباً 11 سے 12 ارب روپے صرف اس لیے دیے گئے کہ وہ بجلی بنانے کے لیے موجود رہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم بجلی بنوائیں یا نہ بنوائیں۔

(اور یاد رہے کہ یہ رقم فیول لاگت اور دیگر سرچارجز سے الگ ہے۔)

اس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ جس یونٹ کو ملک کا base load سہارا ہونا چاہیے تھا، وہ خود ایندھن کی فراہمی اور حکمرانوں کی شخصی کمزوریوں کا شکار ہے۔ ہمارے وہ وسائل جو ہسپتالوں، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور سستی صنعتی بجلی پر لگ سکتے تھے، اب imported coal کے چند بڑے پلانٹس کی فکس ادائیگیوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

️اب حل کیا ہے؟

ساہیوال کول پاور پلانٹ کے Take or Pay معاہدوں اور Capacity Charges کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان 2049 تک یہ ادائیگیاں برداشت کرتا رہے، یا کوئی عملی اور کم نقصان والا راستہ اختیار کرے۔

اتنے بڑے IPPs کے معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا آسان نہیں، کیونکہ اس سے International Arbitration، ریاستی ضمانتوں، سرمایہ کاروں کے دعووں اور Sovereign Default جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ساہیوال پلانٹ کے معاملے میں چار ممکنہ راستے سامنے آتے ہیں:

1۔ معاہدوں کی دوبارہ گفت و شنید یعنی Restructuring and Renegotiation

پاکستان ساہیوال پلانٹ کے معاہدے میں Dollar Indexation کم کرنے، ادائیگیوں کو روپے سے منسلک کرنے، Return on Equity کم کرنے اور چینی بینکوں کے قرضوں کی مدت بڑھانے پر بات کر سکتا ہے۔ اگر قرض کی مدت 10 سال سے بڑھا کر 20 یا 25 سال کر دی جائے تو سالانہ Capacity Charges کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

2۔ تبدیلی: Take or Pay کو Take and Pay میں تبدیل کرنا

جب تک پلانٹ Take or Pay پر رہے گا، بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، ادائیگی عوام کو کرنی پڑے گی۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ اسے مرحلہ وار Take and Pay ماڈل پر لایا جائے، تاکہ ادائیگی صرف اسی بجلی کی ہو جو واقعی استعمال ہو یا قومی گرڈ میں شامل کی جائے۔

3۔ بجلی کی طلب بڑھانا یعنی Stimulating Demand

اگر پلانٹ بند نہیں کیا جا سکتا تو اس کی بجلی کو فالتو چھوڑنے کے بجائے پیداواری استعمال میں لانا ہو گا۔ ساہیوال کے قریب انڈسٹریل پارک، سستی صنعتی بجلی، Captive Power Plants کی قومی گرڈ پر منتقلی، الیکٹرک گاڑیاں اور بجلی پر مبنی صنعتی استعمال اس طلب کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس سے Capacity Charges کا فی یونٹ بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

‏4۔ Asset Buyout اور Managed Phase Out

دنیا میں اب انرجی ٹرانزیشن میکانزم یعنی Energy Transition Mechanism کے تحت مہنگے اور آلودگی پھیلانے والے کوئلے کے پلانٹس کو وقت سے پہلے بند کرنے کے لیے عالمی فنڈز، ایشیائی ترقیاتی بینک اور کلائمیٹ فنڈنگ جیسے راستے استعمال ہو رہے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ہاں بھی ان اداروں کی مدد سے Buyout Plan بنایا جائے۔ اس میں چینی سرمایہ کاروں کو مناسب ادائیگی کر کے پلانٹ کی ملکیت وقت سے پہلے حاصل کی جائے، پھر اسے یا تو بند کیا جائے، تھر کول یا کسی کم لاگت ماڈل پر منتقل کیا جائے، یا صرف ہنگامی ضرورت کے لیے رکھا جائے۔

⭕️ ہمارے تھنک ٹینک کی تجویز کے مطابق اب حکومت کی نیک نامی اور کامیابی یہ ہو گی کہ پلانٹ کو بند کرنے کے بجائے اسے قومی خزانے پر دباؤ بنانے کے بجائے مقامی صنعت، روزگار اور علاقے کی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے۔

کیسے؟

وہ ایسے کہ ساہیوال ڈویژن کے ضلع اوکاڑہ میں دیپالپور، اوکاڑہ روڈ کے دونوں اطراف، خاص طور پر حجرہ شاہ مقیم اور بصیر پور کی طرف ایسے بڑے زمینی قطعات موجود ہیں جو Waterlogging اور سیم و تھور کی وجہ سے بنجر ہو چکے ہیں اور کاشتکاری کے قابل نہیں رہے۔ چونکہ یہ زمین زراعت کے لیے ناکارہ ہے، اس لیے اسے اسپیشل انڈسٹریل زون میں تبدیل کرنا نسبتاً سستا اور آسان ہو سکتا ہے۔ یہاں ٹیکسٹائل، لیدر اور کیمیکل انڈسٹری جیسے شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

نیشنل ہائی وے (N 5)، سی پیک روٹ، سلیمانکی بارڈر، متبادل لنک روڈز اور ساہیوال پاور سورس سے ممکنہ رابطے کی وجہ سے یہ علاقہ مستقبل میں ایک اہم صنعتی پٹی یا اسپیشل اکنامک زون (SEZ) بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر حکومت اس علاقے میں 1,000 ایکڑ پر جدید انڈسٹریل پارک قائم کرے اور صنعتکاروں کو زمین، بجلی، بنیادی انفراسٹرکچر اور 2040 تک ٹیکس فری یا کم ٹیکس پالیسی دے، تو یہ پاکستان کی صنعت کے لیے بڑی کشش بن سکتی ہے۔ FBR بظاہر اس پالیسی کی مخالفت کرے گا، کیونکہ اسے 20 سال میں تقریباً 225 سے 265 ارب روپے کا ممکنہ ریونیو چھوڑنا پڑے گا، مگر اصل معاشی حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم اس نقصان سے کم ہو گی جو حکومت ویسے ہی کیپیسٹی چارجز یا یکمشت ادائیگی کی صورت میں برداشت کر رہی ہے۔ اس لیے یہ نقد رقم ضائع کرنے کے بجائے ایک Financial Swap ہو گا، جس میں فوری ادائیگی کے بجائے مرحلہ وار ٹیکس ریلیف دیا جائے گا، محدود ترقیاتی خرچ ہو گا، اور بدلے میں صنعتی پیداوار، بجلی کی کھپت، روزگار، سپلائی چین، مقامی کاروبار، ٹرانسپورٹ، خدمات، بالواسطہ ٹیکسز اور برآمدی امکانات پیدا ہوں گے۔

اس صنعتی پارک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ساہیوال پاور پلانٹ کے لیے 500 سے 700 میگاواٹ کا مستقل Dedicated Load پیدا کیا جا سکے گا۔ اس سے پلانٹ کی بجلی فالتو بوجھ نہیں رہے گی بلکہ صنعت کا خام مال بن جائے گی۔ پلانٹ کی utilization بڑھے گی، غیر استعمال شدہ بجلی کا دباؤ کم ہو گا، عام صارفین پر capacity payments کا بوجھ کم ہو سکے گا، اور حکومت چینی کمپنیوں کے ساتھ Reprofiling، Take or Pay ماڈل کی اصلاح، Return on Equity میں کمی اور قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ جائے گی۔ اس ماڈل سے 20 سال میں تقریباً 500 ارب روپے یا اس سے زائد کی بچت ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ 50,000 سے 80,000 ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

البتہ اس پالیسی میں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ چونکہ ساہیوال پلانٹ کوئلے سے بجلی بناتا ہے، اس لیے اس بجلی سے تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی یونین کے Carbon Border Adjustment Mechanism یعنی CBAM کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس صنعتی زون کا ہدف یورپی مارکیٹ کے بجائے پاکستان، افغانستان، افریقہ، وسطی ایشیا اور دیگر نان یورپی منڈیاں ہونی چاہئیں۔ یہاں ایگرو کیمیکلز، پیکیجنگ، فوڈ پراسیسنگ، زرعی مشینری، کم لاگت تعمیراتی مٹیریل، اور فلائی ایش سے بننے والی مصنوعات زیادہ موزوں رہیں گی۔

حتمی بات یہ ہے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کو بند کرنے یا اس سے جان چھڑانے کے لیے اربوں روپے نقد ادا کرنا کمزور راستہ ہے۔ بہتر حل یہ ہے کہ اسی مالی بوجھ کو صنعتی پالیسی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر یہی سہولت پاکستانی صنعتکاروں کو زمین، بجلی اور ٹیکس ریلیف کے ساتھ دی جائے تو یہی بوجھ ایک نئے Economic Engine میں بدل سکتا ہے۔ اس سے بنجر زمین معاشی اثاثہ بنے گی، صنعت کھڑی ہو گی، روزگار پیدا ہو گا، بجلی استعمال ہو گی، اور کیپیسٹی چارجز کا دباؤ کم ہو گا۔

⭕️ اب ہم اس پلانٹ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کر رہے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کہاں واقع ہے، اس کی صلاحیت کتنی ہے، اسے کون چلا رہا ہے، اس کے مالک کون ہیں، معاہدہ کب تک ہے، بجلی کون خریدتا ہے، ادائیگی کا نظام کیا ہے، اور آج یہ پلانٹ کس عملی صورت حال میں کھڑا ہے۔

ساہیوال کول پاور پروجیکٹ 2013 کے بعد بجلی کے بحران کے دوران شروع ہونے والی حکومتی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس منصوبے کا تعلق پنجاب حکومت کے Chief Minister’s Coal Initiative 2014، CPEC کے توانائی پروگرام، اور چینی کمپنی Huaneng Shandong Ruyi کی سرمایہ کاری سے تھا۔ اپریل 2014 میں پنجاب حکومت اور Shandong Ruyi Group کے درمیان لاہور میں MoU ہوا، جبکہ 21 مئی 2014 کو پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ یعنی PPDB نے Huaneng Shandong Ruyi کو ساہیوال میں 2 x 660 میگاواٹ کے درآمدی coal پاور پلانٹ کے لیے Letter of Interest جاری کیا۔ یہ منصوبہ نواز شریف کی وفاقی حکومت اور شہباز شریف کی پنجاب حکومت کے دور میں شروع ہوا۔ صوبائی سطح پر PPDB نے ابتدائی کارروائی کی، جبکہ وفاقی سطح پر PPIB، NEPRA، CPPA G اور پاور ڈویژن کے ذریعے اس کا IPP فریم ورک مکمل ہوا۔ سرمایہ کاری، تعمیر اور آپریشن کا کام چینی کمپنیوں نے کیا، لیکن منصوبے کی سیاسی اور حکومتی ذمہ داری پاکستان کی وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر آتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ پنجاب کے زرعی مرکز میں imported coal پر اتنا بڑا پاور پلانٹ کیوں لگایا گیا، اس کی مالی ذمہ داریاں کیسے طے ہوئیں، اور آنے والی دہائیوں کے لیے اس کا بوجھ عوام کے بجلی بلوں پر کیوں ڈال دیا گیا۔

مقام

ساہیوال کول پاور پلانٹ قادر آباد، ضلع ساہیوال، پنجاب میں واقع ہے۔ یہ پلانٹ نیشنل گرڈ سے منسلک ہے، یعنی اس کی بجلی قومی بجلی نظام میں شامل ہوتی ہے۔

پیداواری صلاحیت

اس پلانٹ کی کل پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے۔

یہ پلانٹ 660 میگاواٹ کے 2 یونٹس پر مشتمل ہے۔

ٹیکنالوجی

یہ supercritical coal fired ٹیکنالوجی پر بنایا گیا ہے، یعنی نسبتاً جدید مگر مکمل طور پر کوئلے پر مبنی پلانٹ ہے۔

کمپنی

اس پلانٹ کو Huaneng Shandong Ruyi Pakistan Energy Private Limited چلاتی ہے۔

اس کمپنی کو HSRPEL کہا جاتا ہے۔

ملکیت

اس کمپنی کے 50 فیصد حصص چینی کمپنی Huaneng Shandong Power Generation Company Limited کے پاس ہیں، اور باقی 50 فیصد حصص ایک اور چینی کمپنی Jining Chengtou یا Shandong Ruyi Group کے پاس بتائے جاتے ہیں۔

سرمایہ کاری

اس منصوبے پر تقریباً 1.8 سے 1.9 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ مختلف دستاویزات میں رقم 1.808 بلین ڈالر اور 1.912 بلین ڈالر کے درمیان درج ملتی ہے۔

قرض

منصوبے کی لاگت کا تقریباً 80 فیصد حصہ قرض سے پورا کیا گیا۔

ایکوئٹی

تقریباً 20 فیصد حصہ چینی اسپانسرز نے ایکوئٹی کے طور پر لگایا، جو تقریباً 360 ملین امریکی ڈالر بنتا ہے۔

قرض دینے والے بینک

قرض چینی سرکاری بینکوں کے کنسورشیم سے لیا گیا، جن میں Industrial and Commercial Bank of China، Bank of China، China Construction Bank اور Agricultural Bank of China شامل تھے۔

خریدار

اس پلانٹ سے بجلی CPPA Guarantee Limited خریدتی ہے۔

منصوبے کی قانونی نوعیت

یہ ایک IPP منصوبہ ہے، یعنی Independent Power Producer کے طور پر کمپنی حکومت پاکستان کو بجلی فروخت کرتی ہے۔

معاہدے کی مدت

اس پلانٹ کا Power Purchase Agreement تقریباً 30 سال کے لیے ہے۔

پلانٹ کا آغاز 28 اکتوبر 2017 کو ہوا اور دستیاب معلومات کے مطابق یہ معاہدہ 28 اکتوبر 2047 تک جاری رہنا ہے۔

کیا پلانٹ حکومت کو منتقل ہو گا؟

ساہیوال کول پاور پلانٹ کے بارے میں دستیاب سرکاری ریکارڈز میں یہ بات واضح نہیں کہ 30 سال بعد اس کی ملکیت حکومت کو منتقل ہو گی۔ بعض اخبارات نے اسے BOT یعنی Build Operate Transfer لکھا، مگر اصل معاہدوں میں transfer clause public domain میں موجود نہیں۔ اس لیے اسے verified BOT کہنا درست نہیں، بلکہ دستیاب معلومات کے مطابق اسے BOO یعنی Build Own Operate یا long term IPP structure کے قریب سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔

بجلی کا ابتدائی ٹیرف

2017 کے حساب سے اس پلانٹ کا ابتدائی ٹیرف تقریباً Rs 9.19 فی یونٹ بتایا گیا، جس میں بجلی کا بنیادی ریٹ اور کوئلے کی نقل و حمل کی لاگت شامل تھی۔

Return on Equity

اس منصوبے میں اسپانسرز کو اپنی لگائی گئی ایکوئٹی پر تقریباً 27.2 فیصد سالانہ Return on Equity دیا جاتا ہے۔

ادائیگی کا بنیادی نظام

اس پلانٹ کو صرف بنائی گئی بجلی کے پیسے نہیں ملتے، بلکہ دستیاب رہنے کی بنیاد پر capacity payment بھی ملتی ہے۔

Minimum Off Take

معاہدے میں minimum off take یا capacity guarantee کا تصور شامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پلانٹ سے پوری بجلی نہ بھی لی جائے تو بھی ایک مخصوص سطح تک ادائیگی کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔

Sovereign Guarantee

اس منصوبے کو حکومت پاکستان کی sovereign guarantee حاصل ہے، یعنی ادائیگی کے آخری رسک کی ذمہ داری ریاست پر آتی ہے۔

کوئلے کی نوعیت

یہ پلانٹ بنیادی طور پر imported coal پر چلتا ہے، جس کے لیے کوئلہ عموماً انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور بعض ادوار میں افغانستان سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔

کوئلے کی سالانہ ضرورت

اس پلانٹ کو مکمل طور پر چلانے کے لیے تقریباً 4.4 ملین ٹن کوئلہ سالانہ درکار ہوتا ہے۔

کارکردگی

اس پلانٹ کی efficiency تقریباً 40 فیصد کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ٹائم لائن

اس منصوبے پر MoU 2013 میں ہوا، Letter of Intent 2014 میں آیا، تعمیر 2015 میں شروع ہوئی، دونوں یونٹس 2017 میں آپریشنل ہوئے، اور 28 اکتوبر 2017 کو Commercial Operation Date مقرر ہوئی۔

تعمیر کی مدت

یہ پلانٹ تقریباً 26 ماہ میں مکمل کیا گیا، جسے اس وقت CPEC کے تیز رفتار منصوبوں میں شمار کیا گیا۔

بجلی کی پیداوار

ساہیوال کول پاور پلانٹ کی installed capacity 1,320 میگاواٹ ہے۔ اگر یہ پلانٹ 2017 سے 2025 تک اپنی پوری capacity پر مسلسل چلتا تو اسے تقریباً 92.5 ارب یونٹس بجلی grid کو دینی چاہیے تھی، مگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 تک اس نے 47.3 ارب یونٹس سے کچھ زیادہ بجلی دی۔ اس کا مطلب ہے کہ پلانٹ نے اپنی theoretical capacity کے مقابلے میں تقریباً 51 فیصد بجلی پیدا کی، یعنی تقریباً آدھی بجلی ہی قومی grid کو ملی۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2021 میں ساہیوال کول پاور پلانٹ نے تقریباً 7,700 GWh بجلی فراہم کی، مگر اس کے بعد پیداوار مسلسل گرتی چلی گئی۔ 2022 میں یہ تقریباً 4,855 GWh رہ گئی، اور مالی سال 2023 2024 میں NEPRA کے مطابق صرف 2,075.12 GWh رہ گئی، جبکہ plant utilization صرف 19.04% تھی۔ NEPRA کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023، نومبر 2023 اور مارچ 2024 میں اس 1,320 MW پلانٹ کی generation صفر رہی۔ یعنی قومی grid کو کئی مہینوں تک اس بڑے imported coal plant سے کوئی فائدہ نہیں ملا۔

مالی سال 2024 2025 میں بھی imported coal plants کی مجموعی utilization NEPRA کے مطابق 22.9% رہی، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ شرح تقریباً 19% بتائی گئی، اور ابھی بھی صورت حال یہ ہے کہ یہ پلانٹ کوئلے کی عدم دستیابی پر نہ ہونے کے برابر بجلی دے رہا ہے، لیکن کپیسٹی چارجز کی مد میں ہر ماہ اسے تقریباً 10 ارب روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، سالانہ 117 ارب روپے کی شرح کے حساب سے۔

ساہیوال پاور پلانٹس پر مہنگے کوئلے کی خریداری اور کچھ مقامی افراد کو مالی طور پر ناجائز فائدہ پہنچانے کا الزام و لاحاصل تحقیقات:

ساہیوال کول پاور پلانٹ کے کوئلہ خریداری معاملے میں لکی گروپ نے اعتراض اٹھایا کہ Huaneng Shandong Ruyi یعنی HSR نے ٹینڈر اس طرح بنائے کہ چند خاص سپلائرز کو فائدہ پہنچا۔ الزام تھا کہ جب مقامی مارکیٹ اور افغان کوئلہ 55000 روپے فی ٹن سے بھی کم قیمت پر دستیاب تھا، اس وقت ساہیوال پلانٹ کے لیے کوئلہ تقریباً 74,000 روپے فی ٹن یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر خریدا جا رہا تھا۔ یعنی اگر پلانٹ نے 100,000 ٹن کوئلہ سالانہ 74,000 روپے/ٹن پر خریدا تو سالانہ لاگت 7.4 ارب روپے بنتی ہے۔ اسی مقدار کو 55,000 روپے/ٹن پر خریدنے سے لاگت 5.5 ارب بنتی ہے اور 1.9 ارب روپے سالانہ آتا ہے۔ اور یہ وہی رقم ہے جو صارفین کے بلوں یا ٹیکس پیئرز کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔

اس معاملے میں عباس کارپوریشن کراچی کا نام بھی سامنے آیا، جس پر الزام لگا کہ اسے سپلائی کے عمل میں خاص فائدہ دیا گیا اور دوسرے سپلائرز کو سخت شرائط کے ذریعے باہر رکھا گیا۔ اس مہنگی خریداری کی لاگت بجلی کے نرخوں میں شامل ہوئی اور آخرکار عوام کے بلوں پر ڈال دی گئی۔ یہ عوام کے ساتھ کھلی زیادتی تھی۔ اس معاملے میں پاور ڈویژن، CPPA-G اور متعلقہ سرکاری افسران اور اس وقت کے فیڈرل پاور سیکریٹری کے کردار پر بھی سوالات اٹھے کہ ڈالر بحران اور مہنگی بجلی کے باوجود بروقت کارروائی کیوں نہ ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ساہیوال پاور پلانٹ کے ترجمان کا مؤقف یہ سامنے آیا کہ کوئلے کی خریداری کا فیصلہ پلانٹ انتظامیہ نے آزادانہ طور پر نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں متعلقہ حکومتی یا پالیسی ہدایات کے تحت مخصوص ذرائع سے کوئلہ خریدنے کی ڈائریکشن دی گئی تھی۔ ترجمان کے مطابق ان کا کام دی گئی ہدایات پر عمل کرنا تھا، اس لیے کوئلہ سستا خریدا گیا یا مہنگا، اس کی اصل ذمہ داری ان فیصلوں پر عائد ہوتی ہے جن کے تحت خریداری کا طریقہ طے کیا گیا۔

چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ نیپرا کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے اسے ثابت شدہ کرپشن نہیں کہا، مگر غیر شفاف ٹینڈر اور کمزور سرکاری نگرانی کی نشاندہی ضرور کی۔ اس لیے یہ معاملہ ایک بڑا کوئلہ خریداری تنازع بنا لیکن پھر بوجوہ دبا دیا گیا۔

اور معاملہ اس لیے دبا کیونکہ CPEC معاہدوں میں چینی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سفارتی پیچیدگیاں کے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔

لیکن حقائق یہی ہیں کہ یہ معاملہ دراصل CPEC کے تحت بننے والے تمام پاور پلانٹس میں شفافیت کی کمی کی علامت ہے۔ جب HSR جیسی چینی کمپنی کو آپریشن اور کوئلہ خریداری دونوں کا اختیار دیا گیا، تو مفادات کا ٹکراؤ (conflict of interest) خود بخود پیدا ہونا ہی تھا کہ نہ خریدار الگ تھا اور نہ سپلائر کوئی اور۔

ساہیوال پاور پلانٹ پر آنے والی لاگت ، کیا یہ قیمت عالمی معیار کے مطابق تھی؟

2020 کی پاور سیکٹر آڈٹ کمیٹی، جسے عام طور پر محمد علی رپورٹ کہا جاتا ہے، اور NEPRA کے ٹیرف ریکارڈ کی بنیاد پر ساہیوال کول پاور پلانٹ کی منظور شدہ لاگت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھے۔ اس پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے اور اس کی کاغذی لاگت تقریباً 1.8 ارب ڈالر منظور کی گئی، یعنی فی میگاواٹ لاگت تقریباً 1.37 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ اسی زمانے میں چین اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں اسی نوعیت کے coal power plants نسبتاً کم لاگت پر لگ رہے تھے۔ آڈٹ کمیٹی اور آزاد توانائی ماہرین کے مطابق اگر اسی ٹیکنالوجی کا پلانٹ دوسرے ملکوں میں کم لاگت پر لگ سکتا تھا تو پھر پاکستان میں ساہیوال پلانٹ کی لاگت اتنی زیادہ کیوں منظور ہوئی؟

ساہیوال کول پاور پلانٹ کی لاگت میں مبالغہ آرائی (Over invoicing) کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 2014 2015 میں پاکستان کے لیے اس 1,320 میگاواٹ کے پلانٹ کی مجموعی کاغذی لاگت تقریباً 1.8 ارب ڈالر، یعنی 1.37 ملین ڈالر فی میگاواٹ، منظور کی جا رہی تھی، تو بالکل اسی دور میں خود چین کے اندر اسی سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی کے پلانٹس کی اصل تعمیراتی لاگت (EPC Cost) 0.5 ملین سے 0.8 ملین ڈالر فی میگاواٹ کے درمیان تھی۔ اگر اس بین الاقوامی اور چینی معیار کو بنیاد بنایا جاتا، تو ساہیوال پلانٹ کی کل لاگت 1.05 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک منصوبے کی لاگت کو کاغذی ہیر پھیر کے ذریعے تقریباً 700 سے 800 ملین ڈالر، اس وقت کے حساب سے 75 سے 80 ارب روپے، بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک میں بھی یہ پلانٹس اوسطاً 0.7 سے 0.85 ملین ڈالر فی میگاواٹ میں لگ رہے تھے، اور خود چین میں اس سے بھی کم لاگت میں اس کپیسٹی کے پلانٹ لگ رہے تھے، لیکن پاکستان میں نیپرا نے اس فرنٹ لوڈڈ اور انفلیٹڈ کیپٹل کاسٹ کو نہ صرف منظور کیا، بلکہ اس مبینہ اضافی لاگت پر چینی سرمایہ کاروں کو 27.2 فیصد کا غیر معمولی ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) بھی جاری کر دیا، جس کا خمیازہ پاکستان کے صارفین آج بھی مہنگی کیپیسٹی پیمنٹس کی صورت میں بھگت رہے ہیں

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ

ساہیوال کول پاور پلانٹ بظاہر 1,320 میگاواٹ کا ایک بڑا آئی پی پی (IPP) ہے، مگر اصل مسئلہ اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ اس کا مہنگا معاہدہ، ادائیگی کا طریقۂ کار، درآمدی کوئلے پر انحصار، کم استعمال، اور 2047 تک ادا کیے جانے والے کیپیسٹی چارجز اور ریٹرن آن ایکوئٹی (ROE) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ پلانٹ صرف بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں رہا، بلکہ پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک اہم Financial Case Study بن چکا ہے


(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
1
0

مزید مضامین

Image

🔳 کوئلے کی بجلی▫️ساہیوال پاور پلانٹ جیسا میگا پراجیکٹ بندرگاہ، پورٹ قاسم، یا تھر کے کوئلے کے ذخا...

(اردو)
Image

🔳 بجلی سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی معلومات (ڈیٹا) ایک بیر...

(اردو)
Image

🔳 چراغ تلے اندھیرا۔ پورے ملک کو توانائی دینے والا بلوچستان خود ایرانی بجلی کا محتاج کیوں ہے؟▫️گو...

(اردو)
Image

🔳 ہم اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ پاکستان کا بجلی بحران صرف ملکی IPPs تک محدود ہے۔ مگر ایران سے درآ...

(اردو)
Image

🔳 سخت عوامی احتجاج اور وفاقی وزیرِ بجلی کی یقین دہانیوں کے باوجود نیپرا نے گزشتہ ہفتے (15 مئی 20...

(اردو)