Home
Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، سورج، چاند، ستارے جو اربوں سالوں سے روشن ہیں، کسی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے محتاج نہیں،
کیونکہ وہ فطرت کے طے کردہ قوانین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

جب ہم توانائی پیدا کرنے کے لیے زمین کے سینے کو چیرتے ہیں یا ماحول کو آلودہ کرنے والے ایندھن کا استعمال کرتے ہیں، تو ہم دراصل فطرت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، جس کا نتیجہ بالآخر معاشی اور ماحولیاتی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

ٹیسلا کا سب سے بڑا خواب مفت توانائی (بجلی) کا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ توانائی، ہوا، دھوپ، پانی کی طرح ہر انسان کے لیے مفت دستیاب ہو تاکہ کوئی کسی کا محتاج نہ رہے۔

پاکستان میں دھوپ (Solar)، ہوا (Wind) اور پانی (Hydro) کی موجودگی کے باوجود ہم بجلی بنانے کے لیے درآمدی ایندھن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ جب تک پاکستان میں کوئلے، ایل این جی، اور ڈیزل سے بجلی بنانا معاشی جرم قرار نہیں دیا جاتا، ہم بجلی کے بحران سے باہر نہیں آ سکتے۔ اور تب تک پاکستان کی صنعت اور عام آدمی سستی بجلی کو ترستا رہے گا۔ سولر کا موجودہ رجحان بھی دراصل عوام کا موجودہ انرجی مکس اور بجلی کے مہنگے نظام کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔

میرے کچھ پڑھنے والوں نے مجھے یہ کمپلمنٹ دیا کہ اگرچہ میری تحریریں طویل اور بظاہر خشک موضوعات پر ہوتی ہیں، مگر وہ اب انہیں افسانوں اور ناولوں کی طرح دلچسپی اور لطف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ میں اسے اپنے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔ خاص طور پر ایک ایسے دور میں، جہاں ہر بات کو چند سیکنڈز میں سمیٹ دینے کا رجحان بڑھ چکا ہے، اس بات نے میرا یہ یقین مزید مضبوط کیا ہے کہ سنجیدہ پڑھنے والے آج بھی موجود ہیں، اور مطالعے کا شوق ابھی ختم نہیں ہوا۔


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 26
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: نکولا ٹیسلا اور توانائی (بجلی) کا فلسفہ


🔺جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان


میں چونکہ کافی عرصے سے پاکستان میں آئی پی پیز کے کردار، بجلی کے دم توڑتے نظام، مہنگی بجلی، کیپیسٹی پیمنٹس، لائن لاسز، اور حکومتی پالیسی کی خامیوں پر تحریریں لکھ رہا ہوں۔ ہر وقت ایک طرح کے اعداد و شمار، ایک طرح کی رپورٹس، معاہدے، نقصانات، اور ایک جیسی ناکامیوں کا ذکر کرتے کرتے شاید میں خود بھی ذہنی طور پر اکتا گیا ہوں۔


گردشی قرضوں کے خشک موضوعات پر لکھتے لکھتے ہاتھ کی انگلیاں اور دماغ دونوں تھک چکے ہیں۔ اور دل چاہتا ہے کہ اس مادی دنیا سے نکل کر اس فکری کائنات میں جھانکوں، جہاں سے یہ تمام توانائیاں جنم لیتی ہیں۔


اسی لیے آج میں نے سوچا کہ بجلی کے بحران اور ملک میں بڑھتے ہوئے اندھیروں کی بات کرنے کے بجائے ذرا اُس فلسفے پر بات کی جائے جو روشنی کے پیچھے موجود ہے۔ اُس تصور پر بات کی جائے کہ توانائی آخر ہے کیا؟ کیا انسان نے روشنی کو صرف ایک زندگی گزارنے کی سہولت (Utility) سمجھا ہے، یا پھر وہ واقعی اُس عظیم راز کو سمجھنے کے قریب پہنچ سکا ہے جس پر پوری زندگی قائم ہے؟


کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا کہ اس کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں۔


سورج، چاند اور ستارے، جو اربوں سالوں سے روشن ہیں، کسی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے محتاج نہیں، کیونکہ وہ فطرت کے طے کردہ قوانین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔


ہمارے سامنے توانائی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے؛ سورج سے لے کر دور دراز کہکشاؤں تک، ہر چیز روشنی اور حرارت سے لبریز ہے۔


سورج اور ستاروں کی توانائی کا اصل راز نیوکلیئر فیوژن میں پنہاں ہے۔ جب ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں، تو مادّے کا ایک معمولی سا حصہ توانائی کے ایک عظیم دھماکے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو کروڑوں میل کا سفر طے کر کے زمین پر زندگی کی ضامن بنتی ہے۔


زمین پر اس کائناتی توانائی کو محفوظ کرنے کا سب سے پہلا اور بڑا ذریعہ پودے ہیں۔ یہ سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں، جو بعد ازاں خوراک اور حیاتیاتی ایندھن (Biomass) کی بنیاد بنتی ہے۔


آئن سٹائن کی مشہور مساوات E = mc^2 ہمیں بتاتی ہے کہ مادّہ دراصل توانائی ہی کی ایک انتہائی کثیف شکل ہے۔ یعنی کائنات میں جو کچھ ہمیں ٹھوس نظر آتا ہے، وہ بھی درحقیقت توانائی کا ایک ذخیرہ ہے۔


اس تناظر میں، جب ہم توانائی کے بحران یا نظام کی اصلاح کی بات کرتے ہیں، تو اصل مسئلہ توانائی کی کمی نہیں بلکہ اسے درست انداز میں منظم اور استعمال کرنے کا ہے۔ کائنات توانائی سے بھری ہوئی ہے، کمی صرف ایسے سمارٹ انفراسٹرکچر کی ہے جو اسے مؤثر طریقے سے بروئے کار لا سکے۔


مگر انسانی المیہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس کائنات کی توانائی کو پوری طرح سمجھنے اور مہذب انداز میں استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو سکے۔


ہم نے بجلی پیدا کرنے کے ایسے طریقے ایجاد کیے ہیں جو دھواں، شور، آلودگی، مہنگائی، اور معاشی غربت پیدا کرتے ہیں، لیکن شاید ابھی تک ہم اُس مرحلے تک نہیں پہنچے جہاں توانائی کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر حاصل کیا جا سکے۔


ہمارے پاکستان میں اس موضوع پر کام کرنے والے سائنسدانوں کو عموماً پلازما فزسسٹس (Plasma Physicists)، فیوژن ریسرچرز (Fusion Researchers)، نیوکلیئر فزسسٹس (Nuclear Physicists)، اور ایسٹروفزسسٹس (Astrophysicists) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ سورج، ستاروں، پلازما، نیوکلیئر فیوژن، توانائی کے میدانوں، اور مستقبل کی توانائی کے نظام پر تحقیق کرتے ہیں۔ لیکن اس تحقیق کا حاصل کیا ہے، اس کا جواب بھی ہمیں چیئرمین نیپرا انجینئر وسیم مختار سے پوچھنا چاہیے۔


پاکستان میں اس شعبے کا سب سے اہم ادارہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ہے، جس کے تحت Pakistan Tokamak Plasma Research Institute کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ پہلے “National Tokamak Fusion Program” کہلاتا تھا اور 2007 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں Tokamak ٹیکنالوجی، پلازما فزکس، اور فیوژن انرجی پر تحقیق ہو رہی ہے۔ ایک اور ادارے، نیشنل سنٹر فار فزکس، میں بھی پلازما طبیعیات، فلکیاتی پلازما، اور فیوژن توانائی جیسے موضوعات پر تحقیق کی جاتی ہے۔


اس میدان کے نمایاں پاکستانی سائنسدانوں میں ڈاکٹر عبدالسلام کا نام بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جنہوں نے پاکستان میں تھیوریٹیکل فزکس کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح ڈاکٹر غلام مرتضیٰ پلازما فزکس اور Controlled Nuclear Fusion کے اہم پاکستانی سائنسدان سمجھے جاتے ہیں۔


لیکن اب یہ دونوں اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ وہ اپنا علمی کام کر کے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ شاید یہ بھی ایک قومی المیہ ہے کہ ہم اپنے اُن عظیم سائنسدانوں کی قدر نہ کر سکے جو ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جا سکتے تھے۔


ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے عظیم نظریاتی طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے کمزور نیوکلیائی قوت اور برقناطیسی قوت کو ایک ہی نظریاتی فریم ورک میں سمجھانے کے کام پر 1979 میں نوبیل انعام برائے طبیعیات حاصل کیا۔ یہ پاکستان کے لیے ایک عالمی اعزاز تھا، مگر افسوس، عالمی عزت و احترام کے باوجود اپنے ہی ملک میں انہیں وہ قومی مقام اور احترام نہ دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی سائنسی خدمات کے باوجود مذہبی اور سماجی تنازعات نے ان کی شخصیت کو متنازع بنا دیا۔


ڈاکٹر غلام مرتضیٰ پاکستان کے ممتاز پلازما فزکس اور کنٹرولڈ فیوژن کے سائنسدان تھے۔ انہوں نے پلازما، فیوژن توانائی، اور مقناطیسی قید جیسے موضوعات پر بین الاقوامی سائنسی جرائد میں تحقیقی مقالے شائع کیے، جن میں Physics of Plasmas، Plasma Physics، اور Laser and Particle Beams جیسے جرائد شامل ہیں۔ ان کا کام اس علمی بنیاد سے جڑا تھا کہ سورج اور ستاروں کی توانائی کو سمجھ کر مستقبل کی توانائی کے نظام کیسے بنائے جا سکتے ہیں۔ آپ نے نوجوان پاکستانی سائنسدانوں کی تربیت، تحقیقی جرائد، اور فزکس کی تعلیم و تحقیق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


لیکن ان کا نام بھی عوامی سطح پر کبھی اُس طرح سامنے نہیں آ سکا، جس طرح دنیا اپنے سائنسدانوں کو قومی ہیرو بناتی ہے۔ پاکستان میں اکثر سائنس، تحقیق، اور بنیادی فزکس پر کام کرنے والوں کو وہ توجہ اور احترام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔


میں نے جب سے پاکستان میں IPP کے کردار، بجلی کے نظام، اور مہنگے بجلی کے بلوں پر تحقیق اور لکھنا شروع کیا، تو چند ہی مہینوں میں مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ ہم جس انداز سے بجلی پیدا کر رہے ہیں اور استعمال کر رہے ہیں، یہ سب قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ ایسا کرنے سے ہم قدرت اور فطرت دونوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں، اور اسی وجہ سے ہمارا ملک شدید توانائی کے بحران کا شکار بھی ہے۔


مگر مجھے اُس وقت وہ موزوں الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ میں اس موضوع پر تفصیل سے اپنے خیالات آپ لوگوں سے شیئر کر سکوں۔ لیکن یہ خیال مسلسل میرے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔


اسی دوران، جب میں نے پاکستان میں بجلی کی ٹرانسمیشن اور لائن لاسز پر اپنی قسط لکھنا شروع کی، تو مجھے دو چار مرتبہ نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla) (1856ء ۔ 1943ء) کو پڑھنے کا موقع ملا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ ٹیسلا وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پر انقلابی کام کیا اور بجلی کو بجلی گھروں سے دور دراز شہروں تک پہنچانے کا عملی نظام دنیا کو دیا۔


پھر میں نے ٹیسلا کو مزید تفصیل سے پڑھا اور اُن کے خیالات اور انسانیت کے لیے اُس کے وژن کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں دیر تک یہ سوچتا رہا کہ دنیا میں کیسے کیسے لوگ آئے، جنہوں نے اپنے وقت سے بہت آگے کی باتیں سوچیں۔


میرا دل چاہتا ہے کہ نکولا ٹیسلا کے بارے میں جو کچھ میں نے پڑھا، وہ آپ لوگوں سے بھی شیئر کروں، کیونکہ یہ صرف سائنسی معلومات نہیں بلکہ ایک ایسی فکری دنیا ہے جو انسان کو اس کے زیرِ استعمال توانائی، قدرت، اور انسانی ترقی کے توازن پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔


ہمارے ہاں توانائی کی قیمتوں کا بوجھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہا ہے۔ ٹیسلا کا نظریہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم ایسے مقامی اور خود مختار ذرائع (جیسے سولر یا ہوا یا پانی) کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جو عوام کو مہنگے سینٹرل گرڈ اور بھاری بھرکم معاہدوں سے آزاد کر سکیں؟


میں اس قسط میں صرف Nikola Tesla کے اُن خیالات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے توانائی کو صرف بجلی کے تاروں، میٹروں، اور بلوں تک محدود نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانیت، قوموں کی آزادی، اور مستقبل سے جوڑا۔


ٹیسلا کا اصل کمال بجلی بنانا نہیں تھا، بلکہ بجلی کو محفوظ کرنا اور اسے ضائع کیے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا تھا۔ اگر Alternating Current یعنی AC System وہ ایجاد نہ کرتے، تو شاید آج دنیا کے بڑے شہر، صنعتیں، اور جدید تہذیب اس شکل میں کبھی قائم نہ ہو پاتی۔ وہ بجلی گھروں سے بجلی کو باہر صارف تک پہنچانے کی سائنس کے بانی تھے۔


وہ چاہتے تھے کہ توانائی ہوا کی طرح ہر انسان کے لیے مفت دستیاب ہو تاکہ کوئی کسی کا محتاج نہ رہے۔ ٹیسلا صرف ایک موجد نہیں تھے، وہ کائنات کی توانائی کو سمجھنے والے ایک صوفی منش انرجی سائنسدان تھے۔


دنیا کو سولر توانائی کا راستہ بھی نکولا ٹیسلا نے ہی دیا، اور یہ اُن کی اعلیٰ سائنسی خدمات کا اعتراف ہے کہ Elon Musk نے اپنی الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنی Tesla کا نام اُن کے نام پر رکھ کر اُس عظیم سائنسدان کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس نے ایک صدی پہلے ہی ایسے مستقبل کا تصور پیش کر دیا تھا جہاں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، سولر توانائی، وائرلیس کمیونیکیشن، اور AI پر مبنی ذہین مشینیں انسانی زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔


نکولا ٹیسلا نے اپنے ایک سائنسی مقالے “The Problem of Increasing Human Energy” میں یہ واضح کیا تھا کہ قوموں کی ترقی محض زیادہ بجلی بنانے سے نہیں بلکہ توانائی کو سمجھنے، محفوظ کرنے، اور مؤثر طریقے سے منتقل کرنے سے وابستہ ہے۔ (جیسا کہ ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے بغیر سوچے سمجھے ایک سو سے زائد آئی پی پیز بنا لیے)


اُن کے تین بنیادی اصول تھے:

قدرتی توانائی کے ذرائع کا استعمال

ترسیل میں نقصان کم کرنا

انسانی علم اور سائنسی شعور میں اضافہ


حیرت انگیز طور پر پاکستان کا موجودہ بجلی بحران بھی انہی تین نکات کے گرد گھومتا ہے۔ ہمارے پاس وسائل موجود ہیں، مگر Transmission نظام کمزور ہے، منصوبہ بندی ناقص ہے، اور سائنسی تحقیق کو سیاسی فیصلوں پر ترجیح نہیں دی جاتی۔


میرے نزدیک

‏“The Problem of Increasing Human Energy” محض ایک شاہکار سائنسی مقالہ نہیں بلکہ انسانیت کے نام ایک منشور (Manifesto) ہے۔ یہ مقالہ جون 1900 میں The Century Magazine میں شائع ہوا تھا اور آج بھی پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیسلا نہ صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قائل نہیں تھے، بلکہ وہ توانائی کو قدرتی طریقوں سے حاصل کرنے کے حامی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کائنات توانائی سے بھری ہوئی ہے (جسے وہ ‘ایتھر’ یا کائناتی لہریں کہتے تھے)۔


اپنی ایک اور تحریر “Our Future Motive Power” میں ٹیسلا کا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ اگر ہم ایندھن جلا کر توانائی حاصل کرتے ہیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم زمین کے سینے سے وہ ذخائر نکال کر جلا رہے ہیں جو لاکھوں سال میں بنے، صرف اس لیے کہ ہم قدرتی ذرائع یعنی سورج، ہوا اور پانی سے ضرورت کے مطابق بجلی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ٹیسلا کے نزدیک حقیقی ترقی وہ ہے جہاں ہم قدرت کو نقصان پہنچائے بغیر اس کی لہروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔

وہ خبردار کرتے تھے کہ اگر انسان نے ایندھن کے بے دریغ استعمال کو نہ روکا، تو ایک دن دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہو جائے گی۔ اُن کا ماننا تھا کہ اسے صرف جلا دینا مستقبل کی نسلوں کے حق کو ضائع کرن
ا ہے۔

کائنات کا نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ پائیدار ترقی صرف وہی ہے جو خودکار (Autonomous) ہو اور جس میں عام آدمی پر بوجھ نہ ہو۔


ان کے نزدیک زمین کے سینے کو چیر کر کوئلہ نکالنا یا تیل جلانا ایک وحشیانہ طریقہ تھا، جبکہ ہم ایک ایسے سمندر میں رہ رہے ہیں جو خود توانائی ہے۔ ان کے اپنے یہ الفاظ ہیں۔


‏If we use fuel to get our power, we are living on our capital and exhausting it rapidly. This method is barbarous and wantonly wasteful, and will have to be stopped in the interest of coming generations.


(یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی توانائی حاصل کرنے کے لیے ایندھن کو جلاتے رہیں، تو ہم دراصل اپنے سرمائے کو خرچ کر رہے ہیں اور تیزی سے اسے ختم کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ وحشیانہ اور بے حد فضول ہے، اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں اسے ایک دن روکنا ہی پڑے گا۔)


اگرچہ اس وقت ‘کلائمیٹ چینج’ کی اصطلاح عام نہیں تھی، لیکن ٹیسلا یہ بھانپ چکے تھے کہ زمین کے قدرتی ایندھن پر انحصار نہ صرف معاشی طور پر مہنگا پڑے گا بلکہ یہ کرۂ ارض کے قدرتی توازن کو بھی بگاڑ دے گا۔


وہ ایک ایسے “ورلڈ وائرلیس سسٹم” (World Wireless System) پر کام کر رہے تھے، جس کے ذریعے زمین کی اپنی برقی مقناطیسی توانائی کو استعمال کر کے پوری دنیا کو مفت اور لا محدود بجلی فراہم کی جا سکے۔ ان کا خواب تھا کہ انسانیت ایندھن کے دھوئیں سے نکل کر فطرت کی لہروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔


ٹیسلا کا سب سے بڑا منصوبہ “وارڈن کلف ٹاور” (Wardenclyffe Tower) تھا، جس کا مقصد پوری دنیا کو بغیر تاروں کے بجلی فراہم کرنا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہم زمین کی لہروں (Resonance) کو استعمال کریں، تو ہمیں ان اربوں ڈالر کی تاروں اور گرڈ اسٹیشنز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔


آج جب دنیا تجدیدی توانائی یا Renewable Energy


(یعنی وہ توانائی جو قدرتی طور پر دوبارہ پیدا ہوتی رہے، جیسے سورج، ہوا، پانی، بایو ماس وغیرہ) کی طرف راغب ہو رہی ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سو سال بعد وہیں پہنچ رہے ہیں جہاں ٹیسلا ہمیں کھڑا دیکھنا چاہتے تھے۔


نکولا ٹیسلا کا کہنا تھا کہ جس دن سائنس غیر مادی مظاہر (Non-physical phenomena) کا مطالعہ شروع کرے گی، وہ ایک دہائی میں اتنی ترقی کرے گی جتنی اس نے پچھلی تمام صدیوں میں نہیں کی۔


ٹیسلا کا اشارہ دراصل ان قوتوں کی طرف تھا جنہیں ہم چھو نہیں سکتے لیکن وہ پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں، جیسے فریکوئنسی (Frequency)، وائبریشن (Vibration)، اور انرجی فیلڈز۔ ان کا ماننا تھا کہ ہم صرف مادی چیزوں (تاروں، مشینوں، کوئلے) میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ اصل توانائی (بجلی) ان لہروں میں ہے جو کائنات میں ہر وقت موجود ہیں۔


میں نے اپنی تحریروں میں بارہا “Capacity Payments” کا ذکر کیا ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی طور پر اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ہم بجلی کو دوسری Commodities کی طرح بڑے پیمانے پر آسانی سے Store نہیں کر سکتے۔


ٹیسلا کا وژن یہ تھا کہ مستقبل میں توانائی کو محفوظ (Storage) کیا جا سکے تاکہ انسان صرف پیداوار پر نہیں بلکہ توانائی کے کنٹرول پر قادر ہو۔ آج Tesla کے Powerwall جیسے سسٹمز اسی فلسفے کو گھر گھر پہنچا رہے ہیں، جہاں لوگ Solar توانائی خود پیدا کرتے ہیں، اسے Store کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ مرکزی Grid پر انحصار کم کر دیتے ہیں۔


گویا ٹیسلا ایک صدی پہلے جس تصور کی بات کر رہے تھے، دنیا آج اُسی سمت میں بڑھ رہی ہے۔


آج نکولا ٹیسلا کے مختلف مقالہ جات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف بجلی کی کمی نہیں، بلکہ توانائی کو سمجھنے کی غلط سوچ بھی ہے۔ کاش ہمارا کوئی سائنسدان، کوئی پالیسی ساز، یا کوئی قومی ادارہ وقت پر یہ سمجھ لیتا کہ توانائی صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ ہے۔


ہم نے پورا نظام صرف مہنگے پاور پلانٹس، Capacity Payments، اور اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری کے گرد کھڑا کر دیا، مگر یہ بھول گئے کہ بجلی کا اصل حسن اُس کی متوازن ترسیل، مؤثر استعمال، اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔


ٹیسلا بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ توانائی کا مستقبل صرف زیادہ پیداوار میں نہیں بلکہ Intelligent Transmission، کم سے کم ضیاع، اور انسان و قدرت کے درمیان توازن میں پوشیدہ ہے۔ مگر ہم نے بجلی کو صرف ایک بل اور میگاواٹ تک محدود کر دیا ہے۔


ٹیسلا نے اپنے سینکڑوں پیٹنٹس صرف اس لیے چھوڑ دیے تاکہ انسانیت کو سستی اور قابلِ رسائی بجلی مل سکے۔ وہ اگر چاہتے تو تھامس ایڈیسن کی طرح اُن ایجادات سے بے بہا دولت کما سکتے تھے، مگر اُن کی سوچ صرف کاروبار نہیں بلکہ انسانیت تھی۔


ایڈیسن ایک غیر معمولی موجد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط Business Mind بھی رکھتے تھے، جبکہ نکولا ٹیسلا اپنی زندگی کے آخری دنوں تک مستقبل، توانائی، اور انسانیت کے خوابوں میں کھوئے رہے۔


یہ انسانی تاریخ کا ایک عجیب تضاد ہے کہ جس شخص نے دنیا کو روشنی، AC Current، Motors، Wireless تصورات، اور جدید توانائی کے خواب دیے، وہ اپنی آخری عمر میں افلاس کا شکار ہو چکے تھے اور تقریباً Penniless تھے۔


1943 میں جب نیویارک کے مشہور New Yorker Hotel کے ایک کمرے میں اُن کا انتقال ہوا، تو اُس دن صرف ایک سائنسدان نہیں بلکہ مستقبل کو وقت سے پہلے دیکھنے والا ایک عظیم انسان دنیا سے رخصت ہو گیا، جس کی نظر مادی دنیا سے کہیں آگے، کائنات کی فریکوئنسی اور توانائی کے چھپے ہوئے اسرار پر تھی۔


ان کی موت تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔


ٹیسلا کی موت کے فوری بعد، امریکی حکومت کے “آفس آف ایلین پراپرٹی” نے ان کے تمام سامان، دستاویزات، اور ٹرنکوں کو قبضے میں لے لیا تھا۔ اگرچہ ٹیسلا امریکی شہری تھے، لیکن ان کی ایجادات کی حساسیت (خاص طور پر ‘ڈیتھ رے’ جیسے تصورات) کی وجہ سے حکومت نے انہیں قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھا۔


ٹیسلا کا سب سے بڑا خواب پوری دنیا کو مفت اور وائرلیس بجلی فراہم کرنا تھا۔ ان کا تصور یہ تھا کہ زمین کے کرۂ ہوائی (Ionosphere) کو استعمال کرتے ہوئے توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر تاروں کے منتقل کیا جائے۔ ان کے نوٹس میں موجود “میگنیفائینگ ٹرانسمیٹر” کے خاکے آج بھی سائنسدانوں کو حیران کرتے ہیں۔


ٹیسلا نے اپنے آخری ایام میں ایک ایسی شعاع (Beam) کا ذکر کیا تھا جو سینکڑوں میل دور سے دشمن کے جہازوں کو گرا سکتی تھی۔ انہوں نے اسے امن کا ہتھیار کہا تھا کیونکہ ان کے خیال میں اگر ہر ملک کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہوتی تو جنگ کا تصور ہی ختم ہو جاتا۔ ان کے کمرے سے ملنے والے کئی خاکے اسی قسم کی ذراتی شعاعوں (Particle Beam) سے متعلق تھے، جنہیں


ڈیتھ رے (Death Ray) کہا گیا۔


ٹیسلا کا نظریہ تھا کہ کائنات توانائی (Radiant Energy) سے بھری ہوئی ہے اور ہمیں اسے حاصل کرنے کے لیے صرف صحیح “ٹیوننگ” کی ضرورت ہے۔ ان کے نوٹس میں ایسے آلات کا ذکر تھا جو ماحول سے بجلی کشید کر سکتے تھے۔ یہ وہ تصور تھا جو آج کے “فری انرجی” کے نظریات کی بنیاد بنا۔


کہا جاتا ہے کہ ٹیسلا کی دستاویزات کا ایک بڑا حصہ بعد میں ان کے بھتیجے ساوو کوسونووچ (Sava Kosanović) کے حوالے کر دیا گیا، جو اب بلغراد میں “نیکولا ٹیسلا میوزیم” میں محفوظ ہیں۔ لیکن محققین کا دعویٰ ہے کہ کئی اہم فائلیں اب بھی امریکی خفیہ اداروں کے پاس ہیں یا ہمیشہ کے لیے ضائع ہو چکی ہیں۔


آج ہم جس وائرلیس دنیا (Wi-Fi، اسمارٹ فونز، ریموٹ کنٹرول) میں جی رہے ہیں، وہ دراصل ٹیسلا کے اسی ہوٹل کے کمرے میں بکھرے ہوئے خاکوں کی تعبیر ہے۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے انسانیت کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنی پوری زندگی، اور یہاں تک کہ اپنی موت کو بھی، ایک معمہ بنا دیا۔


(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
15
0

مزید مضامین

Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں...

(اردو)
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات1-...

(اردو)
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے م...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟ 🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)
Image

▫️بالٹی بھاری ہے۔۔۔ 85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُ...

(اردو)