Home
Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں ہیں، لیکن عوام کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی نہیں ہے۔

میری اب تک کی تحقیق کے مطابق پاکستان کا موجودہ بجلی کا بحران، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے۔ یعنی یہ بحران پیداواری صلاحیت (Capacity) کا نہیں بلکہ ٹرانسمیشن (Transmission)، ڈسٹری بیوشن (Distribution)، لائن لاسز، بجلی چوری، اور نااہل و کرپٹ انتظامیہ کی وجہ سے ہے۔
ہمارے ملک میں نئے پاور پلانٹس لگانا مسئلے کا مکمل حل کبھی بھی نہیں تھا، اور نہ ہے۔ جب تک ہم اپنا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا نظام جدید اور مضبوط نہیں بنائیں گے، تب تک مہنگی بجلی، لائن لاسز، گردشی قرضے، کیپیسٹی چارجز، اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل ختم نہیں ہو سکیں گے۔
اگر ٹرانسمیشن لائنوں پر سرمایہ کاری کی جاتی، تو آج ہمیں ان IPPs کو اربوں روپے کی “کیپیسٹی پیمنٹس” نہ دینی پڑتیں، جو بجلی تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن ٹرانسمیشن سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے ہم ان سے بجلی لے نہیں پا رہے۔

جو محکمہ NTDC یعنی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی، جسے اب NGC (نیشنل گرڈ کمپنی) کے نام سے جانا جاتا ہے، اس غفلت کا مرتکب تھا اور جس کے سربراہ کو شدید تنقید کا سامنا رہا، اب اسی محکمے کا نام بدل کر اسے تین محکموں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی ایک محکمے یا فرد کو مکمل طور پر اس کی غفلت کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جا سکے۔ یہ ملک جس بے ہنگم طریقے سے چل رہا ہے، یہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 25
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: بجلی کی غلط تشخیص

🔺جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

آپ نے اکثر سنا ہوگا: مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
پاکستان میں عوام کو بجلی کی فراہمی کے معاملے میں بھی کچھ یہی ہوا۔ جتنے بجلی کے پاور پلانٹس لگتے چلے گئے، بجلی لوگوں کے لیے اتنی ہی مہنگی اور نایاب ہوتی چلی گئی، اور بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے اتنا ہی گہرا ہوتا چلا گیا۔
جس طرح غلط علاج مرض کم کرنے کے بجائے مریض کی بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے، پاکستان میں بھی بجلی کے بحران میں یہی ہوا۔ جتنے نجی پاور پلانٹس کی تعداد بڑھتی گئی، تقریباً اسی رفتار سے ہمارے ملک میں بجلی کا بحران بھی شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا، اور بجلی مہنگی اور کمیاب ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے دور ہوتی چلی گئی۔
اس کی ایک بڑی وجہ مرض کی غلط تشخیص تھی۔ میری آج تک کی تحقیق کے مطابق ہمارے ملک میں اصل مسئلہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی ترسیل (Transmission)، تقسیم (Distribution)، لائن لاسز (Line Losses)، بجلی چوری (Electricity Theft)، ذاتی مفادات (Personal Interests)، اور ناقص پالیسی (Policy Failure) تھی، مگر علاج ہمیشہ پیداوار بڑھانے کی صورت میں کیا جاتا رہا۔
یعنی بجلی بنانے والے پلانٹس تو بڑھتے گئے، مگر اس طریقے کو مضبوط نہ بنایا جا سکا جو اس بجلی کو مؤثر طریقے سے صارف (End User) تک پہنچا سکے۔
ہمارا ملک پچھلی کئی دہائیوں سے بارہ سے پندرہ ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرتا آیا ہے۔ اگر صرف اسی بجلی کو مؤثر طریقے سے آگے پہنچانے کا نظام مضبوط کر دیا جاتا، اور محکمے کے کرپٹ افسران کی مدد سے چوری ہونے والی بجلی کو کنٹرول کر لیا جاتا، تو اس ملک میں کبھی بجلی کا بحران پیدا نہیں ہو سکتا تھا، اور نہ ہی ہمیں آئی پی پیز (نجی پاور پلانٹس) لگانے کی ضرورت پیش آتی۔
میں اب بھی یقین سے کہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ دو سے چار پاور پلانٹس بھی حکومتی سطح پر لگا لیے جاتے، تو ان سے پیدا ہونے والی بجلی ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہو جاتی، لیکن اپنی کمیشنوں، ذاتی مفادات، غلط ترجیحات، اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہماری قیادت اور سول انتظامیہ نے پوری قوم کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کا خمیازہ آج ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے۔

جیسے غلط علاج ایک مریض کو آخرکار موت کے قریب لے جاتا ہے، ویسے ہی غلط پالیسیوں نے پاکستان کے بجلی کے نظام کو بھی ایک مسلسل، نہ ختم ہونے والے بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کا انجام آج مہنگی بجلی، گردشی قرضوں، صنعتوں کی تباہی، عوامی بے چینی، اور معاشی کمزوری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ہم جتنی بجلی پیدا کر رہے تھے، وہ ہمارے ملک کی ضروریات کے مطابق نہ صرف پوری تھی بلکہ بعض حوالوں سے اگر یہ کہوں کہ ضرورت سے زیادہ ہی تھی، تو ہرگز غلط نہیں ہو گا۔
پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟ مسئلہ دو بڑی وجوہات سے پیدا ہوا:

1۔ پہلی وجہ بجلی کی ٹرانسمیشن (Transmission) اور ڈسٹری بیوشن (Distribution) کا کمزور نظام تھا، جہاں پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ ناقص ترسیلی نظام، بوسیدہ لائنوں، تکنیکی خرابیوں، اور لائن لاسز کی وجہ سے راستے ہی میں ضائع ہو جاتا تھا۔

2۔ دوسری بڑی وجہ بجلی چوری تھی، جو صرف بڑے بڑے صنعتی یونٹس اور کارخانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ محلہ محلہ، گلی گلی یہ تماشہ جاری تھا، جہاں متعلقہ عملے سے مل کر عام لوگ اپنی گھریلو ضروریات، دکانوں، کمرشل استعمال، اور دیگر بجلی کی ضروریات غیر قانونی طریقوں سے پوری کرتے تھے۔

یعنی مسئلہ بجلی بننے کا نہیں بلکہ بجلی کو شہروں، گھروں، کارخانوں، اور کھیت کھلیان تک پہنچانا تھا۔ کمزور ٹرانسمیشن سسٹم اور بجلی چوری نے پورے نظام کو کھوکھلا کر دیا، مگر علاج ہمیشہ نئے پاور پلانٹس لگانے کی صورت میں کیا جاتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ملک میں اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہونے کے باوجود عوام مہنگی بجلی، کیپیسٹی چارجز، اور گردشی قرضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ بجلی کے موجودہ بحران اور آئی پی پیز پر اپنی خصوصی رپورٹ کو تیار کرتے ہوئے میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں، وہ یہ ہے کہ:

1۔ پاکستان میں ہر حکومت نے “شارٹ کٹ” کے طور پر نئے پاور پلانٹس (IPPs) لگانے پر توجہ دی کیونکہ اس کے فوائد فوری نظر آتے تھے۔ لیکن اصل بیماری یعنی ٹرانسمیشن لائنز، گرڈ سسٹم، اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔

2۔ جب بجلی پرانی تاروں، کمزور گرڈ سسٹمز، بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنز، اور ناقص ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک سے گزرتی ہے تو اس کا ایک بڑا حصہ حرارت کی شکل میں ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ نقصانات (Transmission & Distribution Losses) دنیا کے بیشتر ممالک کی اوسط سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری بحران کی ایک بڑی وجہ NTDC یعنی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی،

جسے اب نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (NGC) کہا جاتا ہے، کی منصوبہ بندیوں میں سنگین کوتاہیاں ہیں۔ اس کی ذمہ داریوں میں 220 کے وی اور 500 کے وی بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں اور گرڈ اسٹیشنز کا قیام و انتظام ہے۔ یہ بجلی گھروں سے بجلی مختلف شہروں اور لوڈ سینٹرز تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔

اسلام آباد کے تھنک ٹینک PIDE کی رپورٹ کے مطابق، ایک باقاعدہ منظور شدہ “ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلان” کی عدم موجودگی اور بجلی کی طلب کے غلط تخمینوں (Demand Forecasting) کی وجہ سے گرڈ کا ڈھانچہ جدید تقاضوں کے مطابق تیار نہیں ہو سکا۔ تکنیکی طور پر، کئی بجلی گھروں کے لیے بروقت “انٹر کنکشن” نہ بن پانے کی وجہ سے نظام میں ایسی رکاوٹیں (Bottlenecks) پیدا ہوئیں کہ سستے اور فعال پلانٹس سے پوری بجلی حاصل نہ کی جا سکی۔ اس ترسیلی کمزوری (Transmission Inadequacy) کا سارا بوجھ “کیپیسٹی پیمنٹس” کی صورت میں عام صارف کو اٹھانا پڑ رہا ہے، کیونکہ پلانٹ تیار ہونے کے باوجود گرڈ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے رہتے ہیں۔

این ٹی ڈی سی (NTDC) پر کارکردگی کے حوالے سے تنقید بڑھی، تو ہمارے موجودہ وزیرِ پاور و توانائی نے اس محکمے کا نام بدل کر اسے تین مختلف اداروں میں تقسیم کر دیا۔ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (NGC) اب ٹرانسمیشن لائنوں اور گرڈ اسٹیشنوں کے انفراسٹرکچر کو سنبھالے گی، اور یہ NTDC کا نیا نام ہے۔ نیشنل الیکٹرک مارکیٹ آپریٹر اینڈ ایڈمنسٹریٹر (NEMA) بجلی کی مارکیٹ اور مالیاتی معاملات دیکھے گی، جبکہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) بجلی کی ترسیل، سسٹم آپریشن اور لوڈ ڈسپیچ کو میرٹ اور تکنیکی بنیادوں پر مانیٹر کرے گی۔ بقول وزیرِ موصوف، اس تبدیلی کا مقصد ایک ہی ادارے کی اجارہ داری ختم کرنا اور پاکستان کے کمزور ٹرانسمیشن و ڈسپیچ نظام کو بہتر بنانا ہے۔

اگر بغور مطالعہ کیا جاۓ تو معلوم ہو گا کہ ہمارے ہاں اصل ضرورت ٹرانسمیشن لائنوں، گرڈ اسٹیشنوں، سمارٹ ڈسٹری بیوشن، اور بجلی چوری روکنے کے نظام کو بہتر بنانے کی تھی، مگر اس کے برعکس توجہ بار بار نئے پاور پلانٹس لگانے پر دی گئی۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بڑے پاور پلانٹس، اربوں ڈالر کے معاہدے، درآمدی ایندھن، غیر ملکی financing، capacity payments، اور طویل مدت کے contracts ایسے معاملات تھے جہاں کمیشن، سیاسی مفادات، طاقتور لابیز، ذاتی فائدوں، اور غیر ملکی دوروں کی گنجائش زیادہ موجود تھی۔ اس کے مقابلے میں اگر حکومت ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری، گرڈ modernization، یا لائن لاسز کم کرنے پر سرمایہ کاری کرتی، تو وہ نسبتاً کم glamorous، کم سیاسی، اور کم پیسوں والا کام سمجھا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے بجلی بنانے پر تو اربوں ڈالر لگا دیے، مگر بجلی پہنچانے کے نظام کو نظر انداز کر دیا۔
لیکن یہ احساس مجھے بار بار ضرور ہوتا ہے کہ اگر ہماری حکومت نے پچھلے 20 سالوں میں آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس کا صرف 5 فیصد حصہ بھی ٹرانسمیشن سسٹم، سمارٹ گرڈ، جدید گرڈ اسٹیشنوں، اور لائن لاسز کم کرنے پر لگا دیا ہوتا، تو آج ہم اپنی تمام حماقتوں، غلط منصوبہ بندیوں، اور انتظامی ناکامیوں کے باوجود بھی بجلی کے اس بحران کا شکار نہ ہوتے جس نے پورے ملک کی معیشت، صنعت، اور عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
جاری ہے ۔۔ باقی آئندہ قسط میں

0
Views
15
3

مزید مضامین

Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، ...

(اردو)
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات1-...

(اردو)
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے م...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟ 🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)
Image

▫️بالٹی بھاری ہے۔۔۔ 85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُ...

(اردو)