Home
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے متنازعہ پاور پالیسی جاری کی گئی۔

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 23
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی غلام مصطفیٰ کھر کا آئی پی پیز میں کردار

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

پاکستان میں Independent Power Producers (IPPs) کی بنیاد 1994 کی پاور پالیسی کے تحت رکھی گئی، جو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں متعارف ہوئی، اور اسے اس وقت کے وزیرِ پانی و بجلی غلام مصطفیٰ کھر نے سرکاری پالیسی کے طور پر نافذ کیا۔ دستیاب وزارتی ریکارڈ کے مطابق وہ 26 جنوری 1994 سے 5 نومبر 1996 تک اس منصب پر فائز رہے۔
انہی کے دور میں 1994 میں اسی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لیے یہ مراعات پیش کی گئیں، اور حکومتِ پاکستان کی سوورین گارنٹی (Sovereign Guarantee) کے عوض ریاست نے طویل مدت کے لیے آئی پی پیز کی مالی ذمہ داریاں اپنے ذمے لیں۔ (سوورین گارنٹی ایسی سرکاری ضمانت ہوتی ہے جس میں ریاست خود کسی مالی ذمہ داری یا قرض کی ادائیگی کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے، اگر اصل فریق ادائیگی نہ کر سکے تو حکومت اسے پورا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔)

یہ مراعات درج ذیل ہیں:
1. کپیسٹی پیمنٹس capacity based payments
2. ڈالر انڈیکس ایشن
3. گارنٹیڈ ریٹرنز
4. حکومتِ پاکستان کی سوورین گارنٹی

چنانچہ اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے IPP نظام کی بنیاد اور پاکستان کی پہلی پاور پالیسی بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت کے وزیر غلام مصطفیٰ کھر نے متعارف کروائی، جس کے تحت 70 سے زائد مفاہمتی یادداشتیں (MOUs) آزاد بجلی پیدا کنندگان (IPPs) کو جاری کی گئیں۔
غلام مصطفیٰ کھر نے بحیثیت وزیرِ آب و توانائی جو پالیسی نافذ کی، اسے بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ہر دور میں اسے مزید وسعت بھی دی گئی۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ 1994 پاور پالیسی کے نفاذ میں سرکاری افسران کے درمیان IPP معاملات پر غیر معمولی رازداری برتی جاتی تھی، یہاں تک کہ ٹیرف کا حساب لگانے کا طریقہ کار بھی کبھی عوامی جانچ کے لیے پیش نہیں کیا گیا، اور WAPDA نے اپنا ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کیا کیونکہ اسے “حساس” قرار دیا گیا تھا۔
دیکھا جائے تو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں شفافیت کے فقدان اور عوامی آگہی کے عدم توازن (Information Asymmetry) کی بنیاد بھی اسی ابتدائی دور میں رکھی گئی، جب Independent Power Producers ماڈل متعارف ہوا اور معاہدوں کی شقوں اور شرائط کو چند افراد تک محدود رکھا گیا۔
جبکہ دوسری طرف اس پالیسی کو امریکی توانائی سیکریٹری ہیزل او’لیری (Hazel O’Leary) نے “دنیا کی بہترین توانائی پالیسیوں میں ایک” قرار دیا۔
ستمبر 1994 میں ہیزل او’لیری نے پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کیا، جو کسی امریکی وزیر کا پاکستان میں پہلا خالصتاً اقتصادی نوعیت کا دورہ تھا، اس سے پہلے تمام اعلیٰ سطحی دورے فوجی معاملات کے لیے ہوتے تھے۔ ان کے ہمراہ 70 امریکی تاجر تھے، اور دلچسپی اس قدر زیادہ تھی کہ امریکی حکومت کو بڑا طیارہ کرائے پر لینا پڑا۔ اس دورے میں 4 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کے توانائی منصوبوں پر دستخط کیے گئے۔
ہیزل او’لیری، کلنٹن دور میں بطور وزیرِ توانائی متعدد تنازعات کا شکار رہیں۔ Government Accountability Office کے آڈٹ نے ان پر تنقید کی کہ انہوں نے بین الاقوامی دوروں پر بے تحاشہ اخراجات کیے اور رہائش پر ضرورت سے زیادہ رقم صرف کی۔ پاکستان کا یہ وسیع تجارتی وفد بھی انہی متنازع دوروں میں شامل تھا، جن پر بعد میں امریکی کانگریس اور Inspector General نے سوال اٹھائے۔ جس پر انہوں نے 1996 میں کانگریس کی کمیٹیوں سے اس ضمن میں معافی مانگی اور جنوری 1997 میں استعفیٰ دے دیا۔

(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

0
Views
43
4

مزید مضامین

Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، ...

(اردو)
Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں...

(اردو)
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات1-...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟ 🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)
Image

▫️بالٹی بھاری ہے۔۔۔ 85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُ...

(اردو)