Home
Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 16
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
[ ہمارے پاور سسٹم میں لائن لاسز کا سد باب کیسے ممکن ہے؟ ]
🔺جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

🔳 ہمارے ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4,888 میگاواٹ ہے، اور اوسطاً اس سے ہم 16 سے 18 ارب یونٹس بجلی سالانہ حاصل کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف نیپرا کا کہنا ہے کہ ہم ہر سال 18 سے 22 ارب یونٹس لائن لاسز کی مد میں ضائع کر دیتے ہیں۔

دنیا میں 100 یونٹس بجلی میں سے 93 سے 94 یونٹس پاور پلانٹس سے صارف تک پہنچ پاتے ہیں اور صرف 6 سے 7 یونٹس ضائع ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ نقصان بڑھ کر تقریباً 18 فیصد اور بعض علاقوں میں 37 سے 39 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

قارئینِ کرام! اب تک ہم نے آئی پی پیز کے نظام کا وہ پہلو دیکھا جہاں بجلی بنائے بغیر بھی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، مگر اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں بجلی دیے بغیر عوام سے وصولیاں بھی جاری ہیں، اور یہ سب کچھ “لائن لاسز” (Line Losses) کے نام پر کیا جاتا ہے۔

لائن لاسز سے مراد وہ بجلی ہے جو پاور پلانٹس سے نکل کر صارف تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ نیپرا کی اصطلاح میں اسے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز (Transmission & Distribution Losses) یا مختصراً “T&D Losses” کہا جاتا ہے۔

یہ نقصان دو سطحوں پر ہوتا ہے۔

ایک وہ جو سسٹم کی تکنیکی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے پرانی تاریں، کمزور ٹرانسمیشن لائنز، اور لمبے فاصلے پر بجلی کی ترسیل۔

دوسرا وہ جو انتظامی اور معاشرتی مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے بجلی چوری، میٹر میں رد و بدل، اور بلوں کی ناقص وصولی۔

لیکن اس قسط میں میں صرف پہلی سطح یعنی سسٹم کی تکنیکی کمزوریوں، بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنز اور لمبے فاصلوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر بات کروں گا۔

دنیا میں اوسطاً 100 یونٹس بجلی میں سے 93 سے 94 یونٹس پاور پلانٹس سے صارف تک پہنچ جاتے ہیں اور صرف 6 سے 7 یونٹس ضائع ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ نقصان بڑھ کر 18 فیصد اور بعض علاقوں میں37 سے 39 فیصد تک پہنچ چکا ہے، یعنی بجلی پوری بنتی ہے مگر صارف تک پہنچنے سے پہلے ہی بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری بجلی کی تاروں کا نظام یعنی ٹرانسمیشن (Transmission) اور ڈسٹری بیوشن (Distribution) کا پرانا نظام ہے۔

پاکستان کے بجلی کے نظام کا یہ موازنہ ایک تلخ حقیقت ہے، جسے تکنیکی اور انتظامی دونوں زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہی وہ “بلیک ہول” ہے جو پاکستان کی معیشت کو گردشی قرضے (Circular Debt) کی شکل میں نگل رہا ہے۔

گزشتہ دس سالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں لائن لاسز کی مد میں سالانہ 18 سے 22 ارب یونٹس ضائع ہو رہے ہیں، جن کی مالیت 500 سے 650 ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ یہ نقصان اس قدر سنگین ہے کہ تربیلا ڈیم جیسے عظیم منصوبے کی کل سالانہ پیداوار (16 سے 18 ارب یونٹس) بجلی ضائع کرنے کی مقدار سے کم رہ جاتی ہے۔ گویا ہم ہر سال ایک پورے ‘تربیلا ڈیم’ سے زیادہ بجلی اپنی بدانتظامی اور اجتماعی غفلت کی وجہ سے ضائع کرتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کتنوں کو یہ احساسِ زیاں ہے؟

کیا ملا تربیلا سے بجلی پیدا کر کے، اگر اس سے زیادہ بجلی لائن لاسز کی شکل میں ہم نے گنوانی تھی؟

اس حقیقت کو ایک اور مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) کا دائرۂ کار لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ پر مشتمل ہے، اور یہ پانچوں اضلاع کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ اگر گزشتہ تین برس کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ان اضلاع میں بجلی کی اوسط سالانہ فروخت تقریباً 21 ارب یونٹس بنتی ہے۔

اب اگر اس کا موازنہ ملک بھر کے سالانہ لائن لاسز سے کیا جائے، جو تقریباً 18 سے 22 ارب یونٹس کے درمیان رہتے ہیں، تو ایک نہایت تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے۔

ہم ہر سال لائن لاسز کے نام پر تقریباً اتنی بجلی ضائع کر رہے ہیں جتنی لیسکو جیسے ایک پورے ریجن کی سالانہ بجلی کی کھپت کے برابر ہے، یعنی لاہور، قصور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور اوکاڑہ جیسے اضلاع میں گھروں، کارخانوں، بازاروں، پارکوں، سڑکوں اور زرعی ٹیوب ویلوں کو ایک سال تک چلانے کے لیے جتنی بجلی درکار ہوتی ہے، ہم اتنی بجلی محض اپنے ٹرانسمیشن نظام کی کمزوری اور بدانتظامی کی نذر کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں “لائن لاسز” اب محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں رہے، بلکہ یہ ایک ایسے “سسٹمک کور” (Systemic Cover) کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کے ذریعے اداروں کی نااہلی، غفلت اور کرپٹ اہلکاروں کی کرپشن کو عملاً قانونی تحفظ مل گیا ہے۔

جب نیپرا اور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں مشکل میں پڑنے کے بجائے اپنی آسانی کے لیے 15 سے 18 فیصد تک نقصانات کو ٹیرف کا حصہ بناتی ہیں تو وہ درحقیقت یہ تسلیم کر رہی ہوتی ہیں کہ ترسیلی نظام کی اصلاح اب ان کے بس کی بات نہیں رہی۔ اور یہ بنیادی طور پر ایک انجینئرنگ بحران بن گیا ہے، جہاں کم وولٹیج اور بوسیدہ اوورلوڈڈ ٹرانسفارمرز کے باعث بجلی کی خاصی مقدار صارف تک پہنچنے سے پہلے ہی حرارت کی صورت میں ضائع ہو جاتی ہے۔

اور پھر اپنی بدانتظامی اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے “لائن لاسز” (Line Losses) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تکنیکی نقصانات کی آڑ میں اصل چوری اور کرپشن کو ایک قانونی تحفظ فراہم کر دیا جاتا ہے، کیونکہ نقصانات کی ایک مخصوص شرح پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے جس کے پردے میں ہر قسم کی ہیرا پھیری باآسانی “ایڈجسٹ” کر لی جاتی ہے۔

اس طریقہ کار کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جوابدہی کا تصور ختم ہو چکا ہے؛ نہ کسی کی ذمہ داری متعین ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس منظم کرپشن اور انتظامی نااہلی کا سارا مالی بوجھ “لائن لاسز” کے عنوان سے بجلی کے مہنگے بلوں کی صورت میں غریب عوام کی جیبوں سے نکال لیا جاتا ہے۔

حالانکہ بجلی کا نظام ایک کمرشل پراڈکٹ کی طرح ہے؛ جیسے بینک سے نکلا ہوا ایک ایک روپیہ ٹریس ہوتا ہے، ویسے ہی گرڈ سے نکلنے والے ایک ایک یونٹ کا ڈیجیٹل ٹریل ہونا چاہیے۔ جب تک ہم ہر فیڈر پر ‘انرجی اکاؤنٹنگ’ نافذ کر کے گھاٹے کی ذمہ داری متعلقہ ایس ڈی او (SDO) کے پرسنل ریکارڈ (ACR) سے نہیں جوڑیں گے، اور قانوناً ہر گرڈ اور فیڈر کے متعلقہ نگران کو ہر یونٹ کے حساب کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا، یہ بحران حل نہیں ہوگا۔ جب تک “جتنی بجلی دی، اتنی وصول کی” کا اصول نافذ نہیں ہوتا، تب تک اشرافیہ اور بدعنوان عناصر اس لائن لاسز کے ناقص نظام سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور اس کا سارا خمیازہ ملک کے شریف اور ٹیکس گزار شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ٹیکنیکل لائن لاسز کے حوالے سے ایک نیا رجحان “پاور کوالٹی اور ہارمونک ڈسٹورشن” کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ گھروں اور کمرشل سیکٹر میں سولر انورٹرز، انورٹر اے سی اور دیگر نان لائنر لوڈز کے بڑھتے استعمال سے گرڈ میں ہارمونکس پیدا ہو رہے ہیں، جو لائنوں میں اضافی حرارت اور توانائی کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔ مزید یہ کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت reverse flow کے لیے روایتی ڈسٹری بیوشن سسٹم مکمل طور پر تیار نہ ہونے کے باعث بعض علاقوں میں وولٹیج عدم توازن بھی دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے ٹیکنیکل لاسز میں اضافہ ایک ابھرتے ہوئے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے، تاہم اس حوالے سے پاور سیکٹر کی عملی تیاری اور اقدامات ابھی واضح طور پر میرے سامنے نہیں آ سکے۔

یہ تحریر نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla) کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے، جنہوں نے جدید بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی بنیاد رکھی، اور جن کے ‘آلٹرنیٹنگ کرنٹ’ (AC) تصور پر آج پوری دنیا کا پاور گرڈ کھڑا ہے، اور بجلی کو پاور پلانٹس سے گھروں تک پہنچانے کا نظام کام کر رہا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ “میرے نظام میں فاصلہ کوئی فرق نہیں ڈالتا۔ ٹرانسمیشن کی کارکردگی 96 سے 97 فیصد تک ہو سکتی ہے اور عملاً کوئی نقصان نہیں ہوتا۔” ایک اور جگہ انہوں نے لکھا کہ “ایک مرکزی پلانٹ سے لامحدود مقدار میں بجلی تقسیم کرنا ممکن ہے، جس میں نقصان ایک فیصد کے چھوٹے حصے سے بھی کم ہو۔” مگر افسوس کہ آج پاکستان میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز اوسطاً 18 سے 22 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ بعض ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (جیسے PESCO، QESCO اور SEPCO) میں یہ لاسز 37 سے 39 فیصد تک جا پہنچے ہیں۔ دوسری طرف، یورپ میں AmpaCity جیسے جدید منصوبوں میں سپرکنڈکٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے لائن لاسز کو صفر کے قریب لا کر دکھایا جا چکا ہے۔ وہ خواب جو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا، اب حقیقت بن چکا ہے۔

(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

0
Views
6
0

مزید مضامین

Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 15موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

(اردو)
Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 14موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

(اردو)
Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 13 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

(اردو)
Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 12موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلو...

(اردو)
Image

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 11 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

(اردو)