🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 13
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے]
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان
🔳 جون 2025 میں حکومت نے 18 کمرشل بینکوں سے قرضہ لے کر 1.275 ٹریلین روپے (4.5 بلین ڈالر یا 1275 ارب روپے) ادا کر کے آئی پی پیز کے بقایاجات ادا کیے، مگر کیپیسٹی پیمنٹس اور لائن لاسز کی وجہ سے یہ رقم مارچ 2026 کے آخر میں دوبارہ تقریباً 1.9 ٹریلین روپے (یعنی 6.8 بلین ڈالر یا 1900 ارب روپے) تک پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کوئی روایتی قرضہ نہیں بلکہ یہ زیادہ تر اس بجلی کی ادائیگی ہے جو نہ کبھی پیدا ہوئی تھی اور نہ کبھی کسی نے استعمال کی۔
ہر چند ماہ بعد اتنی بڑی رقم کا بار بار جمع ہوتے رہنا ایک سنگین معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی عوام سے یہ رقم کب تک بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کی جاتی رہے گی۔ عوام چونکہ اس کہانی کو قدرے جان چکے ہیں، لہٰذا ہمارے اداروں کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔
پاکستان میں بیشتر نجی بجلی گھروں (IPPs) کا کردار خاصا متنازع رہا ہے۔ عملی طور پر ان کا مالیاتی ماڈل (Financial Structure) کچھ اس طرح تشکیل دیا گیا کہ ان کی اپنی سرمایہ کاری ضوابط سے ہٹ کر کم سے کم رکھی گئی اور زیادہ تر فنڈنگ مقامی بینکوں کی بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے حاصل کی گئی۔ اس کے نتیجے میں کاروبار کی غیر یقینی صورتحال (Business Risk) نجی سرمایہ کار کمپنی کے بجائے عوام اور ریاست کے حصے میں آیا جبکہ سارا منافع نجی کمپنیوں تک محدود رہا۔
16 آئی پی پیز نے تقریباً 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے ایک سال میں 415 ارب روپے سے زائد منافع کمایا۔ (جبکہ 51.80 ارب روپے کی رقم میں سے بھی بیشتر فرضی ہے۔)
آئی پی پیز کا معاملہ اب بجلی کے بھاری بلوں تک محدود نہیں رہا، اب یہ ملک کی معاشی خود مختاری اور قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔
جب حکومتِ پاکستان نے جون 2025 میں آئی ایم ایف (IMF) کے مطالبے پر 18 مقامی کمرشل بینکوں کے ساتھ تقریباً 1.275 ٹریلین روپے یعنی قریب 4.5 ارب ڈالر کی اسلامی فنانسنگ کے term sheets سائن کیے تاکہ پاور سیکٹر کے circular debt کو کم کیا جا سکے اور پاور پروڈیوسرز کے بقایاجات کی ادائیگی کی جا سکے
تو اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ آئی ایم ایف (IMF) نے نئے قرضہ دینے کے لیے یہ شرط کیوں عائد کی ہے کہ پہلے پاکستانی ریاست اپنے آئی پی پیز کی بقایا رقوم انہیں ادا کرے۔ ان کا حساب صاف ہونے پر ہی IMF نیا قرضہ جاری کرے گا۔
میں نے اس معاملے پر کافی غور کیا ہے کہ آئی ایم ایف (IMF) کو اس بات سے کیا غرض کہ وہ نئے قرضے کے لیے آئی پی پیز (IPPs) کے بقایاجات کی واپسی کو شرط بنائے۔ اگر آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کی بہتری میں اتنا ہی سنجیدہ ہے، تو وہ نجی شعبے کے اُن براہِ راست پھنسے ہوئے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا جن میں سیلز ٹیکس ریفنڈز، ایکسپورٹ ریفنڈز اور مختلف سپورٹ اسکیموں کے واجبات نمایاں ہیں؟ کاروباری طبقہ ان کی ادائیگی کے لیے برسوں سے منتظر ہے۔ بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) بارہا اپنے رکے ہوئے بڑے ریفنڈز اور واجبات کی نشاندہی کر چکی ہے۔
لیکن IMF کا صرف ہمارے آئی پی پیز پر اتنے مہربان ہونے کی وجہ کیا ہے؟
پھر ایک دن، جب میں ونڈ پاور آئی پی پیز (Wind Power IPPs) کے حوالے سے ایک نجی پاور گروپ کے “پروجیکٹ فنانسنگ اسٹرکچر” کا مطالعہ کر رہا تھا، تو میرے پیشِ نظر یہ چار بنیادی سوالات تھے:
▫
️ قرض کہاں سے لیا گیا؟
▫
️ کتنی ایکویٹی (Equity) لگائی گئی؟
▫
️ کون سے بین الاقوامی ادارے شامل تھے؟
▫
️ کب پروجیکٹ شروع ہوا اور کتنی صلاحیت ہے؟
اسی دوران جب میں نے ایک پیراگراف میں DFC اور OPIC کے نام دیکھے تو میں ٹھٹک گیا۔ اور یہاں سے اصل حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ IMF آئی پی پیز کے واجبات کی ادائیگی پر اس قدر اصرار کیوں کر رہا تھا۔
آئیے! آپ بھی سمجھیے۔
نیپرا کے اصول کے مطابق کسی بھی پاور پراجیکٹ میں کمپنی مالک کو کم از کم 20 سے 25 فیصد اپنی جیب سے سرمایہ لگانا ضروری ہوتا ہے، تاکہ کمپنی بھی رسک لے۔ مگر بعض آئی پی پیز نے اس کو آسان طریقے سے گھما دیا۔ وہ کیسے ؟
سادہ مثال سے سمجھیں کہ اگر ایک پلانٹ کی قیمت 100 روپے ہے تو اصول کے مطابق کمپنی کو کم از کم 20 سے 25 فیصد روپے خود لگانے چاہیے تھے۔ لیکن انہوں نے کیا کیا کہ باہر کے مالیاتی اداروں سے زیادہ قرض لے لیا، پھر کاغذوں میں منصوبے کی قیمت 100 کے بجائے 130 یا 140 دکھا دی، اور اسی بڑھی ہوئی قیمت میں سے کچھ حصے کو “ایکوئٹی” ظاہر کر دیا۔
یوں کاغذوں میں کمپنی کی ایکوئٹی 20 سے 25 فیصد نظر آتی تھی، مگر حقیقت میں اس نے اپنی جیب سے شاید صرف 5 سے 6 فیصد ، اور بعض کیسز میں اس سے بھی کم یعنی زیرو فیصد ایکوئٹی لگائی۔ باقی پیسہ قرض تھا، جس کی واپسی کی اقساط اور منافع دونوں عوام کے بجلی کے بلوں سے ادا کیے جانے تھے۔ اور ان میں اکثریت کمپنی مالکان مفت میں اربوں ڈالر کے پاور پلانٹس کے مالک بن گئے۔ لیکن یہ سب اتنی آسانی سے ممکن کیسے ہُوا ؟
یہ ممکن اس لیے ہوا کہ کمپنی مالکان نے مقامی بینکوں کے بجائے بیرونی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر، حکومتی ضمانت کے ساتھ، کاغذوں میں اپنی ایکوئٹی بڑھا کر ظاہر کی۔
پاکستانی بینکس اور مقامی فائننشل ادارے تو نیپرا اور اسٹیٹ بنک کی ہدایات کے پابند تھے اس لئیے انہیں مطلوبہ ایکوئٹی لازمی درکار تھی۔
لہذا ہمارے ان پاور پلانٹس پروڈیوسرز میں سے بیشتر نے اپنی ایکوئٹی بچانے کے لیے مقامی بینکاری سسٹم کے برعکس امریکی اور مغربی مالیاتی اداروں سے بھاری پیمانے پر قرض ان کی شرائط پر حاصل کیے اور بدلے میں پاکستانی حکومت کی ان اداروں کو Sovereign Guarantee دلوائی گئی۔
ان مالیاتی اداروں میں World Bank اور Asian Development Bank (ADB) جیسے اداروں کے ذیلی ادارے بھی شامل ہیں ۔ چونکہ یہ ادارے عالمی مالیاتی نظام کا مرکزی حصہ ہیں اور IMF کے ساتھ ان کا گہرا اشتراک موجود ہے، اس لیے ان قرضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا IMF کی اولین ترجیح بن جاتا ہے، اور یہ ممکن نہیں رہتا کہ ان کے پیسے وقت پر ادا نہ کیے جائیں۔
یاد رہے کہ IMF اور ورلڈ بنک 1944 کی Bretton Woods کانفرنس کے نتیجے میں قائم ہوۓ تھے اور اسی لیے انہیں “Bretton Woods Twins” کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دراصل ایک ہی خاندان کے دو بھائی ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ ادارے بظاہر الگ ہیں مگر عملی طور پر ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔ IMF معیشت اور قرضوں کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ World Bank انہی بنیادوں پر فنانسنگ فراہم کرتا ہے، یوں دونوں ایک ہی مالیاتی فریم ورک میں باہم مل کر کام کرتے ہیں
اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے توانائی معاہدوں میں کئی IPPs نے ملکی مفاد کے بجائے اپنے فائدے کو ترجیح دی، بیرونی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط مانیں، اور نتیجتاً قرضوں کی ادائیگیاں اور یقینی منافع کا بوجھ حکومت اور عوام پر منتقل ہو گیا۔
پاور سیکٹر کے آج کے بحران کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان منصوبوں میں شامل اداروں میں زیادہ تر روایتی کمرشل کمپنیاں اور مقامی بینک کیوں نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (Financial Institutions) کیوں اتنے زیادہ ہیں؟ کیوں ہمارے زیادہ تر پاکستانی صنعتکاروں کو پاور پلانٹس لگانے کے لیے ان غیر ملکی اداروں نے سرمایہ اور قرض فراہم کیا۔؟
اس کا جواب آپ کو محمد علی رپورٹ میں مل جائے گا، جو اس مضمون میں، میں نے آگے چل کر شامل کی ہے۔ فی الحال ان غیر ملکی اداروں کے نام ملاحظہ فرمائیں۔
1- International Finance Corporation (IFC)
اسی دوران جب میں نے ایک پیراگراف میں DFC اور OPIC کے نام دیکھے تو میں ٹھٹک گیا۔ اور یہاں سے اصل حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ IMF آئی پی پیز کے واجبات کی ادائیگی پر اس قدر اصرار کیوں کر رہا تھا۔
آئیے! آپ بھی سمجھیے۔
نیپرا کے اصول کے مطابق کسی بھی پاور پراجیکٹ میں کمپنی مالک کو کم از کم 20 سے 25 فیصد اپنی جیب سے سرمایہ لگانا ضروری ہوتا ہے، تاکہ کمپنی بھی رسک لے۔ مگر بعض آئی پی پیز نے اس کو آسان طریقے سے گھما دیا۔ وہ کیسے ؟
سادہ مثال سے سمجھیں کہ اگر ایک پلانٹ کی قیمت 100 روپے ہے تو اصول کے مطابق کمپنی کو کم از کم 20 سے 25 فیصد روپے خود لگانے چاہیے تھے۔ لیکن انہوں نے کیا کیا کہ باہر کے مالیاتی اداروں سے زیادہ قرض لے لیا، پھر کاغذوں میں منصوبے کی قیمت 100 کے بجائے 130 یا 140 دکھا دی، اور اسی بڑھی ہوئی قیمت میں سے کچھ حصے کو “ایکوئٹی” ظاہر کر دیا۔
یوں کاغذوں میں کمپنی کی ایکوئٹی 20 سے 25 فیصد نظر آتی تھی، مگر حقیقت میں اس نے اپنی جیب سے شاید صرف 5 سے 6 فیصد ، اور بعض کیسز میں اس سے بھی کم یعنی زیرو فیصد ایکوئٹی لگائی۔ باقی پیسہ قرض تھا، جس کی واپسی کی اقساط اور منافع دونوں عوام کے بجلی کے بلوں سے ادا کیے جانے تھے۔ اور ان میں اکثریت کمپنی مالکان مفت میں اربوں ڈالر کے پاور پلانٹس کے مالک بن گئے۔ لیکن یہ سب اتنی آسانی سے ممکن کیسے ہُوا ؟
یہ ممکن اس لیے ہوا کہ کمپنی مالکان نے مقامی بینکوں کے بجائے بیرونی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر، حکومتی ضمانت کے ساتھ، کاغذوں میں اپنی ایکوئٹی بڑھا کر ظاہر کی۔
پاکستانی بینکس اور مقامی فائننشل ادارے تو نیپرا اور اسٹیٹ بنک کی ہدایات کے پابند تھے اس لئیے انہیں مطلوبہ ایکوئٹی لازمی درکار تھی۔
لہذا ہمارے ان پاور پلانٹس پروڈیوسرز میں سے بیشتر نے اپنی ایکوئٹی بچانے کے لیے مقامی بینکاری سسٹم کے برعکس امریکی اور مغربی مالیاتی اداروں سے بھاری پیمانے پر قرض ان کی شرائط پر حاصل کیے اور بدلے میں پاکستانی حکومت کی ان اداروں کو Sovereign Guarantee دلوائی گئی۔
ان مالیاتی اداروں میں World Bank اور Asian Development Bank (ADB) جیسے اداروں کے ذیلی ادارے بھی شامل ہیں ۔ چونکہ یہ ادارے عالمی مالیاتی نظام کا مرکزی حصہ ہیں اور IMF کے ساتھ ان کا گہرا اشتراک موجود ہے، اس لیے ان قرضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا IMF کی اولین ترجیح بن جاتا ہے، اور یہ ممکن نہیں رہتا کہ ان کے پیسے وقت پر ادا نہ کیے جائیں۔
یاد رہے کہ IMF اور ورلڈ بنک 1944 کی Bretton Woods کانفرنس کے نتیجے میں قائم ہوۓ تھے اور اسی لیے انہیں “Bretton Woods Twins” کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دراصل ایک ہی خاندان کے دو بھائی ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ ادارے بظاہر الگ ہیں مگر عملی طور پر ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔ IMF معیشت اور قرضوں کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ World Bank انہی بنیادوں پر فنانسنگ فراہم کرتا ہے، یوں دونوں ایک ہی مالیاتی فریم ورک میں باہم مل کر کام کرتے ہیں
اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے توانائی معاہدوں میں کئی IPPs نے ملکی مفاد کے بجائے اپنے فائدے کو ترجیح دی، بیرونی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط مانیں، اور نتیجتاً قرضوں کی ادائیگیاں اور یقینی منافع کا بوجھ حکومت اور عوام پر منتقل ہو گیا۔
پاور سیکٹر کے آج کے بحران کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان منصوبوں میں شامل اداروں میں زیادہ تر روایتی کمرشل کمپنیاں اور مقامی بینک کیوں نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (Financial Institutions) کیوں اتنے زیادہ ہیں؟ کیوں ہمارے زیادہ تر پاکستانی صنعتکاروں کو پاور پلانٹس لگانے کے لیے ان غیر ملکی اداروں نے سرمایہ اور قرض فراہم کیا۔؟
اس کا جواب آپ کو محمد علی رپورٹ میں مل جائے گا، جو اس مضمون میں، میں نے آگے چل کر شامل کی ہے۔ فی الحال ان غیر ملکی اداروں کے نام ملاحظہ فرمائیں۔
1- International Finance Corporation (IFC)
▫
سابقہ نام: یہی نام ابتدا سے استعمال ہو رہا ہے
▫
موجودہ حیثیت: ورلڈ بینک گروپ کا حصہ، نجی شعبے میں سرمایہ کاری اور فنانسنگ فراہم کرتا ہے
2- Overseas Private Investment Corporation (OPIC)
2- Overseas Private Investment Corporation (OPIC)
▫
سابقہ نام: OPIC
▫
موجودہ نام: US International Development Finance Corporation (DFC)
▫
حیثیت: امریکی حکومت کا ادارہ، بیرونِ ملک سرمایہ کاری کو سپورٹ کرتا ہے
3- Asian Development Bank (ADB)
3- Asian Development Bank (ADB)
▫
موجودہ حیثیت: ایشیائی خطے میں توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی فنانسنگ
4- International Bank for Reconstruction and Development (IBRD)
4- International Bank for Reconstruction and Development (IBRD)
▫
موجودہ حیثیت: ورلڈ بینک گروپ کا حصہ، ریاستی سطح پر مالی معاونت فراہم کرتا ہے
5- Export Credit Agencies (ECAs)
5- Export Credit Agencies (ECAs)
▫
مختلف ممالک کے سرکاری یا نیم سرکاری ادارے جو اپنے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاری کو سپورٹ کرتے ہیں
6- اس کے علاوہ غیر ملکی کمرشل بینکس اور خاص طور پر سی پیک کے بعد چینی مالیاتی ادارے بھی اس فنانسنگ کا حصہ رہے ہیں
اب اگر ان تمام اداروں کے ناموں پر غور کیا جاۓ تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فنانسنگ کا انتخاب روایتی بینکنگ سسٹم کے بجائے ایسے اداروں کے ذریعے کیا گیا جہاں حکومتی ضمانتیں (Sovereign Guarantees)، ڈالر سے منسلک ریٹرن، اور طویل المدتی معاہدے حاصل کرنا آسانی سے ممکن تھا، اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مالیاتی ماڈل تشکیل پایا جس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی حقیقی سرمایہ کاری نسبتاً کم اور ریٹرن نسبتاً زیادہ محفوظ ہو گیا۔
آئیے محمد علی رپورٹ 2020ء کی طرف، جو پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور جس کا ذکر اس مضمون میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مضمون کی طوالت کے پیش نظر اس رپورٹ اور اس کے اہم نکات کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
🔳 حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2020 میں قائم IPPs Inquiry Committee کی تحقیقاتی رپورٹ، جو محمد علی رپورٹ کے نام سے معروف ہے، محمد علی صاحب نے مرتب کی، جو پیشے کے اعتبار سے سیکیورٹی کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چئیرمین رہے اور پاور سیکٹر کے ماہر اور حکومتی سطح پر توانائی امور سے وابستہ ٹیکنوکریٹ رہے ہیں۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے ان کی سربراہی میں ارکانِ پارلیمنٹ، سیکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور ماہرینِ معیشت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔
اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے پاور سیکٹر کے مالیاتی معاہدوں کو نمایاں طور پر سامنے لایا گیا، اور یہ انکشاف کیا گیا کہ کئی IPPs نے اپنی Project Cost بڑھا کر ظاہر کی، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جبکہ حقیقی ایکوئٹی کم رہی۔
اس رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
1۔ لاگت میں مبالغہ آرائی (Over invoicing & Misdeclaration) متعدد پاور پروجیکٹس میں لاگت کو اصل سے زیادہ ظاہر کیا گیا، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ بعض کیسز میں یہ منافع 50 سے 70 فیصد سالانہ تک پہنچ گیا، جبکہ Nepra کی مقررہ حد 12 سے 15 فیصد تھی۔ حقیقی ایکوئٹی کم تھی مگر ادائیگیاں بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی لاگت پر ہوئیں۔ مثال کے طور پر 1994 پالیسی کے تحت 16 آئی پی پیز نے تقریباً 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 415 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جن میں 310 ارب روپے ڈیویڈنڈز کی صورت میں ادا کیے گئے۔
2۔ فیول کنزمپشن اور کارکردگی میں فرق (Fuel Consumption & Efficiency Gap) رپورٹ کے مطابق بعض آئی پی پیز نے ایندھن کے استعمال کے اعداد و شمار درست ظاہر نہیں کیے، یعنی اصل ایندھن کم استعمال ہوا مگر بل زیادہ بنایا گیا، جبکہ Efficiency gains عوام کو منتقل کرنے کے بجائے کمپنیوں نے اضافی منافع کے طور پر اپنے پاس رکھ لیے
3۔ کیپیسٹی پیمنٹس کا بنیادی مسئلہ (Capacity Payments & Take or Pay Contracts) Take or Pay معاہدوں کے تحت حکومت کو بجلی خریدے بغیر بھی ادائیگی کرنا پڑتی رہی، جس کے نتیجے میں یہی ادائیگیاں گردشی قرضے کی بڑی وجہ بنیں اور نظام پر مالی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔
4۔ ڈالر انڈیکسیشن کا اثر (Dollar Indexation Impact) رپورٹ میں اس بات پر تنقید کی گئی کہ مقامی کمپنیوں کو بھی ڈالر کے ساتھ منسلک ریٹرن دیا جا رہا تھا، جس سے ڈالر مہنگا ہونے پر بجلی خود بخود مہنگی ہو جاتی تھی، حالانکہ اخراجات کا بڑا حصہ مقامی کرنسی میں تھا
رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ Capacity Payments کے ذریعے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کمپنیوں کو ادائیگیاں کی جاتی رہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ مزید برآں، فرانزک آڈٹ میں بعض کمپنیوں کے “Excess Profits” کی نشاندہی ہوئی اور یہ سامنے آیا کہ مالیاتی ماڈلز، خاص طور پر Debt Financing اور indexation، اس طرح ترتیب دیے گئے تھے کہ رسک کم اور منافع یقینی رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل دراصل سسٹمک نوعیت کے ہیں، جہاں ٹیرف اوور پیمنٹس، بینک فنانسنگ کے پیچیدہ ڈھانچے، غیر شفاف معاہدے اور ریگولیٹری کمزوریاں مل کر ایک ایسا مالی بحران پیدا کرتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں سرکلر ڈیٹ تقریباً 13 بلین ڈالر (تقریباً 3600 ارب روپے) تک جا پہنچا، اور یہ بوجھ بالآخر براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔
(یاد رہے کہ یہ 2020 کی رپورٹ ہے، لیکن آج تک کسی کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔ صرف خانہ پری کے لیے حکومت نے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی، مذاکرات کیے گئے اور ٹیرف میں جزوی کمی کی گئی، مگر مجموعی نظام میں بنیادی شرائط وہی رہیں اور یوں پرانی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔)
اس انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ صرف رپورٹ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں (IPPs) کا ایک مکمل اور قانونی نوعیت کا Forensic Audit ضروری ہے۔ اس مطالبے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ ادائیگیاں کیوں کی گئیں، کتنا غیر معمولی یا ناجائز منافع حاصل کیا گیا، اور ان کے مالی ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد یہ تعین کیا جائے کہ عوام کے پیسے کا نقصان کہاں اور کیسے ہوا، اور اس کا ذمہ دار کون ہے تاکہ ممکن ہو تو وہ رقم واپس لی جا سکے۔
اس مضمون کے آخر میں، میں ایک سوال کرنے پر مجبور ہوں پچھلی مرتبہ حکومت نے ملک کے اٹھارہ بینکوں سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ، یعنی 4.5 بلین ڈالر (تقریباً 1250 ارب روپے) لے کر پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کیں، مگر المیہ دیکھیے کہ چند ہی ماہ میں آئی پی پیز کے واجبات اور گردشی قرضہ دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ (6.8 بلین ڈالر) سوال یہ ہے کہ اب ہم کس سے قرض لیں گے؟ قرض لے کر قرض اتارنے کا یہ تباہ کن سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟
کیا اس فرسودہ نظام کے تحت مزید عوام کے جسم سے خون نچوڑنا باقی ہے؟ جب National Electric Power Regulatory Authority کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی خبریں آتی ہیں، تو دل دہل جاتا ہے کہ کیا ان تمام اداروں کی نااہلی کا سارا بوجھ صرف غریب عوام کے ناتواں کندھوں پر ہی ڈالا جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان ان آئی پی پیز کے شکنجے اور “کیپیسٹی پیمنٹس” کے جال میں جکڑ کر بتدریج معاشی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان استحصالی معاہدوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور بجلی کے شعبے میں فوری و بنیادی اصلاحات لائی جائیں، ورنہ یہ ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی زندہ درگور کر دے گا۔
بہت سے قارئین یہ سوال کرتے ہیں کہ مسئلے کا حل کیا ہے۔ میرا مؤقف رہا ہے کہ پہلے اس نظام کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ہمیں اس بحران تک پہنچایا، اسی لیے میں نے اسے قسط وار پیش کیا۔ اب چودھویں قسط میں ایک عملی اور فوری حل پیش کروں گا تاکہ بات تجزیے سے آگے بڑھ کر پالیسی کی سمت جا سکے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط)
6- اس کے علاوہ غیر ملکی کمرشل بینکس اور خاص طور پر سی پیک کے بعد چینی مالیاتی ادارے بھی اس فنانسنگ کا حصہ رہے ہیں
اب اگر ان تمام اداروں کے ناموں پر غور کیا جاۓ تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فنانسنگ کا انتخاب روایتی بینکنگ سسٹم کے بجائے ایسے اداروں کے ذریعے کیا گیا جہاں حکومتی ضمانتیں (Sovereign Guarantees)، ڈالر سے منسلک ریٹرن، اور طویل المدتی معاہدے حاصل کرنا آسانی سے ممکن تھا، اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مالیاتی ماڈل تشکیل پایا جس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی حقیقی سرمایہ کاری نسبتاً کم اور ریٹرن نسبتاً زیادہ محفوظ ہو گیا۔
آئیے محمد علی رپورٹ 2020ء کی طرف، جو پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور جس کا ذکر اس مضمون میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مضمون کی طوالت کے پیش نظر اس رپورٹ اور اس کے اہم نکات کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
🔳 حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2020 میں قائم IPPs Inquiry Committee کی تحقیقاتی رپورٹ، جو محمد علی رپورٹ کے نام سے معروف ہے، محمد علی صاحب نے مرتب کی، جو پیشے کے اعتبار سے سیکیورٹی کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چئیرمین رہے اور پاور سیکٹر کے ماہر اور حکومتی سطح پر توانائی امور سے وابستہ ٹیکنوکریٹ رہے ہیں۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے ان کی سربراہی میں ارکانِ پارلیمنٹ، سیکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور ماہرینِ معیشت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔
اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے پاور سیکٹر کے مالیاتی معاہدوں کو نمایاں طور پر سامنے لایا گیا، اور یہ انکشاف کیا گیا کہ کئی IPPs نے اپنی Project Cost بڑھا کر ظاہر کی، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جبکہ حقیقی ایکوئٹی کم رہی۔
اس رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
1۔ لاگت میں مبالغہ آرائی (Over invoicing & Misdeclaration) متعدد پاور پروجیکٹس میں لاگت کو اصل سے زیادہ ظاہر کیا گیا، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ بعض کیسز میں یہ منافع 50 سے 70 فیصد سالانہ تک پہنچ گیا، جبکہ Nepra کی مقررہ حد 12 سے 15 فیصد تھی۔ حقیقی ایکوئٹی کم تھی مگر ادائیگیاں بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی لاگت پر ہوئیں۔ مثال کے طور پر 1994 پالیسی کے تحت 16 آئی پی پیز نے تقریباً 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 415 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جن میں 310 ارب روپے ڈیویڈنڈز کی صورت میں ادا کیے گئے۔
2۔ فیول کنزمپشن اور کارکردگی میں فرق (Fuel Consumption & Efficiency Gap) رپورٹ کے مطابق بعض آئی پی پیز نے ایندھن کے استعمال کے اعداد و شمار درست ظاہر نہیں کیے، یعنی اصل ایندھن کم استعمال ہوا مگر بل زیادہ بنایا گیا، جبکہ Efficiency gains عوام کو منتقل کرنے کے بجائے کمپنیوں نے اضافی منافع کے طور پر اپنے پاس رکھ لیے
3۔ کیپیسٹی پیمنٹس کا بنیادی مسئلہ (Capacity Payments & Take or Pay Contracts) Take or Pay معاہدوں کے تحت حکومت کو بجلی خریدے بغیر بھی ادائیگی کرنا پڑتی رہی، جس کے نتیجے میں یہی ادائیگیاں گردشی قرضے کی بڑی وجہ بنیں اور نظام پر مالی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔
4۔ ڈالر انڈیکسیشن کا اثر (Dollar Indexation Impact) رپورٹ میں اس بات پر تنقید کی گئی کہ مقامی کمپنیوں کو بھی ڈالر کے ساتھ منسلک ریٹرن دیا جا رہا تھا، جس سے ڈالر مہنگا ہونے پر بجلی خود بخود مہنگی ہو جاتی تھی، حالانکہ اخراجات کا بڑا حصہ مقامی کرنسی میں تھا
رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ Capacity Payments کے ذریعے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کمپنیوں کو ادائیگیاں کی جاتی رہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ مزید برآں، فرانزک آڈٹ میں بعض کمپنیوں کے “Excess Profits” کی نشاندہی ہوئی اور یہ سامنے آیا کہ مالیاتی ماڈلز، خاص طور پر Debt Financing اور indexation، اس طرح ترتیب دیے گئے تھے کہ رسک کم اور منافع یقینی رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل دراصل سسٹمک نوعیت کے ہیں، جہاں ٹیرف اوور پیمنٹس، بینک فنانسنگ کے پیچیدہ ڈھانچے، غیر شفاف معاہدے اور ریگولیٹری کمزوریاں مل کر ایک ایسا مالی بحران پیدا کرتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں سرکلر ڈیٹ تقریباً 13 بلین ڈالر (تقریباً 3600 ارب روپے) تک جا پہنچا، اور یہ بوجھ بالآخر براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔
(یاد رہے کہ یہ 2020 کی رپورٹ ہے، لیکن آج تک کسی کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔ صرف خانہ پری کے لیے حکومت نے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی، مذاکرات کیے گئے اور ٹیرف میں جزوی کمی کی گئی، مگر مجموعی نظام میں بنیادی شرائط وہی رہیں اور یوں پرانی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔)
اس انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ صرف رپورٹ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں (IPPs) کا ایک مکمل اور قانونی نوعیت کا Forensic Audit ضروری ہے۔ اس مطالبے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ ادائیگیاں کیوں کی گئیں، کتنا غیر معمولی یا ناجائز منافع حاصل کیا گیا، اور ان کے مالی ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد یہ تعین کیا جائے کہ عوام کے پیسے کا نقصان کہاں اور کیسے ہوا، اور اس کا ذمہ دار کون ہے تاکہ ممکن ہو تو وہ رقم واپس لی جا سکے۔
اس مضمون کے آخر میں، میں ایک سوال کرنے پر مجبور ہوں پچھلی مرتبہ حکومت نے ملک کے اٹھارہ بینکوں سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ، یعنی 4.5 بلین ڈالر (تقریباً 1250 ارب روپے) لے کر پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کیں، مگر المیہ دیکھیے کہ چند ہی ماہ میں آئی پی پیز کے واجبات اور گردشی قرضہ دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ (6.8 بلین ڈالر) سوال یہ ہے کہ اب ہم کس سے قرض لیں گے؟ قرض لے کر قرض اتارنے کا یہ تباہ کن سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟
کیا اس فرسودہ نظام کے تحت مزید عوام کے جسم سے خون نچوڑنا باقی ہے؟ جب National Electric Power Regulatory Authority کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی خبریں آتی ہیں، تو دل دہل جاتا ہے کہ کیا ان تمام اداروں کی نااہلی کا سارا بوجھ صرف غریب عوام کے ناتواں کندھوں پر ہی ڈالا جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان ان آئی پی پیز کے شکنجے اور “کیپیسٹی پیمنٹس” کے جال میں جکڑ کر بتدریج معاشی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان استحصالی معاہدوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور بجلی کے شعبے میں فوری و بنیادی اصلاحات لائی جائیں، ورنہ یہ ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی زندہ درگور کر دے گا۔
بہت سے قارئین یہ سوال کرتے ہیں کہ مسئلے کا حل کیا ہے۔ میرا مؤقف رہا ہے کہ پہلے اس نظام کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ہمیں اس بحران تک پہنچایا، اسی لیے میں نے اسے قسط وار پیش کیا۔ اب چودھویں قسط میں ایک عملی اور فوری حل پیش کروں گا تاکہ بات تجزیے سے آگے بڑھ کر پالیسی کی سمت جا سکے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط)