تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 49 منٹ 12 سیکنڈ (اب تک 29 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
کیا صدر ٹرمپ نوبل انعام کے مستحق ہیں؟
(پہلی قسط)
دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو امریکی صدر بننے کی خواہش نہ رکھتا ہو، کیونکہ یہ منصب عالمی طاقت، اثر و رسوخ اور قیادت کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ مگر انسان کی فطری کمزوری یہی ہے کہ وہ سب کچھ پا لینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال لے لیجیے، وہ جب سے صدارت کے منصب پر فائز ہوئے، تب سے نوبل امن انعام پانے کی خواہش انہیں ایک پل چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اُن کا یہ خواب، کہ دنیا انہیں “نوبل لاریٹ” (Nobel Laureate) کے لقب سے پکارے، انہیں ایک کروٹ چین نہیں لینے دیتی۔ آج ان کی کیفیت اُس بچے کی سی ہے جو کھیلن کو چاند مانگتا ہے، اور جب چاند نہ ملے تو ضد اور بےچینی میں بپھر جاتا ہے۔ یہی کچھ صدر ٹرمپ کر رہے ہیں۔
اپنے پہلے دور صدارت سے لے کر اب تک انہیں لگ بھگ 8 بار مختلف افراد یا اداروں نے نامزد کیا ہے۔ یہ نامزدگیاں مختلف ادوار میں 2018، 2020، 2021، 2024 اور 2025 کے دوران کی گئی ہیں۔ ان کو ناروے، سویڈن، امریکا، یوکرائن، پاکستان اور ممکنہ طور پر آسٹریلیا کے سیاستدانوں اور حتیٰ کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ اور وہ نوبل انعام کے لیے بار بار نامزد ہونے والے افراد کی فہرست میں سرفہرست آ گئے ہیں۔
مہاتما گاندھی کو بھی 5 مرتبہ (1937، 1938، 1939، 1947، 1948) نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا، لیکن ہر بار انہیں انعام کا مستحق قرار نہیں دیا گیا۔ 1948 میں، ان کے قتل کے بعد، نوبل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس سال امن انعام کسی کو نہ دیا جائے، اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ “کوئی زندہ امیدوار اتنا موزوں نہیں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو 2020 میں ناروے کے رکنِ پارلیمان کرسچین ٹائبرنگ گیڈی نے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا، لیکن انہیں انعام نہ ملا۔ ناقدین نے ان کی امیگریشن پالیسی، خاص طور پر بچوں کو والدین سے جدا کرنے کے قانون، کو اس انکار کی بڑی وجہ قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے محض نامزدگی کو ہی انعام سمجھ لیا، جلسوں میں فخر سے ذکر کیا، میڈیا کو کوریج نہ دینے پر ناراضی ظاہر کی۔ ان کا نامزدگی کو ہی جیت سمجھنا نوبل انعام سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بن گیا۔
نیو یارک ٹائمز کی 25 مارچ 2025 کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ اوول آفس میں ایک رپورٹر کے سوال پر کہا “میں اس کا مستحق ہوں، لیکن وہ مجھے کبھی نہیں دیں گے”
(“I deserve it, but they will never give it to me.”)
اس بیان سے خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ نوبل انعام
کے حصول کے لیے کس قدر frustrated ہیں۔
اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر 21 جون 2025 کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ نامزدگی پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ناروے کی نوبل کمیٹی کو بھیجی گئی، جس میں صدر ٹرمپ کے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے کردار کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے خود اپنی رپورٹ میں اس بیان اور تاریخ کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کی طرف سے 2026 کے امن نوبل انعام کے لیے جون 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کرنا نوبل انعام کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور منفرد مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ نامزدگی اُس وقت کی گئی، جب 2025 کے انعام یافتگان کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا، اور 2026 کے لیے نامزدگیاں جمع کرانے کی مقررہ مدت (یعنی 31 جنوری 2026) میں ابھی تقریباً سات ماہ باقی تھے۔
پاکستان کے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام براۓ امن کے لئیے نامزد کرنے کے غیر معمولی اقدام نے عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ فیصلہ محض بیانیہ تراشی (narrative control) کی ایک کوشش ہے، یا کسی وسیع تر خارجہ پالیسی حکمتِ عملی کا مظہر۔ نوبل انعام جیسے عالمی اعزاز کے تناظر میں اس قدر بروقت اور جارحانہ نامزدگی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے، جن کا جواب وقت ہی دے گا۔
(جاری ہے۔۔۔ آئندہ دوسری قسط میں)