تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 1 گھنٹے 1 منٹ (اب تک 26 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
امریکی صدر ٹرمپ کا مواخذہ (Impeachment)ممکن ہے ؟؟
ٹرمپ پہلے 2019 اور 2021 میں دو بار مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن دونوں بار سینیٹ نے انہیں بَری کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر حملے کے بعد مواخذے
کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ، جو کہ بغیر کانگریس کی منظوری کے کیا گیا، امریکی آئین کے آرٹیکل ون کے تحت جنگ کے اعلان کے لیے کانگریس کے اختیار کو چیلنج کرتا ہے۔ وار پاورز ریزولوشن 1973 کے مطابق، صدر کو غیر اعلانیہ فوجی کارروائی کے 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو مطلع کرنا ہوتا ہے اور 60 دنوں کے اندر منظوری درکار ہوتی ہے۔ اگر ٹرمپ نے یہ تقاضے پورے نہیں کیے، تو ڈیموکریٹس اسے آئینی خلاف ورزی قرار دے سکتے ہیں۔
کچھ ڈیموکریٹس، جیسے کہ نمائندہ ایلیگزینڈریا اوکاسیو-کورتز، نے حملے کو غیر آئینی اور مواخذے کی واضح بنیاد قرار دیا ہے۔ ہاؤس منارٹی لیڈر حکیم جیفریز اور سینیٹر جیم ہائمز نے بھی اسے کانگریس کی اجازت کے بغیر غیر قانونی کہا۔ قانونی ماہر مائیکل گرہارٹ نے ٹرمپ کے اقدامات کو بدعنوانی اور مواخذے کے قابل قرار دیا۔ دوسری جانب، قانونی ماہر جان یو کا کہنا ہے کہ صدر کو آئینی ایگزیکٹو پاورز کے تحت ایسی فوجی کارروائی کا اختیار ہے، خاص طور پر قومی سلامتی کے لیے۔ ریپبلکنز، جیسے کہ سینیٹر لنڈسی گراہم اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن، اسے دہشت گردی کے خلاف درست اقدام سمجھتے ہیں۔
سیاسی طور پر، مواخذے کے امکانات کانگریس کے ڈھانچے پر منحصر ہیں۔ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے، اور مواخذے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے ریپبلکنز کی حمایت کے بغیر تحریک پاس کرنا مشکل ہے۔ چند ریپبلکنز، جیسے کہ تھامس میسی، حملے کی مخالفت کر رہے ہیں، لیکن ان کی تعداد ناکافی ہے۔
سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 67 ووٹ درکار ہیں۔ ریپبلکنز کی مضبوط حمایت اور کچھ پرو-اسرائیل ڈیموکریٹس، جیسے کہ سینیٹر جان فیٹرمین، کی طرف سے حملے کی حمایت کی وجہ سے سینیٹ میں عزل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عوامی رائے بھی تقسیم ہے۔ پولز کے مطابق، 73 فیصد امریکی ایران کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، لیکن صرف 8 فیصد براہ راست فوجی مداخلت کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی “امریکہ سب سے پہلے” پالیسی کے حامیوں میں بھی اختلافات ہیں۔ ٹکر کارلسن اور اسٹیو بینن نے حملے کی مخالفت کی، جبکہ ریپبلکن ووٹرز کا 65 فیصد حصہ، خاص طور پر MAGA بیس، ٹرمپ کے حق میں ہے۔ لبرل میڈیا، جیسے کہ MSNBC اور The Guardian، حملے کو غیر آئینی کہہ رہا ہے، جبکہ کنزرویٹو میڈیا، جیسے کہ Fox News، اس کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ پولرائزیشن سیاسی عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
ایران کی جوابی کارروائی بھی اہم ہے۔ اگر ایران امریکی مفادات پر حملہ کرتا ہے، تو یہ ٹرمپ کے اقدام کو جواز دے سکتا ہے، جس سے مواخذے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ ٹرمپ پہلے 2019 اور 2021 میں دو بار مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن دونوں بار سینیٹ نے انہیں بری کیا۔ یہ تاریخی تناظر ریپبلکنز کی حمایت کو مضبوط کرتا ہے۔ وقت کی کمی بھی ایک رکاوٹ ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت ابھی شروع ہوئی ہے، اور مواخذہ ایک طویل عمل ہے۔ اگر ڈیموکریٹس فوری تحریک لاتے ہیں، تو بھی سینیٹ میں کارروائی مہینوں لگ سکتی ہے، جو کہ سیاسی طور پر غیر عملی ہے۔
نتیجتاً، ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ہاؤس میں ریپبلکن اکثریت، سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کا فقدان، ریپبلکن ووٹرز کی حمایت، اور قانونی دلائل کی تقسیم اسے مشکل بناتی ہے۔ تاہم، اگر ایران کی جوابی کارروائی سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا ہے یا عوامی دباؤ بڑھتا ہے، تو سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن عزل کا امکان بدستور کم رہے گا۔ ڈیموکریٹس شاید وار پاورز ریزولوشن کے ذریعے سیاسی دباؤ ڈالیں، لیکن عملی کامیابی مشکل ہے۔