Home
پبلشنگ کی تاریخ: 28 جون, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 3 منٹ 30 سیکنڈ (اب تک 30 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

پاکستان کی وزارتِ توانائی (وزارتِ بجلی) نے 18 جون کو بجلی کے شعبے کے پرانے قرضے، سبسڈی، اور آئی پی پیز کو رقوم کی ادائیگی کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ حاصل کیا، جس کا حجم 1.275 ٹریلین روپے (تقریباً 4.5 ارب ڈالر) ہے۔


یہ قرضہ ملک کے 18 تجارتی بینکوں سے لیا گیا ہے، جن میں 6 مکمل اسلامی بینک اور 12 روایتی بینک شامل ہیں، جو اسلامی ونڈوز چلاتے ہیں۔ یاد رہے، پاکستان میں کُل 25 بینک فعال ہیں: 19 روایتی اور 6 مکمل اسلامی۔


اس واقعے پر وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر فخر سے لکھا:
“الحمدللہ، آج وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سمری پر بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا، 1275 ارب روپے کا مالی معاہدہ منظور کر لیا۔ اس سے ملک کی معیشت کا بوجھ کم ہو گا اور بجلی کا شعبہ مستحکم ہو گا۔”


اگرچہ حکومت کی طرف سے اس معاہدے کو بجلی کے شعبے کی اصلاحات کا حصہ بتایا گیا ہے، لیکن درحقیقت یہ اقدام آئی ایم ایف کی اس شرط کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کو سات ارب ڈالر کے قرض کی اگلی قسط اسی صورت میں دی جائے گی جب وہ اپنے اندرونی واجبات، خاص طور پر بجلی کے شعبے کے قرضے، خود ادا کرے۔ اور اسے یہ باور کرایا گیا کہ اسے یہ ادائیگی ملکی تجارتی بینکوں سے قرض لے کر کرنا ہو گی۔


یوں پاکستان کو ایک بین الاقوامی قرض حاصل کرنے کے لیے پہلے خود ایک بھاری قرض مقامی بینکوں سے مجبوری کے تحت لینا پڑا۔ اگرچہ اس قرض کو پہلے اسلامی بینکاری کے ڈھانچے (Islamic Banking Structure) میں ڈھالا گیا، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ مالیاتی بندوبست (Complex Financial Arrangement) ہے، جس کی شرحِ منافع تین ماہہ کیبور (Three Month KIBOR) سے صفر اعشاریہ نو فیصد کم مقرر کی گئی ہے۔


یہ بندوبست وزارتِ خزانہ اور ملکی بینکوں کے کنسورشیم کی مشترکہ تجویز پر، اور آئی ایم ایف کی پیشگی منظوری کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس مالی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی اعتماد (International Financial Confidence) حاصل کرنا تھا، تاکہ پاکستان کی معاشی پالیسی دنیا کے مالیاتی نظام سے ہم آہنگ دکھائی دے۔


معاشیات کی زبان میں اس طرح کے بندوبست کو “Bridge Financing” کہا جاتا ہے، یعنی ایک وقتی مالی انتظام، جو بظاہر مقامی ادائیگیوں کے لیے ہوتا ہے، مگر دراصل عالمی سطح پر اعتماد کا تاثر قائم کرنے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔


لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان اپنے ہی بینکوں سے 4.5 بلین ڈالر کا قرض حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو 7 ارب ڈالر کے لیے اسے آئی ایم ایف کی منظوری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مقامی بینکوں سے لیا گیا قرض اگرچہ وقتی مالی ضروریات کو پورا کرتا ہے، لیکن اس سے بین الاقوامی سطح پر کوئی مالیاتی اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی ادارے، سرمایہ کار، اور دوست ممالک صرف اسی صورت میں مالی تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں جب کسی ملک کو آئی ایم ایف کی منظوری حاصل ہو۔


آئی ایم ایف سے حاصل کیا گیا قرض صرف مالی امداد نہیں ہوتا، بلکہ یہ اُس ملک کی بین الاقوامی ساکھ (credibility) کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کو آئی ایم ایف قرض دیتا ہے تو دنیا کے دیگر بڑے مالیاتی ادارے، جیسے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، سعودی عرب یا چین وغیرہ، بھی اُس ملک کے ساتھ مالی تعاون یا سرمایہ کاری پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کسی ملک کو قرض دے رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس ملک کی مالی اصلاحات، بجٹ اور ادائیگی کی صلاحیت پر عالمی اداروں کو اعتماد ہے۔ اسی بنیاد پر وہ بھی قرض دینے یا اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔


اس لیے پاکستان جیسے ممالک آئی ایم ایف کو ایک “ڈھال” کے طور پر استعمال کرتے ہیں یعنی جب تک آئی ایم ایف اس ملک کے ساتھ ہے، دنیا بھی اس پر بھروسہ کرتی ہے، اور جیسے ہی آئی ایم ایف ناراض ہوتا ہے، دنیا بھی اس کی مدد سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یوں آئی ایم ایف کا قرض خود شاید اتنا فائدہ مند نہ ہو، لیکن یہ عالمی مالی دروازے کھولنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کی زبان میں اسے Signal Effect کہا جاتا ہے، جہاں کسی ملک کا آئی ایم ایف سے قرض لینا باقی دنیا کے لیے ایک اعتماد کا اشارہ (signaling) بن جاتا ہے۔


اس وقت جو سوال عوام کے ذہنوں میں سب سے زیادہ گونج رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے قرض کو، جو 1.275 ٹریلین روپے پر مشتمل ہے، اس کی ادائیگی کا طریقہ آخر رکھا کیا گیا ہے؟ اگرچہ وزیر توانائی نے یہ واضح کیا کہ یہ قرض 24 سہ ماہی اقساط میں بینکوں کو واپس کیا جائے گا، لیکن انہوں نے اس اہم نکتے کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ادائیگیاں درحقیقت کہاں سے کی جائیں گی۔ حکومت نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ یہ رقم وفاقی بجٹ سے، ٹیکسوں کے ذریعے، یا بجلی کے نرخ بڑھا کر حاصل کی جائے گی؟


تاہم زمینی حقیقت یہی ہے کہ اس مالی معاہدے کی قیمت بالآخر پاکستانی عوام کو ہی چکانی ہو گی۔


اس قرض کی ادائیگی کے لیے جو مالی وسائل استعمال ہوں گے، وہ بالواسطہ طور پر عام شہریوں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے ہی حاصل کیے جائیں گے۔


اس قرض کی واپسی کا بوجھ براہِ راست وفاقی خزانے پر نہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر عام شہریوں پر ڈالا جائے گا۔ بجلی کے بلوں میں شامل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA)، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA)، مختلف سرچارجز، اور بڑھتا ہوا جنرل سیلز ٹیکس (GST) وہ تمام ذرائع ہیں جن کے ذریعے اس قرض کی قسطیں آئندہ برسوں میں وصول کی جائیں گی۔ گویا قرض بینکوں سے لیا گیا ہے، لیکن اس کی اصل قیمت عام صارف ہر ماہ اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے ادا کرے گا۔


آخری نکتہ یہ ہے کہ حکومت نے یہ اسلامی قرض پاور سیکٹر کے لیے خاص طور پر ملک کے 18 بینکوں سے حاصل کیا ہے۔ اگرچہ وزیر توانائی کا مؤقف ہے کہ یہ قرض وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں شامل نہیں ہوگا، تاہم معاشی اصولوں اور بین الاقوامی مالیاتی معیار کے تحت، چونکہ یہ قرض ریاستی ضمانت کے تحت حاصل کیا گیا ہے اور اس کی واپسی بالآخر عوامی مالی وسائل سے ہی ممکن ہوگی، اس لیے اسے مجموعی قومی قرضہ (Total Public Debt) کا حصہ تصور کیا جائے گا، چاہے وزیر موصوف اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔
 

1
0
Views
30
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟