Home
پبلشنگ کی تاریخ: 27 جون, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 10 منٹ 36 سیکنڈ (اب تک 26 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

پاکستان میں غریب آدمی کا ایک گلاس معیاری دودھ پینا بھی لگژری بن گیا ہے؟ حکومت کا دودوھ کو “لگژری” سمجھ کر ٹیکس لگانا انتہا درجے کی ناانصافی ہے۔


پاکستان میں دودھ کو ہمیشہ “بنیادی غذائی شے” (Essential Food Item) تصور کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اس پر پچھلے سال تک کوئی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد نہیں تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی دستاویزات اور مالیاتی قوانین کے مطابق 2023 تک پیک شدہ دودھ “ٹیکس سے مستثنیٰ اشیاء” میں شامل رہا۔


پاکستان میں پیک شدہ دودھ (Packaged Milk) کی تین بڑی اقسام دستیاب ہیں، جو ہر ایک مختلف پراسیسنگ اور شیلف لائف رکھتی ہے۔


1. پیسچرائزڈ دودھ (Pasteurized Milk)
یہ دودھ ہلکی آنچ پر گرم کیا جاتا ہے تاکہ نقصان دہ جراثیم ختم ہو جائیں، مگر اس کی غذائیت برقرار رہے۔ اسے ہمیشہ ریفریجریٹر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور اس کی شیلف لائف چند دن ہوتی ہے۔
🔹 مثالیں: Nurpur، Adams، Prema


2. یو ایچ ٹی دودھ (UHT Milk – Ultra High 
Temperature)
یہ دودھ بہت زیادہ درجہ حرارت پر چند سیکنڈ کے لیے گرم کیا جاتا ہے تاکہ تمام بیکٹیریا ختم ہو جائیں اور دودھ مہینوں تک خراب نہ ہو۔ اسے کھولنے سے پہلے فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
🔹 مثالیں: Olper’s، Nestlé Milkpak، Dayfresh، Dairy Omung


3. شیلف اسٹیبل دودھ (Shelf-Stable Milk)
یہ اصطلاح عمومی طور پر ان تمام دودھ کی اقسام کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہیں طویل مدت تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس میں زیادہ تر UHT دودھ شامل ہوتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں ایوپریٹڈ (Evaporated) یا پاوڈر دودھ (Powdered Milk) بھی اس میں شمار ہوتا ہے۔


🔹 مثالیں: Milkpak Cream، Millac، Everyday (powdered)
پیک شدہ دودھ کی ان تینوں اقسام کو ایف بی آر کی فہرست میں “ٹیکس سے مستثنیٰ اشیاء” (Exempt Goods) میں شامل رکھا گیا۔ ان برسوں میں ایف بی آر نے دودھ کو “بنیادی غذائی شے” (Essential Food Item) تصور کیا، جس کے نتیجے میں اس پر 0 فیصد سیلز ٹیکس عائد تھا۔


لیکن پھر اچانک پچھلے مالی سال 2024-25 میں دودھ کی ان تینوں اقسام پر حکومت کی جانب سے ٪18 جنرل سیلز ٹیکس (GST) لاگو کر دیا گیا ہے، جس سے دودھ کی قیمتوں میں اچانک فی لیٹر 50 روپے اضافہ ہوا اور صارفین کے لیے یہ انتہائی بنیادی غذا بھی ایک “لگژری آئٹم” میں تبدیل ہو گئی۔


عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق دودھ کو انسانی صحت کے لیے ایک بنیادی غذا تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ یہ کیلشیم، وٹامن ڈی، پوٹاشیم، فاسفورس، زنک اور معیاری پروٹین جیسے اہم غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ WHO کی “Complementary Feeding” گائیڈ لائنز، امریکی غذائی رہنما MyPlate.gov، اور نیوٹریشن پر مبنی کئی سائنسی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ دودھ نہ صرف بچوں بلکہ ہر عمر کے افراد کی ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک دودھ کو “Essential Food Item” یعنی لازمی غذا قرار دے کر اس پر یا تو ٹیکس نہیں لگاتے یا بہت کم شرح سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔


لیکن پاکستان میں انسانی صحت کے لیے اس بنیادی غذا پر 0 فیصد سیلز ٹیکس سے اچانک 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا انتہائی مذمت فیصلہ ہے۔


دنیا کے بیشتر ممالک میں دودھ کو ایک بنیادی غذائی ضرورت سمجھ کر اس پر یا تو کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا یا پھر انتہائی کم شرح پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں وفاقی سطح پر دودھ پر کوئی ٹیکس نہیں، اگرچہ کچھ ریاستوں میں الگ قوانین ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ میں دودھ کو “زیرو ریٹڈ” تصور کیا جاتا ہے یعنی اس پر وی اے ٹی صفر فیصد ہے۔ جرمنی اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بالترتیب 7 فیصد اور 5.5 فیصد کی کم شرح وی اے ٹی لاگو ہوتی ہے۔


بھارت میں تازہ دودھ پر مکمل طور پر ٹیکس استثنیٰ ہے، جبکہ دیگر دودھ سے بنی مصنوعات پر صرف 5 فیصد جی ایس ٹی عائد کی جاتی ہے۔ آسٹریلیا میں بھی دودھ سمیت تمام بنیادی اشیائے خورونوش کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ کینیڈا میں دودھ پر کوئی جی ایس ٹی نہیں لگتی، اور بنگلہ دیش میں بھی اسے وی اے ٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ سری لنکا میں پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آتی رہتی ہے، لیکن عمومی طور پر دودھ پر کم یا کوئی ٹیکس نہیں لگتا۔


سعودی عرب میں اگرچہ دودھ پر 5 سے 15 فیصد وی اے ٹی VAT کا نظام موجود ہے، لیکن اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے اکثر غذا بنانے والی کمپنیوں کو سبسڈی یا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ یہ سعودی حکومت کی ایک اسمارٹ حکمتِ عملی ہے۔ وہ ان کمپنیوں کو سبسڈی فراہم کرتی ہے جو دودھ اور ڈیری مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ اس طرح، ایک طرف ریاست کو ٹیکس ریونیو بھی حاصل ہوتا ہے، اور دوسری طرف صارفین پر قیمتوں کا اضافی بوجھ نہیں پڑتا۔ اس بیلنسنگ ایکٹ کی بدولت نہ عوام متاثر ہوتے ہیں، نہ ہی صنعت۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی ماڈل کو کئی ماہرینِ معیشت ایک کامیاب اور قابلِ تقلید مثال سمجھتے ہیں۔


اس کے برعکس، پاکستان میں پیک شدہ دودھ پر اچانک 18 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ، عالمی مالیاتی پالیسیوں سے ایک نمایاں اعدادیاتی انحراف (Statistical Anomaly) ہے، کیونکہ یہ عالمی رجحانات سے بالکل مختلف اور غذائی پالیسیوں کے برعکس ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک دودھ کو ایک بنیادی غذائی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اسے زیرو ریٹڈ یا کم شرح ٹیکس (0 سے 7 فیصد) کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں اتنی بلند شرحِ ٹیکس نہ صرف عالمی رجحانات سے ہٹ کر ہے بلکہ اس سے نہ عوام کو سستا اور محفوظ دودھ مل رہا ہے، نہ ہی مقامی ڈیری انڈسٹری ترقی کر پا رہی ہے۔


24 جون 2025 کو پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (PDA) کے نمائندگان نے ایک پریس بریفنگ منعقد کی، جس میں پیک شدہ دودھ پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔ اس بریفنگ میں PDA کے چیئرمین عثمان ظہیر احمد، سی ای او ڈاکٹر شہزاد امین، ٹیٹرا پیک کے نور آفتاب، فریزلینڈ کمپینا کے عمران حسین اور ڈاکٹر محمد ناصر، اور نیسلے پاکستان کی عاتکہ میر خان شامل تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکس کی وجہ سے دودھ کی فروخت میں 20 فیصد کمی، 500 دودھ جمع کرنے والے مراکز کی بندش، اور سالانہ 1.3 بلین روپے کی سرمایہ کاری کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے GST کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی، جس سے دودھ کی قیمت 50 روپے فی لیٹر کم ہو سکتی ہے اور صنعت کی بحالی ممکن ہے۔


پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے ماہرین نے فنانس ایکٹ 2024 کے تحت پیک شدہ دودھ پر 18 فیصد GST کو صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیا، جو عالمی ڈیری پالیسیوں سے انحراف ہے۔ اس ٹیکس سے دودھ کی خریداری میں 20 فیصد کمی، 500 کلیکشن مراکز کی بندش، اور 35 فیصد کسانوں کا غیر رسمی دودھ کی فراہمی کی طرف رجوع ہوا۔ اس سے سرمایہ کاری، تکنیکی ترقی، اور ویلیو چین انضمام متاثر ہوا ہے۔


ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد مُلک میں پیک شدہ دودھ 280 سے بڑھ کر 350 روپے فی لیٹر ہو گیا، جس سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید متاثر ہوئی۔ نیلسن کنزیومر انڈیکس کے مطابق 66 فیصد آبادی کی آمدن 50,000 روپے سے کم ہے، جس کے باعث صارفین غیر محفوظ کھلے دودھ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے اس رجحان کو صحت، غذائی تحفظ اور نیوٹریشن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔


پاکستان کا Regulated ڈیری شعبہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد شدید بحران کا شکار ہے۔ سیلز میں 20 فیصد کمی، 500 مراکز کی بندش اور 1.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری معطل ہو چکی ہے۔ افرادی قوت میں بھی 20 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ پراسیسنگ پلانٹس آدھی صلاحیت پر کام کر رہے ہیں جبکہ نئی مصنوعات کی ترقی رک گئی ہے۔ برآمدی امکانات، جو سالانہ 30 ارب ڈالر تک کے تھے، بھی غیر یقینی کا شکار ہو چکے ہیں۔


پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (PDA) کے مطابق، 18 فیصد جی ایس ٹی نے صارفین کو پیک شدہ دودھ سے دور کر کے غیر رسمی گوالہ نیٹ ورک کو فروغ دیا ہے، جس کی سالانہ آمدنی 1,319 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ نتیجتاً نہ صرف ریاست ٹیکس ریونیو سے محروم ہو رہی ہے بلکہ صارفین غیر محفوظ دودھ کے خطرے سے دوچار ہیں۔ PDA نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ جی ایس ٹی 5 فیصد تک لایا جائے، جس سے نہ صرف صنعتی سرگرمی بحال ہو گی بلکہ فروخت اور محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ ادارے نے وعدہ کیا ہے کہ اگر یہ مطالبہ منظور ہو جائے، تو دودھ کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر کمی کی جائے گی، جسے انہوں نے “win-win” حکمتِ عملی قرار دیا ہے۔


پاکستان ڈیری ملک ایسوسی ایشن (PDA) کی پریس کانفرنس کے بعد حکومت کو ایک متوازن، شفاف اور عوام دوست مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔


پیک شدہ دودھ، جو کہ سائنسی طور پر پیسچرائزڈ یا UHT طریقے سے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے، صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اس پر بھاری ٹیکس عائد کرنا نہ صرف صارفین کو غیر محفوظ کھلے دودھ کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ دیہی معیشت، کسانوں کی آمدنی اور فوڈ سیکیورٹی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔


اگر اس ٹیکس کا مقصد محض ریونیو اکٹھا کرنا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان؟ کیونکہ جب باضابطہ دودھ کی فروخت گھٹ گئی، مراکز بند ہوئے، اور صارفین غیر رسمی سپلائی چین کی طرف لوٹ آئے، تو نہ ریاست کو مکمل ریونیو ملا، نہ صحت محفوظ رہی، اور نہ دیہی معیشت کو استحکام ملا۔


دنیا کے بیشتر مہذب ممالک میں دودھ یا تو زیرو ریٹڈ ہے یا زیادہ سے زیادہ 5 سے 7 فیصد ٹیکس کی حد میں آتا ہے۔ پاکستان میں 18 فیصد جی ایس ٹی ایک غیر معمولی اعدادیاتی انحراف ہے، جو فوری نظرثانی کا متقاضی ہے۔


پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کا تجویز کردہ حل، جی ایس ٹی کو 5 فیصد تک لانا نہ صرف صنعتی بحالی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ قیمتوں میں کمی اور محفوظ دودھ کی فراہمی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ یہ عمل تین سال کے اندر مالی لحاظ سے (Revenue Neutrality) یعنی آمدن میں توازن حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے، جس میں ریاست کو طویل المدتی نقصان کے بجائے پائیدار فائدہ ہوگا۔


لہٰذا، یہ معاملہ محض ٹیکس کی شرح کا نہیں بلکہ صحت، غذائیت، اور عوامی بہبود کا بھی ہے اور حکومت سے توقع ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں اسے اسی وژن کے تحت دیکھے گی۔

1
0
Views
26
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟