Home
پبلشنگ کی تاریخ: 22 مئی, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 2 گھنٹے 58 منٹ (اب تک 63 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

🎖 فِیلڈ مارشل کا عُہدہ

اگر آرمی چیف کو فِیلڈ مارشل کا رینک دیا جا سکتا ہے تو پاکستان ایئر فورس کے سَربراہ کو “مارشل آف دی ایئر فورس” کا اِعزازی رینک دینا بھی وقت کا تقاضا ہے کہ حالیہ جنگ میں پاکستان کی فتح کا فیصلہ کُن اور مرکزی کردار فِضائیہ نے ہی ادا کیا ہے۔

پاکستان کا سرکاری میڈیا، نَجی نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم آج اِس خبر سے اَٹا پڑا ہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے 20 مئی 2025 کو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فِیلڈ مارشل کے عُہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی ہے۔ آپ پاکستان کے دوسرے فِیلڈ مارشل ہیں (دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بھی فِیلڈ مارشل کا اِعزاز صرف دو فوجی جرنیلوں کو دیا گیا: ایک سام مانِک شا کو 1973 میں 1971 کی جنگ میں فتح پر، اور دوسرے کے ایم کاریاپّا کو 1986 میں اُن کی بطور پہلے کمانڈر اِن چیف طویل خدمات کے اعتراف میں)

یہاں مَیں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ “فِیلڈ مارشل” درحقیقت کوئی ترقی پانے والا معمول کا فوجی عُہدہ نہیں بلکہ ایک اِعزازی خِطاب (honorary title) ہوتا ہے، جو کسی فوجی اَفسر کو اُس کی غیر معمولی خدمات، جنگی حکمتِ عملی یا قومی دفاع میں نمایاں کردار کے اعتراف میں سربراہِ مملکت کی جانب سے وَدیعت کیا جاتا ہے۔ البتہ فِیلڈ مارشل کا اِعزازی خِطاب مِلنے کے بعد اُس کی فوجی وردی پر پانچ ستارے (Five Stars) ضرور لگائے جاتے ہیں، جو کہ ایک “ceremonial insignia” ہوتا ہے اور دُنیا بھر میں سب سے اعلیٰ فوجی رینک کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر ایک جنرل کے کندھوں پر چار ستارے ہوتے ہیں، لیکن فِیلڈ مارشل کو ایک اِضافی پانچواں ستارہ عطا کیا جاتا ہے۔

فِیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے پہلے فِیلڈ مارشل جنرل ایوب خان تھے، جنہوں نے ازخود 1959 میں فِیلڈ مارشل کا اِعزازی رینک حاصل کیا۔ انہوں نے 1958 میں مارشل لا نافذ کر کے اقتدار سنبھالا اور اگلے سال اپنے آپ کو فِیلڈ مارشل قرار دے دیا۔ جنرل ایوب کو یہ رینک کسی جنگی فتح یا عسکری کامیابی کی بنیاد پر نہیں دیا گیا تھا۔ مورخین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، فِیلڈ مارشل کا رینک ایوب خان نے خود اپنے لیے منظور کیا۔ یہ کسی آزاد فوجی بورڈ، کابینہ یا پارلیمانی منظوری کے ذریعے نہیں آیا۔ کوئی سرکاری یا تاریخی ریکارڈ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ یہ رینک کسی ادارے نے اُن کے لیے تجویز کیا ہو۔ بلکہ معروف مؤرخ عائشہ جلال، صحافی زاہد حسین، اور جنرل (ر) اَسد دُرّانی جیسے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اِعزاز ایوب خان نے اپنی حُکمرانی کے جواز اور شبیہ کو مضبوط بنانے کے لیے خود حاصل کیا۔

پاکستان میں فِیلڈ مارشل کا رینک، جو جنرل ایوب خان کے سیاسی استعمال کے باعث اپنی وَقعت اور اعتبار کھو بیٹھا تھا، جنرل عاصم منیر نے اپنی پیشہ ورانہ بصیرت اور اصولی قیادت کے ذریعے دوبارہ اُسے معتبر بنا دیا ہے۔ بلا شبہ وہ اِس اِعزاز کے حقیقی معنوں میں زیادہ اہل ہیں، کیونکہ اُنہیں فِیلڈ مارشل کے رینک پر ترقی دینے کی سفارش وفاقی کابینہ نے کی۔ 20 مئی 2025 کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں اِس منظوری کے بعد صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے یہ اِعزازی رینک اُنہیں عطا کیا۔ یہ فیصلہ “آپریشن بنیان مرصوص” میں اُن کی اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی اور قیادت کے اعتراف میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے حالیہ بھارت کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہماری پارلیمنٹ زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاک فِضائیہ کے سَربراہ کو بھی “مارشل آف دی ایئر فورس” کا اِعزازی رینک دیتی، کیونکہ حالیہ جنگ میں اصل کارنامہ تو پاکستان ایئر فورس نے انجام دیا ہے۔ دُشمن کے جدید طیارے مار گرانا، فِضائی حدود کا کامیاب دفاع، اور عالمی سطح پر پاکستان کا وَقار بلند کرنا ایسی خدمات ہیں جو کسی اعلیٰ ترین اِعزاز کی مستحق ہیں۔ اِس جنگ میں پاکستان کی فیصلہ کُن فتح کا سہرا بلاشبہ فِضائیہ کے سر ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے دُشمن کے جدید ترین ہتھیار، بالخصوص فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کے خلاف نہایت جُرأت مندانہ اور کامیاب حکمتِ عملی اپنائی۔ دُشمن کو فِضائی محاذ پر جس واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اُس نے دُنیا بھر کے دفاعی تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان ایئر فورس کی کارکردگی کو “tactically superior” اور “digitally precise” قرار دیا۔ پاکستان کے “ایئر اسپیس ڈیفنس نیٹ ورک” اور “الیکٹرانک وارفیئر” کی کامیاب کارکردگی نے بھارت کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اِن آپریشنز میں جس مہارت سے دُشمن کے اسٹریٹیجک اہداف کو روکا گیا اور جوابی کارروائیاں کی گئیں، وہ جدید فِضائی جنگ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے PAF کی کارکردگی کو غیر معمولی اور خطے میں فیصلہ کُن طاقت قرار دیا، جس سے پاکستان کی فِضائی برتری اور تکنیکی مہارت کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ تو ایسے مواقع پر اگر زمینی افواج کی قیادت کو فِیلڈ مارشل کا اِعزاز دیا گیا ہے، تو پاکستان ایئر فورس کے سَربراہ کو “مارشل آف دی ایئر فورس” کا اِعزازی رینک دینا ہماری قومی حَمِیّت کا تقاضا ہے۔

حالیہ جنگ میں پاکستان کی فیصلہ کُن فتح کا سہرا بلاشبہ فِضائیہ کے سر ہے۔ ایئر فورس نے دُشمن کے اہم عسکری اور مواصلاتی اِنفرااسٹرکچر کو بے مثال مہارت اور بروقت حکمتِ عملی سے نشانہ بنایا، جس سے دُشمن کی پیش قدمی رُک گئی اور زمینی محاذ پر دباؤ کم ہوا۔ نہ صرف پاکستانی حدود کا دفاع مضبوطی سے کیا گیا بلکہ دُشمن کے اندر گہرائی میں جا کر اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا — جو جدید ایویانکس، اِنٹیلیجنس اور تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دُنیا بھر میں اِس وقت دفاعی تجزیہ کار اور عسکری ماہرین پاکستان ایئر فورس کی صلاحیتوں کو سراہ رہے ہیں۔ بین الاقوامی عسکری فورمز اور جرائد میں پاکستان کی فِضائی برتری کو جدید ترین فِضائی جنگی ماڈلز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر “اسٹیلتھ آپریشنز”، “ڈیزائنٹڈ ٹارگٹ ایکوزیشن” اور “الیکٹرانک وارفیئر سپریمیسی” جیسے میدانوں میں پاکستان ایئر فورس نے ایسی مہارت دِکھائی جو صرف چند ترقی یافتہ فِضائی افواج کے پاس ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر آرمی چیف کو فِیلڈ مارشل کا اِعزاز دیا جا سکتا ہے، تو پاکستان ایئر فورس کے سَربراہ کو “مارشل آف دی ایئر فورس” کا رینک دینا، نہ صرف اُن کی قیادت کا اعتراف ہو گا، بلکہ قومی اداروں کے درمیان عزت، توازن اور انصاف کا عملی مظاہرہ بھی۔

0
0
Views
63
1

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟