Home
پبلشنگ کی تاریخ: 1 نومبر, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 1 گھنٹے 14 منٹ (اب تک 10 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ماڈل ٹاؤن لاہور جب انگریز گورنر پنجاب سر ایڈورڈ مکلیگن کو مقامی باشندوں کو رہائشی منصوبے کے لیے سرکاری زمین دینے کی پاداش میں برطانیہ واپس بلا لیا گیا۔ تاریخ کے اوراق سے ایک تلخ یاد


ماڈل ٹاؤن لاہور کے قیام کے لیے رکھ کوٹ لکھپت کی زمین کا ملنا صرف اور صرف گورنر پنجاب سر ایڈورڈ ڈگلس مکلیگن (Sir Edward Douglas Maclagan) کی منظوری سے ہی ممکن تھا۔
لیکن اس وقت اُن کی حکومت ماڈل ٹاؤن کے منصوبے کے حوالے سے شدید سیاسی دباؤ اور میڈیا کی تنقید کی زد میں تھی۔
اس کا اندازہ لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ The Civil and Military Gazette کی 12 مئی 1922 کی اشاعت سے ہوتا ہے۔ یہ اخبار اُس وقت لاہور کا بااثر انگریزی روزنامہ تھا، جس کے قارئین میں تاجِ برطانیہ کے نمائندے، برطانوی افسران، اعلیٰ سرکاری طبقات اور مقامی تعلیم یافتہ افراد شامل تھے۔ اس نے اپنے اداریے بعنوان “Crown Lands and Forest Belts Around Lahore” میں ماڈل ٹاؤن کے مجوزہ علاقے پر ماحولیاتی اور انتظامی نوعیت کے تحفظات ظاہر کیے۔ اخبار نے خبردار کیا کہ رکھ کوٹ لکھپت اور کاہنہ کے گرد پھیلے جنگلات لاہور کے ماحولیاتی توازن کے لیے نہایت اہم ہیں، اور اگر یہ زمینیں رہائشی منصوبوں کے لیے الاٹ کر دی گئیں تو شہر کی قدرتی فضا اور سبز علاقہ متاثر ہو گا۔ یہ ماحولیاتی اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحریری تنبیہ تھی، جس میں شہری توسیع اور قدرتی ماحول کے درمیان توازن پر زور دیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے اس اداریے کو رد کرنے کے بجائے باضابطہ طور پر Registrar of Co-operative Societies, Punjab – File No. MT/1923/Co-op/12 میں بطور حوالہ درج کیا اور اپنی کارروائی میں یہ نوٹ شامل کیا کہ:
“Public opinion expressed in the local English press regarding the forest lands near Kot Lakhpat has been noted by the Government.”
یہ سرکاری اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور کی شہری منصوبہ بندی کے ابتدائی دور میں میڈیا کی رائے کو رسمی طور پر تسلیم کیا گیا اور اسے حکومتی فیصلوں کا حصہ بنایا گیا۔
گورنر پنجاب سر مکلیگن ایک نہایت ذہین، معاملہ فہم اور دوراندیش انگریز افسر تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے اس معاملے سے وہ کیسے نمٹیں گے۔ 
آج بھی لاہور میں اے جی آفس سے نیلا گنبد تک جانے والی سڑک اُنہی کے نام پر Maclagan Road کہلاتی ہے۔ وہ برصغیر میں کوآپریٹو نظام کے پرجوش حامیوں میں سے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ تعاون کی بنیاد پر بننے والی سوسائٹیز  شہری منصوبہ بندی، سماجی بہبود اور خود انحصاری کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
کہنے کو اُن کا تعلق انگریز اشرافیہ سے تھا، لیکن درحقیقت وہ ایک “پکے دیسی انگریز” تھے۔ وہ ہر اُس کام میں دلچسپی لیتے جس سے یہاں کے مقامی افراد کا فائدہ ہو۔ اُن کی پیدائش متحدہ پنجاب کے پہاڑی مقام مری میں ہوئی تھی، جب اُن کے والد جنرل رابرٹ مکلیگن پنجاب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینئر تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے بعد ازاں اسی محکمے میں سر گنگا رام نے خدمات انجام دیں اور وہ پنجاب کے پہلے مقامی ایگزیکٹو انجینئر تھے، جنہیں بعد میں برطانوی حکومت نے ‘سر’ کے خطاب سے بھی نوازا۔
سر  مکلیگن کی اہلیہ، لیڈی مکلیگن، نے لاہور میں خواتین کی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، اور انہی کے نام پر قائم لیڈی مکلیگن سکول آج بھی انارکلی لاج روڈ پر  خواتین کی تعلیم کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔
سر مکلیگن پنجاب یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے، اور اسی عرصے میں انہوں نے لاہور میں انجینئرنگ تعلیم کے لیے Maclagan School of Engineering قائم کیا، جسے اب University of Engineering and Technology (UET) کہا جاتا ہے۔
میں نے لاہور پر اپنی کتاب  Lahore: A Century in Reflection (1925–2025) میں سر مکلیگن کی خدمات اور شخصیت پر پورا ایک باب مختص کیا ہے، کیونکہ میری رائے میں اگر لارڈ ایڈورڈ مکلیگن اُس وقت پنجاب کے گورنر نہ ہوتے تو ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی منظوری ممکن ہی نہیں تھی۔
سر مکلیگن ایک غیر معمولی شخصیت تھے، جو اگرچہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھے، لیکن اُن کے اندر ایک “دیسی ہندوستانی” بھی موجود تھا۔ وہ اس سرزمین سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ وہ یہاں پیدا ہوئے، یہیں پلے بڑھے، اور یہاں کی مقامی معاشرت و طرزِ زندگی کو براہِ راست سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے ہندوستانی سماج کو محض محکوم قوم نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی شہری تہذیب کے طور پر دیکھا۔ اُنہوں نے نوآبادیاتی حکومت کے سخت اصولوں اور ضابطوں کے باوجود Cooperative Societies Act 1912 کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا اور شہری منصوبہ بندی میں تعاون اور اشتراک کے اصول متعارف کروائے۔
ماڈل ٹاؤن لاہور کی تاریخ کو مکمل سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سا معجزہ تھا جس کے نتیجے میں خود برطانوی حکومت نے ایک ایسی زمین، جو Crown Land یا State Land کے زمرے میں آتی تھی، یعنی خالصتاً سرکاری ملکیت تھی، اُسے لاہور کے مقامی باشندوں کو رہائشی مقاصد کے لیے الاٹ کر دیا (بیشک پوری قیمت وصول کر کے ہی سہی)۔
یہ بات غیر معمولی اس لیے بھی تھی کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں ایسی زمینیں عموماً صرف فوجی چھاؤنیوں، سرکاری دفاتر، ریلویز یا زرعی تجرباتی فارموں کے لیے مخصوص ہوتی تھیں۔ کسی بھی نجی یا شہری بستی کو Reserved Forest یا Crown Property کے دائرے سے نکال کر عوامی رہائش کے لیے دینا اُس وقت کے سخت قانونی ضابطوں کے خلاف تصور کیا جاتا تھا۔
جب برطانوی سلطنت نے British India پر اپنا قبضہ مضبوط کرنا شروع کیا تو اُنہیں احساس ہوا کہ یہاں حکومت برقرار رکھنے کے لیے صرف انتظامی کنٹرول کافی نہیں بلکہ فوجی موجودگی بھی ضروری ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے پورے برصغیر میں مختلف جگہوں پر فوجی چھاؤنیاں (Military Barracks) قائم کیں، جیسے لاہور، پشاور، دہلی، کانپور، ممبئی، کلکتہ اور مدراس میں۔
برطانوی فوجیوں کو یہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہنے کی اجازت تھی، جس سے یہ چھاؤنیاں آہستہ آہستہ آباد رہائشی بستیاں بن گئیں۔ یہ بستیاں Cantonments کہلاتی تھیں، اور اپنی خوبصورتی، ترتیب اور منصوبہ بندی کے لحاظ سے اُس زمانے کی سب سے منظم اور جدید بستیاں سمجھی جاتی تھیں۔ چوڑی درختوں والی سڑکیں، سرسبز میدان، کشادہ بنگلے، چرچ، کلب اور اسکول ان کی خاص پہچان تھے۔ لاہور، پشاور اور راولپنڈی کی پرانی چھاؤنیاں آج بھی اُس برطانوی نظم و جمال کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
ان کنٹونمنٹس کے بعد انگریزوں نے اپنے سول افسروں، ججوں اور اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیے الگ رہائشی علاقے بنائے جنہیں Civil Lines کہا گیا۔ یہ علاقے اس دور کے جدید ترین رہائشی مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہاں چوڑی سڑکیں، سایہ دار درخت، سرسبز باغ اور کشادہ بنگلوں کی قطاریں ہوتی تھیں۔ انگریزوں نے ان علاقوں کو جان بوجھ کر شہر کے شور اور گنجان آبادی سے دور رکھا تاکہ ایک peaceful and hygienic environment حاصل کیا جا سکے۔ لاہور میں Civil Lines کا قیام بھی اسی دور میں ہوا، بالکل اسی طرز پر جیسے دہلی اور الہٰ آباد میں ہوا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جب انگریزوں کے کنٹونمنٹ اور سول لائنز جیسے نئے طرزِ رہائش کے علاقے وجود میں آئے تو انہیں دیکھ کر لاہور کے مقامی پڑھے لکھے طبقے، خصوصاً نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال جنم لینے لگا۔ وہ جب گورنمنٹ کالج لاہور، فارمین کرسچین کالج، پنجاب یونیورسٹی یا علیگڑھ یونیورسٹی جیسے اداروں میں انگریز طلبہ اور پروفیسروں کے ساتھ علمی یا سماجی میل جول کے مواقع پاتے تو اُنہیں بار بار یہ احساس گھیر لیتا کہ علم و قابلیت میں ہم کسی طور انگریز قوم سے کم نہیں، مگر طرزِ زندگی اور رہائشی معیار میں ہمارے اور اُن کے درمیان زمین آسمان کا فرق کیوں ہے؟
ہمارے شہروں کی گلیاں تنگ، شور و غل سے بھری اور غیر منظم کیوں ہیں؟ ہمارے گھر غیر ہوادار اور سورج کی روشنی سے عاری کیوں ہیں؟ جبکہ انگریز اپنی planned communities میں صاف ستھرے، منظم اور پُرسکون روشن ماحول میں رہتے ہیں۔
اسی احساس نے ایک نئے خواب کو جنم دیا کہ مقامی لوگ بھی ایسا ہی منظم، سرسبز اور صحت مند رہائشی علاقہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس خواب کو عملی شکل دینے والا پہلا شخص لاہور کا ایک بصیرت افروز قانون دان، دیوان کھیم چند تھا۔ وہ قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن گئے، جہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک نیا تصور بھی اپنے ساتھ لائے،  گارڈن ٹاؤن کا تصور۔ یہ وہی تصور تھا جو اُس وقت یورپ میں رائج Garden City Movement یا ایبنیزر ہاورڈ (Ebenezer Howard)  کی شہری منصوبہ بندی کی تحریک سے متاثر تھا، جس کا مقصد صنعتی شہروں کے شور و غل سے ہٹ کر فطرت سے ہم آہنگ، منظم اور صحت مند رہائشی بستیاں قائم کرنا تھا۔
اور یہی وہ تصور تھا جس نے Model Town Lahore کی بنیاد رکھی۔ یہ محض ایک رہائشی منصوبہ نہیں بلکہ برصغیر میں ایک Cooperative Housing Movement کا آغاز تھا- ایک ایسی تحریک جس نے پہلی بار ثابت کیا کہ مقامی لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت انگریزوں کی طرح جدید شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) کر سکتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں۔
( یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم” سے اخذ شدہ ہے۔
یہ کتاب بہت جلد رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہو گی۔ اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا، یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔
ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہ کرم رابطہ کریں:
mail@syedshayan.com

1
0
Views
10
1

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟