Home
پبلشنگ کی تاریخ: 2 نومبر, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 13 منٹ 36 سیکنڈ (اب تک 10 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

جب انگریز گورنر نے ماڈل ٹاؤن لاہور کے قیام کے لیے سرکاری زمین 400 روپے فی ایکڑ (پچاس روپے فی کنال) کے حساب سے سوسائٹی کو فروخت کی اجازت دی


ماڈل ٹاؤن لاہور کی کہانی صرف ایک رہائشی منصوبے کی داستان ہی نہیں، بلکہ اُس دور کی افسر شاہی کے پیچیدہ نظام کی ایک جھلک بھی ہے۔ 1921 میں جب دیوان کھیم چند اور سر گنگا رام نے رکھ کوٹ لکھپت کے جنگل کے علاقے میں گارڈن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کی درخواست پنجاب حکومت کو  پیش کی، تو یہ درخواست پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک نیا اور غیر معمولی تجربہ بن گئی۔
یہ درخواست رجسٹرار کواپریٹو سے نکل کر ڈپٹی کمشنر لاہور، چیف کمشنر پنجاب، محکمہ مال، محکمہ جنگلات، محکمہ بلدیات، لاہور میونسپل کمیٹی، سروئیر جنرل آف انڈیا، چیف انجینئر پنجاب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، ریلوے کنٹریکٹنگ آفس، اور گورنر اِن کونسل پنجاب سے گزرتی ہوئی آخرکار وائسراۓ آف انڈیا اور گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم ڈیپارٹمنٹ دہلی تک جا پہنچی۔ 
ہر ادارے نے اپنے اپنے اعتراضات، تحفظات اور یادداشتیں اس درخواست پر درج کیں۔  کہیں زمین کے ماحولیاتی پہلو پر، کہیں دفاعی حدود پر، اور کہیں انتظامی اختیارات پر۔
اس دوران  مختلف محکموں میں انتظامی کارروائیاں جاری رہیں، جن میں زمین کی حدبندی، پیمائش، مالی حسابات، اقساط کی ادائیگی، تجاوزات اور سروے کی اصلاحات جیسے معاملات شامل تھے۔ یہ درخواست  بالخصوص پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ، کوآپریٹو سوسائٹیز ڈیپارٹمنٹ  اور فنانس اینڈ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان چار سال سے زائد عرصہ ایک محکمے سے دوسرے محکمے سالوں گردش کرتی رہی۔ 
بعد ازاں ملٹری کمانڈ ہیڈکوارٹر لاہور اور فوجی لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ بورڈ نے بھی اس درخواست پر اعتراضات دائر کیے، کیونکہ یہ علاقہ اُس وقت تک کینٹونمنٹ اور سول حدود کا درمیانی بفر زون بن چکا تھا۔
آج بھی سول سیکریٹیریٹ میں پنجاب آرکائیو  ڈیپارٹمنٹ میں موجود ماڈل ٹاؤن لاہور سے متعلقہ فائلوں کی دھندلی سیاہی میں وہ عہد سانس لیتا محسوس ہوتا ہے جب ایک خواب، ان فائلوں سے باہر آ کر لاہور کے نقشے پر ایک زندہ بستی میں ڈھل گیا تھا۔
واقعہ یہ ہے کہ جب 1921 میں ماڈل ٹاؤن کواپریٹو سوسائٹی کے بانیان لالہ دیوان کھیم چند اور سر گنگا رام نے پنجاب حکومت سے “رکھ کوٹ لکھپت”  کی جنگل اور شکار گاہ کے لئیے مختص زمین خریدنے کی باقاعدہ درخواست دی، تو یہ معاملہ رجسٹرار کواپریٹو  سوسائیٹیز پنجاب کے ذریعے آگے بڑھا۔ 
ابتدائی طور پر  محکمہ جنگلات نے اس پر اعتراض کیا کہ  رکھ کوٹ لکھپت کی زمین Reserved Forest Land ہے، لہٰذا اسے کسی نجی یا شہری مقصد کے لیے  منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ جنگلات نے اپنے جواب میں لکھا:
‏“The land in question being part of the notified reserve of Rakh Kot Lakhpat cannot be alienated without the sanction of His Excellency the Governor-in-Council.”
( زیرِ بحث زمین چونکہ رکھ کوٹ لکھپت کے محفوظ جنگل (Notified Reserve) کا حصہ ہے، اس لیے عزت مآب گورنر اِن کونسل کی منظوری کے بغیر اسے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔)
یہ  وہ پیراگراف تھا  جس نے پہلی بار قانونی طور پر گورنر اِن کونسل کی منظوری کو ناگزیر قرار دیا۔ 
اس پر رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز نے ایک تفصیلی نوٹ کے ساتھ فائل پنجاب سیکریٹریٹ کو ارسال کی، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ماڈل ٹاؤن کا منصوبہ کوآپریٹو ہاؤسنگ موومنٹ کے اصولوں کے عین مطابق ہے، اور حکومتِ پنجاب خود اس طرز کے منصوبوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
اس نوٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سوسائٹی کا مقصد محض زمین کی خرید و فروخت نہیں بلکہ ایک منظم، اجتماعی رہائشی منصوبہ قائم کرنا ہے جو تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے لیے شہری بہبود کی نئی مثال بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں Co-operative Movement شروع کی تھی تاکہ دیہی قرضوں، زراعت، اور عوامی بہبود کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکے۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اجتماعی طور پر سرمایہ، محنت اور وسائل اکٹھے کر کے اپنے مالی، تجارتی یا رہائشی مسائل خود حل کریں۔ اور سرکارِ برطانیہ کے بجائے عوام اپنی تنظیموں کے ذریعے ترقی کے عمل میں شریک ہوں۔
رجسٹرار کواپریٹو  کی یہ فائل جون 1922 کے آغاز میں گورنر پنجاب  سر ایڈورڈ  مکلیگن کے سامنے پیش کی گئی۔ جس پر انہوں نے فائل پر ایک واضح اور تاریخی نوٹ تحریر کیا۔
‏This proposal appears to be in harmony with the broader cooperative housing movement being encouraged by the Government. The land may be transferred to the Model Town Cooperative Society, subject to conditions of full payment and compliance with civic planning norms
(یہ تجویز اُس وسیع تر کوآپریٹو ہاؤسنگ تحریک سے ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے جسے حکومت فروغ دے رہی ہے۔
زمین ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو سوسائٹی کے نام منتقل کی جا سکتی ہے، بشرطِیکہ ادائیگی مکمل ہو اور شہری منصوبہ بندی کے قواعد کی پابندی کی جائے)
یہ نوٹ بعد ازاں “Minute of the Governor-in-Council, Punjab” (جون 1922) میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ اس کے بعد پوری فائل محکمۂ مالیات و جنگلات (Finance and Forest Department) کو واپس بھیجی گئی تاکہ زمین کی الاٹمنٹ کے مالی و قانونی پہلو مکمل کیے جا سکیں۔
اور یہ وہ مرحلہ تھا جس نے ماڈل ٹاؤن لاہور کے قیام کی راہ میں موجود آخری انتظامی رکاوٹ کو بھی ختم کر دیا۔
اس مرحلے پر حکومتِ پنجاب نے فائل کو عملدرآمدی کارروائی (Execution Stage) میں داخل کیا، جہاں تین بنیادی اقدامات انجام دیے گئے۔
1. مالی منظوری (Financial Sanction):
فنانس ڈیپارٹمنٹ نے زمین کی قیمت کے تعین کے لیے ریونیو ڈیپارٹمٹ  سے تصدیق طلب کی۔ فنانس، فاریسٹ اور ریونیو محکموں کے درمیان مشاورت کے بعد یہ طے پایا کہ چونکہ زمین جنگل کی اور غیر آباد ہے، اس لیے اس کی مناسب قیمت فی ایکڑ 400 روپے (پچاس روپے کنال) مقرر کی جائے۔ یہی نرخ گورنر اِن کونسل نے “reasonable” قرار دیتے ہوئے منظور کر لیے
2.  زمینی جنگل کے ریکارڈ کی تبدیلی (Forest Alienation Record):
فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے زمین کے اس حصے کو، جو بطور Reserved Forest نوٹیفائیڈ تھا، عارضی طور پر “de-reserved” قرار دیا تاکہ وہاں شہری منصوبہ تعمیر کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی رکھ کوٹ لکھپت  کی زمین کو بطور Revenue Estate دوبارہ درج کیا گیا تاکہ آئندہ انتقال اور ٹیکس ریکارڈ واضح طور پر الگ رکھا جا سکے۔
3. انتقالِ ملکیت اور سروے (Mutation and Demarcation):
متعلقہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت دی گئی کہ وہ زمین کی پیمائش (demarcation) اور انتقال (mutation) مکمل کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ پیمائش اور نشاندہی کا یہ عمل 1923 کے اوائل تک مکمل ہوا، 
اگرچہ جون 1922 سے لے کر 1923 کے اوائل تک تمام سرکاری مراحل بالترتیب مکمل ہوئے لیکن  گورنر اِن کونسل، پنجاب کی منظوری جون 1922 میں ہی سامنے آ جاتی ہے۔  جس میں زمین کی الاٹمنٹ کو باضابطہ طور پر “cleared and sanctioned” قرار دیا گیا۔ 
زمین کی الاٹمنٹ سے متعلقہ  تمام معاملات واضح ہو چکے تھے، ماڈل ٹاؤن کے اربابِ اختیار اور حکومتِ پنجاب کے مابین تمام امور طے پا گئے تھے کہ ایک اور  نیا مسئلہ سر اُٹھا لیتا ہے  
ہُوا یہ کہ لاہور کے فوجی اور سول حکام ، خصوصاً لاہور کینٹونمنٹ بورڈ اور چیف کمشنر پنجاب کے دفاتر  نے جب یہ خبر سنی کہ قصور روڈ پر ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم قائم کی جا رہی ہے، تو انہوں نے اعتراض اُٹھایا کہ یہ علاقہ کینٹونمنٹ اور سول حدود (limits) کے درمیان واقع ایک حساس بفر زون ہے، ان  کے خدشات میں یہ بات شامل تھی کہ اگر یہاں رہائشی سوسائٹی قائم ہو گئی تو مستقبل میں انتظامی، بلدیاتی اور دفاعی حدود کے تعین پر تنازعات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ 
گورنر مکلیگن نے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متعلقہ محکموں سے مشاورت کی، اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ماڈل ٹاؤن جیسی کوآپریٹو بستی دراصل فوجی و سول حدود کے درمیان تنازع نہیں بلکہ توازن پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سوسائٹی کو قانونی دائرے میں منظم کیا جائے، اس کی رجسٹریشن، بلدیاتی نگرانی، اور تعمیراتی ضوابط کو واضح رکھا جائے، تو یہ علاقہ لاہور کی شہری توسیع کے لیے ایک منصوبہ بند عبوری خطہ (Planned Transitional Zone) بن سکتا ہے، نہ کہ کسی خطرے کا باعث۔
واقعہ یہ ہے کہ جن دنوں ماڈل ٹاؤن کواپریٹو سوساہٹی اپنے تشکیلی مراحل سے گزر رہی تھی اس سے کچھ عرصہ قبل ہی پہلی جنگِ عظیم (1914–1918) کا خاتمہ ہوا تھا اور لاہور تیزی سے ایک نئے عہد میں داخل ہو رہا تھا۔
جنگ کے فوراً بعد برطانوی حکومت نے لاہور کی چھاؤنی کو بڑھاتے ہوئے والٹن کے علاقے تک توسیع دی تو والٹن کا علاقہ فوجی اور شہری ہوا بازی، دونوں کے لیے مرکزی اہمیت اختیار کر گیا۔ یہاں ایک نیا ہوائی اڈہ (Aerodrome)  بھی تعمیر کیا گیا  جس کی تعمیر تقریباً 1919 میں شروع ہوئی اور 1920 میں اس ایئرپورٹ  سے پروازیں بھی شروع کر دی گئیں۔
قصور روڈ کے ایک طرف ایئرپورٹ قائم ہو رہا تھا اور دوسری طرف ہندوستان کی پہلی جدید شہری بستی (ماڈل ٹاؤن لاہور )کی بنیاد رکھی جانے کی تیاریاں جا رہی تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب لاہور کی شناخت، اس کا جغرافیہ اور اس کی فضا سب بدل رہے تھے۔ جنوب میں جہاں کبھی  رکھ اور بھابھڑا کے قدیم جنگلات تھے، وہاں اب ایئرڈوم اور رہائشی آبادیاں ابھر رہی تھیں۔ یوں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کا لاہور دراصل ایک نئے عہد کا لاہور بننے جا رہا تھا 
گورنر سر ایڈورڈ مکلیگن شہر میں ہونے والی ان تبدیلیوں سے خوب واقف تھے چنانچہ انہوں نے نے فوجی و سول محکموں کے اعتراضات کو قانونی، ماحولیاتی اور انتظامی دلائل  سے نمٹنے کی کوشش کی۔ جس پر گورنر کو فوجی اور سول محکموں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ 
‏جون 1922 میں پیش کی گئی فائل میں چیف کمشنر اور ملٹری حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ رکھ کوٹ لکھپت کا علاقہ کینٹونمنٹ اور سول حدود کے درمیان ایک حساس زون ہے، اور یہاں شہری آبادی بسانا آئندہ انتظامی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم گورنر اِن کونسل نے طویل خط و کتابت اور محکماتی مشاورت کے بعد ان اعتراضات کو غیر مؤثر قرار دے کر رد کر دیا  اور  رکھ کوٹ لکھپت کی زمین کو ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو سوسائٹی کے لیے “cleared and sanctioned” کر دیا  
اس منظوری کے فوراً بعد گورنر اِن کونسل پنجاب نے ماڈل ٹاؤن کی فائل وائسرائے آف انڈیا لارڈ ریڈنگ کے ملاحظے کے لیے دہلی روانہ کر دی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ رپورٹ جون 1922 میں “Alienation of Crown Land near Kot Lakhpat, Lahore District” کے عنوان سے حکومتِ ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد مرکزی حکومت کو پنجاب میں کواپریٹو ہاؤسنگ منصوبوں کی پیش رفت اور تجرباتی نوعیت سے آگاہ رکھنا تھا۔
لندن میں محفوظ India Office Records (IOR/L/PJ/6/1922) کے مطابق وائسرائے لارڈ ریڈنگ، جو اس وقت برصغیر میں برطانوی حکومت کے سربراہ تھے، نے اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور سراہا۔
اس کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ گورنر پنجاب کے حکم سے رکھ کوٹ لکھپت کے علاقے سے تقریباً دو سو ایکڑ زمین 400 روپے فی ایکڑ (یعنی 50 روپے فی کنال) کے حساب سے سوسائٹی کے نام منتقل کی گئی۔ یہ وہ پہلی الاٹمنٹ تھی جس نے ماڈل ٹاؤن کے قیام کو باقاعدہ قانونی اور مالی حیثیت عطا کی 
یہ وہ اصل انگریزی نوٹ ہے جو ریکارڈ میں درج ہے اور جس سے ماڈل ٹاؤن کی پہلی الاٹمنٹ کی منظوری ظاہر ہوتی ہے۔
‏“The first tract of land comprising approximately 200 acres was transferred to the Model Town Cooperative Society under the approval of His Excellency the Governor-in-Council, Punjab, June 1922. The rate of Rs. 400 per acre may be accepted as reasonable considering the undeveloped and forested nature of the land near Kot Lakhpat.”
ماڈل ٹاؤن لاہور سے متعلق معلومات بیشتر  پنجاب آرکائیوز، لاہور  (Punjab Archives) اولڈ سیکریٹریٹ بلڈنگ میں محفوظ ہیں جو صوبۂ پنجاب کے تاریخی سرکاری ریکارڈ کا مرکزی ذخیرہ ہے۔
جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں

2
0
Views
10
5

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟