Home
پبلشنگ کی تاریخ: 6 اگست, 2026
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 0 منٹ 0 سیکنڈ (اب تک 0 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ماڈل ٹاؤن لاہور- 100 سال پہلے 
قسط: 4
آج، 2025 میں، جب ہم ماڈل ٹاؤن سے چئیرنگ کراس، پنجاب اسمبلی یا ایچی سن کالج جانا چاہیں،
تو صرف دس منٹ میں لاہور کی نئی کشادہ سڑکوں اور انڈر پاسز سے ہوتے ہوئے ماڈرن ہائبرڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔
لیکن ٹھیک سو سال پہلے، 1925 میں،
یہی فاصلہ ایک خواب تھا۔
ایسا خواب جسے اُس زمانے کے لوگ
نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے،
نہ اپنے ذہنوں میں سوچ سکتے تھے۔
ایسا تصور جس کا اُس زمانے کے لوگوں کے لیے سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔
محض ایک سو سال پہلے اگر کوئی شخص چیئرنگ کراس، پنجاب اسمبلی یا ایچی سن کالج سے نئی قائم ہونے والی بستی ماڈل ٹاؤن کے علاقے تک جانا چاہتا، تو اُسے دو ہی راستوں میں سے ایک اختیار کرنا پڑتا تھا۔
پہلا راستہ مزنگ کے ذریعے پرانے قصور روڈ کا تھا، جو بعد میں فیروزپور روڈ کہلایا۔ اُس زمانے میں یہ سڑک ایک دیہی راستہ (cart track) تھی اور پتھر کی سولنگ سے بنی ہوئی تھی۔ لاہور ڈسٹرکٹ گزٹیئر 1916 کے مطابق “Kasur Road has been metalled up to Ichhra and Sattukatla villages,” یعنی اچھرہ اور ستو کٹل تک یہ سڑک پتھروں سے پختہ کی گئی تھی مگر اس پر ابھی کولتار نہیں ڈالا گیا تھا۔ پنجاب پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کی 1922 کی رپورٹ میں بھی یہی درج ہے کہ “Ferozepore Road section from Lahore to Sattukatla is of stone soling construction, intended for later tar-surfacing.”
چنانچہ اُس زمانے میں لوگ تانگے، بیل گاڑی یا گھوڑے پر جس راستے سے ماڈل ٹاؤن کی سمت جاتے، وہ دراصل پتھریلی سولنگ والی سڑک تھی جس پر بارش کے دنوں میں پھسلن اور عام دنوں میں دھول اڑتی رہتی تھی۔
مزنگ سے آگے بڑھنے پر اچھرہ آتا تھا،  ایک چھوٹا مگر پُر رونق قصبہ، جسے اُس وقت کے پنجاب گزٹ میں semi-urban hamlet کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ گزٹ کے مطابق یہاں غلہ، تیل، کپڑا اور مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت عام تھی، اور مقامی لوگ اس مقام پر اجناس اور برتنوں کے ہفتہ وار لگنے والے بازار کو “اچھرہ منڈی” کہا کرتے تھے۔
اچھرہ سے آگے راستہ ستو کٹل، کالا کھتری اور چوپڑہ کے گاؤں سے گزرتا ہوا رکھ کوٹ لکھپت تک پہنچتا تھا۔ اس پورے سفر میں دائیں بائیں کھیت، درختوں کی قطاریں اور نہری کھالوں کے کنارے بیل گاڑیاں اور کسانوں کی مصروف زندگی دکھائی دیتی۔ موسم اور راستے کی حالت کے لحاظ سے چیئرنگ کراس سے ستو کٹل تک پہنچنے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگتا۔ یہی وہ راستہ تھا جس کے اختتام پر 1923 میں ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین منتخب کی گئی اور لاہور کی شہری توسیع کا نیا دور شروع ہوا۔
اور اگر کوئی شخص چیئرنگ کراس، پنجاب اسمبلی یا ایچی سن کالج سے ماڈل ٹاؤن کے علاقے تک جانا چاہتا، تو اُسے ایک طویل اور دشوار راستہ اختیار کرنا پڑتا۔ ایچی سن کالج کے عقب میں نئی کھودی جانے والی دوآبہ باری نہر کے کنارے ایک ناہموار اور گھاس سے اٹی ہوئی کچی پگڈنڈی گزرتی تھی۔ لوگ بیل گاڑیوں یا گھوڑوں پر آہستہ آہستہ اسی راستے سے چلتے ہوئے قصور روڈ تک پہنچتے، اور پھر وہاں سے الٹے ہاتھ مڑ کر ستو کٹل گاؤں کی سمت جاتے۔
1917 میں جب پہلی بار نہر میں پانی چھوڑا گیا تو اس کے کنارے بنے چھوٹے پلوں اور گزرگاہوں کو مضبوط کیا جانے لگا تاکہ بیل گاڑیاں، تانگے اور گھوڑے بآسانی گزر سکیں۔ نہر کے بہاؤ نے اردگرد کی زمینوں کو زرخیز کر دیا، کھیتوں میں سبزہ بڑھا، اور راستے کے دونوں جانب شیشم اور پیپل کے درختوں کی قطاریں لگا دی گئیں۔
اس زمانے میں لاہور سے نکلنے والے اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور میں 19 مئی 1923 کو ایک خبر شائع ہوئی جس میں شہر کے جنوب مغربی حصے میں ایک نئی رہائشی بستی کے قیام کے منصوبے کا ذکر کیا گیا۔ خبر کے مطابق لاہور کے مضافات میں نہر کے قریب ایک “co-operative housing colony” کے قیام کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
اس خبر نے بھی اس علاقے کو خاص اہمیت دی، اور رفتہ رفتہ یہاں زمین کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ لوگوں نے اس راستے پر کھیت خریدنا، تعمیرات کی باتیں کرنا اور مستقل رہائش کے خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ یوں لاہور کی شہری توسیع کی سمت بدلنے لگی۔
جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں ‏

0
0
Views
0
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟