تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 0 منٹ 0 سیکنڈ (اب تک 0 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
ماڈل ٹاؤن لاہور ، ایک تاریخی غلط فہمی کی تصحیح
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ لاہور کا قیمتی رہائشی علاقہ ماڈل ٹاؤن سر گنگا رام نے ڈیزائن کیا تھا، لیکن تاریخی ریکارڈ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
تاریخی اور تحقیقی طور پر یہ بات مصدقہ ہے کہ سر گنگا رام بنیادی طور پر سول انجینئر تھے، پیشہ ور آرکیٹیکٹ یا ٹاؤن پلانر نہیں۔ انہوں نے تھامسن کالج آف انجینئرنگ، روڑکی (Thomason College of Civil Engineering, Roorkee) سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں وہ پنجاب کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) میں ملازم ہوئے اور ترقی کرتے کرتے ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے تک جا پہنچے تھے۔
اب آئیے اصل حقائق کی جانب، ماڈل ٹاؤن لاہور برٹش انڈیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مکمل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ماڈل تھا، جس نے مقامی انڈین بورژوازی (اہلِ ثروت متوسط طبقہ) جن میں ڈاکٹر، وکیل، انجینئر اور تاجر شامل تھے، کو نئے رہائشی تصورات سے روشناس کرایا اور ایک منظم، صحت مند اور خوشحال طرزِ رہائش کی عملی شکل پیش کی۔
درحقیقت ماڈل ٹاؤن لاہور کی منصوبہ بندی دیوان کھیم چند نے اُس دور کی گارڈن سٹی موومنٹ کے اصولوں کے مطابق کی تھی، جو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں انگلستان میں شہری منصوبہ بندی کا ایک جدید اور انسان دوست ماڈل سمجھا جاتا تھا۔
دیوان کھیم چند نے اس نظریے کو برصغیر کی مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال کر لاہور میں ایک متوازن، منظم اور خوشحال رہائشی بستی کی بنیاد رکھی، اور اسی بنیاد پر انہیں ماڈل ٹاؤن کا بانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
دیوان کھیم چند اندرونِ بھاٹی گیٹ پیدا ہوئے۔ بعد ازاں قانون کی تعلیم (Bar-at-Law) کے لیے تقریباً 1910 تا 1915 کے درمیان وہ انگلستان چلے گئے، جہاں انہوں نے گارڈن سٹی موومنٹ (Garden City Movement) کے بانی ایبنیزر ہاورڈ (Ebenezer Howard) کے نظریات کا مطالعہ کیا۔
ایبنیزر ہاورڈ نے اس خیال کو پیش کیا تھا کہ بڑے شہروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بھیڑ، صنعتی آلودگی اور گنجان آبادیوں سے بچنے کے لیے ایسی نئی بستیوں کی ضرورت ہے جو سبزہ زاروں، باغات اور کشادہ مقامات سے مزین ہوں اور ساتھ ہی رہائشی سہولتیں بھی فراہم کریں۔
اپنے خیال کو عملی شکل دینے کے لیے ایبنیزر ہاورڈ نے اپنی کتاب Garden Cities of To-morrow (1898) میں ایک خاکہ بھی دیا، جسے انہوں نے The Three Magnets اور Garden City Diagram کے نام سے پیش کیا۔
اس خاکے کے ذریعے وہ دکھانا چاہتے تھے کہ ایک نیا شہر کس طرح متوازن انداز میں بنایا جا سکتا ہے:
• درمیان میں سنٹرل پارک
• اس کے گرد سرکاری عمارتیں اور کمیونٹی کلب
• پھر رہائشی علاقے
• پھر گرین بیلٹ اور کھیت
• اور سب سے باہر صنعت اور ریلوے لائن
ان کے اس ماڈل کو سامنے رکھ کر عملی تجربات ہوئے، جیسے لیچ ورتھ (Letchworth Garden City, 1903) اور ویلن (Welwyn Garden City, 1920) انگلینڈ میں بنائی گئیں، اور اسی طرز پر برطانوی ہند کے شہر لاہور میں ماڈل ٹاؤن کی داغ بیل پڑی۔
ایبنیزر ہاورڈ نے اپنی کتاب میں جو خاکہ دیا، وہ ایک مکمل دائرہ نما آبادی کی صورت میں تھا۔ اس میں اندرونی دائرے کو مرکزی پارک اور سبزہ زار کے لیے مختص کیا گیا تھا، جس کے گرد سرکاری دفاتر اور کمیونٹی ہال رکھے گئے۔ اس کے بعد دوسرے دائرے میں رہائشی علاقے، پھر تیسرے حصے میں زرعی زمین اور گرین بیلٹ تاکہ خوراک اور وسائل کی فراہمی یقینی ہو۔ یہ منصوبہ دراصل اس خیال پر مبنی تھا کہ شہری اور دیہی سہولتیں ایک ہی جگہ متوازن انداز میں میسر ہوں۔
دیوان کھیم چند نے گارڈن سٹی موومنٹ کے زیرِ اثر جس بستی کو آباد کرنے کا خواب دیکھا، ان کی پیش کردہ رہائشی تجاویز پر مبنی پمفلٹ کے بعد ماڈل ٹاؤن سوسائٹی باضابطہ طور پر 1921 میں قائم ہوئی۔
دیوان کھیم چند کے پمفلٹ میں رہائشی بستی کا تصور یہ تھا کہ ہر گھر الگ قطعہ زمین پر ہو، ذاتی باغ یا سبزہ زار کے ساتھ۔ کشادہ گلیاں، کھلے میدان اور پارکس روشنی اور ہوا کی فراہمی کو یقینی بناتے، جو قدیم لاہور کی تنگ اور بے ہنگم گلیوں کے برعکس ایک نیا تصور تھا۔
انہوں نے تجویز دی کہ پانی، نکاسی، صفائی اور بجلی جیسی سہولتیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے فراہم کی جائیں اور بستی کو منافع کے بجائے تعاون کی بنیاد پر بنایا جائے تاکہ متوسط طبقہ آسان اقساط پر معیاری رہائش حاصل کر سکے۔ یہ منصوبہ محض رہائشی اسکیم نہیں بلکہ متوسط طبقے کے لیے ایک سماجی تجربہ بھی تھا، جس کی وجہ سے ماڈل ٹاؤن کو ایک کوآپریٹو سوسائٹی (Co-operative Society) کی شکل دی گئی۔
ماڈل ٹاؤن کے قیام سے پہلے لاہور کی رہائشی تصویر بالکل مختلف تھی۔ پرانے شہر کی تنگ اور گھماؤ دار گلیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے گھر کھڑے ہوتے، جن کی دیواریں مانندِ حصار ایک دوسرے سے جمی ہوئی دکھائی دیتیں۔ اندر قدم رکھتے ہی ایک کھلا صحن ملتا جہاں روشنی اور ہوا کا گزر ممکن ہوتا اور یہی صحن گھریلو زندگی کا اصل مرکز بنتا۔ گردونواح کے دیہاتوں میں مکانات زیادہ تر کچی مٹی اور اینٹ سے تعمیر کیے جاتے، جبکہ شہروں میں پکی اینٹ اور چونے کا چلن زیادہ تھا۔ امراء اپنی بڑی حویلیوں اور کوٹھیوں میں آباد تھے، جہاں چوڑے دالان اور وسیع آنگن ہوتے، لیکن عام لوگ انہی تنگ گلیوں کے چھوٹے گھروں میں گزر بسر کرتے۔ پانی، نکاسی اور صفائی جیسی بنیادی سہولتیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے بجائے ہر گھر کے ذاتی انتظام پر منحصر تھیں، یوں روزمرہ کی زندگی سہولت سے زیادہ محنت اور برداشت کا تقاضا کرتی تھی۔
یہ بات بالکل درست اور تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کا ابتدائی نقشہ (layout plan) نند لال ورما (N L Verma) نامی ماہرِ نقشہ نویس اور انجینئر نے تیار کیا، جن کا تعلق الہ آباد (موجودہ پریاگ راج، بھارت) سے تھا۔
آپ ہی وہ منصوبہ ساز (Town Planner/Architect) تھے جنہیں 1922 میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور نے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ذمہ داری دی۔ جب ڈیزائن مقابلہ ہوا اور 32 خاکے جمع ہوئے تو کمیٹی نے کسی ایک کو منظور نہیں کیا بلکہ چار بہترین پلان منتخب کیے۔ پھر فیصلہ ہوا کہ ان چاروں کے نمایاں نکات یکجا کر کے ایک ماسٹر پلان بنایا جائے، اور یہ ذمہ داری این۔ ایل۔ ورما (الہ آباد، برٹش انڈیا) کو سونپی گئی۔ یوں ماڈل ٹاؤن لاہور کے ماسٹر پلان کی تیاری میں ان کی حیثیت کلیدی رہی۔
اس لیے تاریخی طور پر انہیں ماڈل ٹاؤن کا اولین آرکیٹیکٹ اور پلانر تسلیم کیا جاتا ہے۔لیکن حالات آگے چل کر جیسے جیسے تبدیل ہوتے جاتے ہیں ماڈل ٹاؤن کی ڈیزائننگ اور پلاننگ بھی ویسے ویسے بدلتی جاتی ہے جس کا ذکر آئندہ کے ابواب میں آئے گا۔
باقی آئندہ قسط 2 میں۔