Home
پبلشنگ کی تاریخ: 22 جون, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 3 منٹ 56 سیکنڈ (اب تک 24 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ایرانی تنصیبات پر حملہ- جنگِ عظیم اوّل و دوم سے ہم نے کیا سیکھا؟

 

ایران پر امریکی حملے کے بعد ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی جنگِ عظیم اوّل اور دوم کی تباہ کاریوں سے کچھ سیکھا؟ اور اگر ہٹلر جیسا شخص کروڑوں انسانوں کے قتل کا باعث بنا، تو کیا اس نے کبھی کوئی پچھتاوا ظاہر کیا؟ کیا اس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی اعترافِ جرم یا ندامت کے آثار دکھائے؟

 

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایڈولف ہٹلر نے کبھی اپنے جرائم کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کی آخری سیاسی وصیت، جو اُس نے خودکشی سے ایک دن پہلے 29 اپریل 1945 کو تحریر کروائی، اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔ اُس نے نہ صرف جنگ کا الزام یہودیوں پر ڈالا بلکہ اپنی نسل پرستانہ سوچ کا دفاع کرتے ہوئے جرمن قوم کو ہدایت دی کہ وہ “نسل اور قوم کے تحفظ” کی خاطر لڑتے رہیں۔ اُس نے لاکھوں بے گناہوں کی ہلاکت، ہولوکاسٹ اور یورپ کی تباہی کا کوئی ذکر نہیں کیا، نہ کوئی پچھتاوا، نہ کوئی شرمندگی۔ اُس کی زبان اور ذہن آخری لمحے تک نفرت سے بھرے رہے۔

 

ماہرینِ نفسیات نے ہٹلر کی شخصیت کا گہرا تجزیہ کیا۔ امریکی فوج کے مشیرِ نفسیات، ڈاکٹر ہنری مرے، نے 1943 میں اُس کا ایک تفصیلی Psychological Profile تیار کیا، جس میں وہ ہٹلر کو ایک نرگسی (narcissistic)، وہمی (paranoid) اور اخلاقی لحاظ سے معذور شخص قرار دیتے ہیں۔ اُس کے اندر نہ رحم تھا، نہ ندامت، اور نہ احساسِ جرم۔ اُس نے خود کو قانون سے بالا تر سمجھا اور دنیا کو بچانے والا نجات دہندہ (savior) تصور کیا۔

 

البتہ، ہٹلر کے کچھ قریبی ساتھی ایسے تھے جنہوں نے بعد ازاں اپنے اعمال پر ندامت کا اظہار کیا۔ ہینس فرینک، جو پولینڈ میں نازی حکومت کا سربراہ تھا، نے نیورمبرگ کی عدالت میں کہا: “ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل پر مجھے شرم ہے، میں خدا اور انسانیت سے معافی مانگتا ہوں۔” اُسے سزائے موت دی گئی، مگر وہ اپنی غلطی تسلیم کر گیا۔ آلبرٹ سپئیر، ہٹلر کا وزیرِ اسلحہ، واحد اعلیٰ نازی افسر تھا جس نے کتاب میں اعتراف کیا کہ اُس نے جان بوجھ کر سچ کو نظرانداز کیا۔ اُس نے لکھا، “میں نے سب کچھ جانتے ہوئے آنکھیں بند رکھیں، یہ میرا سب سے بڑا جرم ہے۔”

 

رودولف ہیس، جو آشوٹز کیمپ کا کمانڈر تھا، اُس نے بھی اپنی گرفتاری کے بعد کہا: “میں نے لاکھوں انسانوں کو گیس چیمبرز میں مرنے کے لیے بھیجا۔ اب میں ساری عمر ان کی چیخیں سنتا رہوں گا۔” اسے بھی بعد میں پھانسی دی گئی۔
 

یہ تمام شواہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہٹلر ایک ایسا شخص تھا جو اخلاقی پچھتاوے کے دائرے سے ہی باہر تھا۔ اس کے برعکس، اُس کے کچھ پیروکاروں نے آخرکار انسانیت کا بوجھ محسوس کیا اور اعتراف کیا۔ ہٹلر کے برعکس، ان افراد نے تاریخ کے سامنے سر جھکایا، اگرچہ بہت دیر سے۔

 

سوال یہ نہیں کہ ہٹلر نے ندامت ظاہر کی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آج، جب تاریخ ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح موجود ہے، کیا ہم نے کچھ سیکھا؟ یا ہم بھی وہی سبق جان بوجھ کر دفن کر چکے ہیں؟ آج کی جنگیں، ریاستی تشدد، اور اجتماعی خاموشی ہمیں پھر اسی دہانے پر لے جا رہی ہیں، جہاں سے ہم ایک بار نہیں، دو بار گزر چکے ہیں۔ کیا ہم واقعی سیکھنا چاہتے ہیں، یا تاریخ کو صرف ایک سنی سنائی کہانی سمجھ کر بھول جانا چاہتے ہیں؟

1
0
Views
24
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟