کیا حکومت کو معلوم ہے کہ پاکستان میں سرکاری گاڑیوں پر روزانہ کتنا پٹرول خرچ ہو رہا ہے؟
🔸 حکومت نے خطے میں جنگی صورتحال اور تیل کی ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر ایک قومی فیول کنزرویشن ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ اس پلان میں یہ تجاویز شامل ہیں کہ سرکاری اور نجی دفاتر میں Work from Home یعنی گھروں سے کام کو فروغ دیا جائے اور تعلیمی اداروں میں Distance Learning یعنی آن لائن تعلیم متعارف کرائی جا سکتی ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔ لیکن سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں کمی کے بارے میں کوئی واضح اور جامع پالیسی سامنے نہیں آئی، جو اس وقت ایندھن کے استعمال کا بڑا سبب ہے۔
پاکستان میں سرکاری گاڑیوں پر خرچ ہونے والے پٹرول اور ڈیزل کا کوئی ایک مرکزی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں کیونکہ وفاق، صوبے، پولیس، عدلیہ، فوجی ادارے اور مختلف خود مختار اتھارٹیز اپنے اپنے بجٹ کے تحت گاڑیاں چلاتی ہیں۔ تاہم سرکاری آڈٹ رپورٹس، پارلیمانی سوالات، میڈیا تحقیقات اور Right of Information کے قوانین کے تحت حاصل ہونے والی معلومات کو جمع کیا جائے تو اس خرچ کا ایک معقول اندازہ سامنے آ جاتا ہے۔
🔸 آج پاکستان میں اندازاً تقریباً دو لاکھ سرکاری گاڑیاں مختلف اداروں کے پاس ہیں۔ ان میں (ماسوا افواج پاکستان) وفاقی وزارتوں، صوبائی محکموں، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مختلف سرکاری کارپوریشنوں کی گاڑیاں شامل ہیں۔
سرکاری قواعد اور مختلف محکموں میں دی جانے والی ایندھن کی سہولت کو دیکھا جائے تو بعض سرکاری گاڑیوں کے لیے ماہانہ تقریباً 200 سے 250 لیٹر کی حد مقرر ہوتی ہے، جبکہ فیلڈ افسران، پولیس اور بعض دیگر اداروں میں یہ مقدار 400 سے 500 لیٹر یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر ان مختلف حدوں کو سامنے رکھ کر روزانہ استعمال کا اندازہ لگایا جائے تو ایک سرکاری گاڑی تقریباً 7 سے 14 لیٹر پٹرول یا ڈیزل استعمال کرتی ہے۔ اس طرح کم اور زیادہ دونوں سطحوں کو ملا کر دیکھا جائے تو ایک سرکاری گاڑی کا اوسط روزانہ استعمال تقریباً 10 سے 11 لیٹر بنتا ہے۔
اگر اسی اوسط کو بنیاد بنا کر دو لاکھ سرکاری گاڑیوں کا اندازہ لگایا جائے تو پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی مد میں روزانہ تقریباً 20 لاکھ سے 28 لاکھ لیٹر کے درمیان پٹرول یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے، جسے سادہ انداز میں ہم تقریباً 25 لاکھ لیٹر روزانہ تصور کر سکتے ہیں۔
🔸 پاکستان میں اگر واقعی سرکاری گاڑیوں میں روزانہ تقریباً 25 لاکھ لیٹر پٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے اور اوسط قیمت 330 روپے فی لیٹر فرض کی جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ روزانہ خرچ تقریباً 82 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتا ہے۔ اگر اسی شرح کو ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ خرچ تقریباً 24 ارب 75 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ سالانہ بنیاد پر صرف سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پر خرچ ہونے والی رقم تقریباً 300 ارب روپے کے قریب بن جاتی ہے، جو قومی خزانے پر یقیناً آج کے زمانے میں ایک نمایاں مالی بوجھ ہے۔
یاد رہے کہ یہ اندازہ صرف سویلین سرکاری گاڑیوں کا ہے۔ اگر نیم سرکاری اداروں، خود مختار کارپوریشنوں، اتھارٹیز اور بڑے انفراسٹرکچر اداروں کی گاڑیاں بھی شامل کر لی جائیں تو یہ خرچ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض معاشی اندازوں کے مطابق مکمل سرکاری نظام میں ایندھن کا مجموعی خرچ سالانہ تقریباً 350 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر سرکاری افسران کو گاڑی کے ساتھ ڈرائیور، مرمت اور پٹرول سب سرکاری خزانے سے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ مکمل ٹرانسپورٹ نظام کا خرچ اس سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے۔ جب اس میں گاڑیوں کی خریداری، مرمت، ٹائر اور ڈرائیوروں کی تنخواہیں بھی شامل کی جائیں تو سرکاری ٹرانسپورٹ سسٹم کا مجموعی خرچ سالانہ چار سو سے ساڑھے چار سو ارب روپے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
🔸 پاکستانی سول سروس افسران کو فراہم کی جانے والی سرکاری ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی سہولیات:
پاکستان میں سرکاری افسران کو گاڑی اور پٹرول کی سہولت عہدے اور ادارے کے مطابق فراہم کی جاتی ہے، اور یہ سہولت طویل عرصے سے بیوروکریسی کو دی جانے والی مراعات کا ایک مستقل حصہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں مختلف گریڈز کے افسران کے لیے الگ الگ قواعد اور حدود مقرر کی گئی ہیں۔
وفاقی بیوروکریسی میں گریڈ 22 کے افسران، جیسے وفاقی سیکرٹری یا چیف سیکرٹری، عموماً سرکاری ڈرائیور کے ساتھ ایک یا زیادہ اوقات ایک سے زیادہ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے پٹرول کی ماہانہ حد عموماً 600 سے 700 لیٹر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض مخصوص عہدوں پر اس سے زیادہ استعمال بھی دیکھا گیا ہے، جبکہ بعض گاڑیوں کے لیے واضح حد مقرر نہیں ہوتی۔ ان کو خرچ Actual Consumption کی بنیاد پر دیا جاتا ہے (یعنی لا محدود استعمال)۔
گریڈ 21 اور گریڈ 20 کے افسران کو عموماً ایک سرکاری گاڑی فراہم کی جاتی ہے اور ان کے لیے پٹرول کی حد تقریباً 200 سے 300 لیٹر ماہانہ کے درمیان رہتی ہے۔ اسی طرح گریڈ 19 اور گریڈ 18 کے افسران کو اکثر ایک گاڑی یا پول کار کی سہولت ملتی ہے اور ان کے لیے پٹرول کی مقدار عام طور پر 150 سے 250 لیٹر ماہانہ کے قریب ہوتی ہے۔
اسی طرح جوڈیشل سروس میں ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ عدلیہ کے جج صاحبان کو بھی سرکاری گاڑی فراہم کی جاتی ہے اور ان کے لیے ایندھن کی ماہانہ حد عموماً تقریباً 300 سے 500 لیٹر کے درمیان رکھی جاتی ہے۔
دستیاب سرکاری دستاویزات اور حالیہ پالیسیوں کے مطابق وفاقی وزراء کو عام طور پر ایک سرکاری گاڑی کے ساتھ تقریباً 400 لیٹر ماہانہ پٹرول کی سہولت ملتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں سیکیورٹی یا سرکاری ڈیوٹی کے لیے اضافی گاڑیاں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ صوبائی سطح پر خصوصاً پنجاب میں وزراء اور اعلیٰ سیاسی عہدیداروں کو ایک سے زیادہ سرکاری گاڑیاں دی جا سکتی ہیں اور ذاتی استعمال کے لیے تقریباً 200 لیٹر ماہانہ پٹرول کی حد رکھی جاتی ہے، جبکہ سرکاری ڈیوٹی کے استعمال کی حد لا محدود ہے۔
اسی طرح ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران جیسے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو بھی سرکاری گاڑی کے ساتھ پٹرول الاؤنس دیا جاتا ہے۔ حالیہ پالیسیوں کے مطابق گریڈ 19 اور 20 کے افسران کو عموماً 250 لیٹر ماہانہ جبکہ گریڈ 18 کے افسران کو تقریباً 175 لیٹر ماہانہ پٹرول دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں جیسے چیف سیکرٹری یا آئی جی پولیس کو دو یا تین سرکاری گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں اور بعض صورتوں میں فی گاڑی تقریباً 800 لیٹر تک پٹرول کی حد مقرر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر ان کے لیے ماہانہ پٹرول کی مقدار 1600 لیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
🔸 پنجاب حکومت نے فروری 2026 میں نئی Motor Transport Policy 2026 نافذ کی جس کے تحت اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے سرکاری گاڑیوں اور ایندھن کی سہولتوں کو نئے سرے سے منظم کیا گیا ہے۔
اس کے تحت چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو تین تین سرکاری گاڑیاں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں ایک 2800cc سرکاری گاڑی، ایک 4700cc ٹورنگ گاڑی اور ایک 1800cc ذاتی استعمال کی گاڑی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2800cc گاڑی کے لیے 500 لیٹر ماہانہ پٹرول جبکہ 1800cc ذاتی استعمال کی گاڑی کے لیے 300 لیٹر ماہانہ پٹرول مقرر کیا گیا، جبکہ 4700cc ٹورنگ گاڑی کے لیے ایندھن actual consumption یعنی حقیقی استعمال کے مطابق فراہم کرنے کی اجازت دی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر کوئی واضح حد مقرر نہیں رکھی گئی۔
اس پالیسی کے تحت اعلیٰ افسران کو ذاتی استعمال کے لیے ایک الگ گاڑی بھی دی جائے گی اور اس کی منطق یہ بیان کی گئی کہ ان کے اہل خانہ کو سبز نمبر پلیٹ والی سرکاری گاڑی کے ساتھ عوامی مقامات پر جانے میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
🔸 بھارت میں سول سروس افسران کو دی جانے والی سرکاری ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی سہولت اور ان پر عائد ذمہ داریوں کا تقابلی جائزہ:
پاکستان میں سرکاری افسران کو جو پٹرول یا گاڑی کی سہولت (Fuel Transport Facility یعنی ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی سرکاری سہولت) دی جاتی ہے، اس کا موازنہ اگر پڑوسی ملک بھارت سے کیا جائے تو کچھ انتہائی دلچسپ زمینی حقائق سامنے آتے ہیں، جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ ملک میں فیڈرل سول سروس کے افسران یعنی وہ افسران جو سی ایس ایس کے ذریعے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، فارن سروس، انکم ٹیکس سروس، کسٹمز اور دیگر مرکزی سروس گروپس میں شامل ہوتے ہیں ان کی مجموعی تعداد تقریباً 6500 کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
اگر اس تناسب کو سادہ انداز میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ پاکستان میں اوسطاً ایک فیڈرل سول سروس افسر پر تقریباً چالیس ہزار شہریوں کے انتظامی معاملات، حکومتی پالیسیوں کے نفاذ اور ریاستی خدمات کی نگرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دوسری طرف بھارت کی آبادی حالیہ تخمینوں کے مطابق تقریباً 148 کروڑ کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا سروسز میں شامل انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس، انڈین پولیس سروس، انڈین فارن سروس اور دیگر سروسز کے فعال افسران کی مجموعی تعداد تقریباً 12500 سمجھی جاتی ہے۔ اس تعداد کو بنیاد بنا کر تناسب نکالا جائے تو بھارت میں ایک اعلیٰ سول سروس افسر کے حصے میں اوسطاً تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار شہریوں کے انتظامی امور، ریاستی خدمات اور حکومتی ذمہ داریوں کا بوجھ آتا ہے۔
لیکن صورتحال اس وقت زیادہ دلچسپ ہو جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بھارت میں فی افسر آبادی کا بوجھ پاکستان کے مقابلے میں تقریباً تین گنا کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں سول سروس افسران کو ٹرانسپورٹ، فیول اور سرکاری گاڑیوں کی سہولت نسبتاً زیادہ فراخ دلی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے۔
بھارت کی وزارت خزانہ (Ministry of Finance) کے Department of Expenditure کی جاری کردہ سرکاری ہدایات کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کی مقدار عہدے کے مطابق محدود رکھی جاتی ہے۔ ان ضوابط کے مطابق صرف انتہائی اعلیٰ درجے کے افسران کو نسبتاً زیادہ ایندھن کی اجازت دی جاتی ہے اور اس کی حد عام طور پر تقریباً 200 سے 250 لیٹر ماہانہ رکھی جاتی ہے، جبکہ نچلے درجے کے افسران کے لیے یہ حد عموماً تقریباً 100 سے 150 لیٹر ماہانہ رکھی جاتی ہے۔
اگر دونوں ملکوں کے سرکاری گاڑیوں کے نظام کو سادہ اعداد میں دیکھا جائے تو تصویر کچھ اس طرح بنتی ہے۔
بھارت میں سرکاری اداروں کی گاڑیوں میں روزانہ اوسطاً تقریباً 56 سے 57 لاکھ لیٹر ایندھن استعمال ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری گاڑیوں میں روزانہ اوسطاً تقریباً 20 سے 25 لاکھ لیٹر کے قریب ایندھن خرچ ہوتا ہے۔
لیکن اصل سوال صرف مقدار کا نہیں بلکہ کارکردگی کا ہے۔ پاکستان کا رقبہ تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے جبکہ بھارت کا رقبہ تقریباً 32 لاکھ 87 ہزار مربع کلومیٹر ہے، یعنی بھارت جغرافیائی لحاظ سے پاکستان سے تقریباً چار گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے باوجود فی گاڑی ایندھن کے استعمال اور سرکاری مراعات کے نظام کو دیکھا جائے تو پاکستان میں سرکاری ٹرانسپورٹ میں ایندھن کا استعمال نسبتاً زیادہ مہنگا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ اگر پاکستان میں روزانہ تقریباً 25 لاکھ لیٹر ایندھن صرف سرکاری گاڑیوں میں استعمال ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سالانہ بنیاد پر تقریباً 300 ارب روپے صرف پٹرول اور ڈیزل پر ناحق خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے کئی بڑے قومی منصوبوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر اسی رقم کا ایک حصہ بھی بچایا جا سکے تو اس سے درجنوں بامقصد منصوبے چلائے جا سکتے ہیں۔
اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سرکاری ٹرانسپورٹ اور سول سروس کے موجودہ نظام کو زیادہ مؤثر، کفایتی اور شفاف بنایا جائے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کو حتمی سرکاری اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ اندازے مختلف پالیسی دستاویزات، آڈٹ رپورٹس اور انتظامی قواعد کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں۔
اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ حکومتی ادارے، محققین اور تھنک ٹینکس اس موضوع پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور سرکاری گاڑیوں اور ایندھن کے استعمال سے متعلق درست اور مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ قیاس آرائیوں کے بجائے واضح اور دو ٹوک حقائق سامنے آ سکیں۔
Right 👉
Good Catch, This will reduce the country losses.