ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جس عمارت میں شہید ہوئے، وہ سابق شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کا ایک محل تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں تہران کے مرکزی علاقے میں واقع بیت رہبری کمپاؤنڈ کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر، ان کے اہل خانہ اور حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداران کو شہید کیا گیا۔ یہ عمارت مستقل طور پر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ اور مرکزی دفتر دونوں کے طور پر استعمال ہو رہی تھی، اور اسلامی انقلاب کے بعد اسے بیت رہبری یا House of Leadership کہا جاتا تھا۔
اس حملے کے بعد بے شمار لوگوں نے انٹرنیٹ پر جا کر اس مقام کو تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں تاریخ کے اس عظیم سانحے نے جنم لیا۔ لوگ اس عمارت کو دیکھنا چاہتے تھے جہاں ایرانی رہبر اعلیٰ نے اپنے دیگر ساتھیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ زندگی کی آخری سانسیں لیں اور دنیا کو الوداع کہا۔
عمارت تو اس میزائلی حملے میں نیست و نابود ہو گئی ہے، لیکن جس جگہ یہ عمارت قائم تھی اس مقام کی تصاویر مختلف ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سیٹلائٹ رپورٹس کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں جہاں اب صرف ملبہ، جھلسے ہوئے درخت اور مٹی کا ایک ہموار چوکور نشان دکھائی دیتا ہے۔ اور یہی وہ مناظر ہیں جو مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ذرائع پر گردش کر رہے ہیں۔
میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے قارئین کو اس تباہ ہونے والی عمارت کی اصل تاریخی حیثیت سے آگاہ کروں اور اس مقام پر قائم اصل عمارت کی تصاویر اور اس کے بارے میں مستند معلومات پڑھنے والوں کے ساتھ شیئر کروں۔
اختصاصی محل اور اس کے اطراف کے علاقے پاستور اسٹریٹ کی چند مزید تاریخی تصاویر بھی دستیاب ہوئی ہیں۔ یہ تصاویر پہلوی دور کے تہران اور شاہی کمپلیکس کی فضا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، اسی لیے انہیں یہاں حوالہ اور تاریخی سیاق کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ وہ عمارت تھی جس نے شاہی ایران بھی دیکھا اور انقلابی ایران بھی۔
شاہی ایران میں یہ عمارت پہلوی خاندان کے پہلے بادشاہ رضا شاہ نے اپنے ولی عہد محمد رضا شاہ پہلوی کی رہائش کے لیے 1938 میں تعمیر کروائی تھی اور اسے “اختصاصی محل” کا نام دیا گیا تھا۔
اسے اختصاصی محل اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ محل ولی عہد محمد رضا شاہ کے نجی استعمال کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ لفظ اختصاصی کا معنیٰ ہے کسی خاص شخص یا مقصد کے لیے مخصوص یا مختص۔
چونکہ یہ محل عام شاہی دربار یا سرکاری محل نہیں تھا بلکہ اسے خاص طور پر ولی عہد محمد رضا شاہ پہلوی کی رہائش کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، اس لیے بڑے شاہ نے اس محل کو اختصاصی کا نام دیا۔ اس وقت رضا شاہ اس کے قریب ہی واقع ماربل پیلس میں رہتے تھے، جو بادشاہ وقت کی سرکاری رہائش گاہ بھی تھی۔
اس کی تعمیر کے لیے رضا شاہ نے 1938 میں دو ہنگری نژاد یہودی آرکیٹکٹس لازلو فشر (Laszlo Fischer) اور فرینس بودنزکی (Ferenc Bodanzky) کی خدمات حاصل کر کے یہ محل ڈیزائن کروایا، جو اس وقت برطانوی مینڈیٹ فلسطین (جو آج اسرائیل ہے) سے تعلق رکھتے تھے۔
فشر اور بودنزکی نے تہران کے نیشنل گارڈن میں وزارت خارجہ کی عمارت بھی ڈیزائن کی تھی، جس سے متاثر ہو کر رضا شاہ نے انہیں اپنے ولی عہد بیٹے کے محل کی تعمیر کے لیے منتخب کیا تاکہ وہ بادشاہ کی رہائش یعنی ماربل پیلس کے ساتھ ولی عہد (کراؤن پرنس) کے محل کو بنا سکیں۔
محمد رضا شاہ پہلوی تقریباً 1938 سے 1941 تک اس محل میں مقیم رہے۔ اس دوران وہ ابھی بادشاہ نہیں تھے بلکہ ولی عہد تھے اور ان کے والد رضا شاہ قریب ہی واقع ماربل پیلس کمپلیکس کے قریب واقع شاہی عمارت میں رہتے تھے۔
محمد رضا شاہ پہلوی کی پہلی شادی 1939 میں مصر کی شہزادی فوزیہ سے ہوئی۔ یہ شادی قاہرہ میں ایک شاندار شاہی تقریب کے طور پر منعقد ہوئی۔ تاہم شادی کے بعد جب ملکہ فوزیہ ایران آئیں تو کچھ عرصے تک وہ محمد رضا شاہ کے ساتھ اختصاصی محل میں ہی رہائش پذیر رہیں۔
1941 میں جب دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر دباؤ ڈالا اور رضا شاہ کو تخت چھوڑ کر ملک بدر ہونا پڑا تو محمد رضا شاہ پہلوی ایران کے بادشاہ بن گئے۔ بادشاہ بننے کے کچھ عرصے بعد وہ سعد آباد کمپلیکس منتقل ہو گئے اور بعد ازاں نیواران پیلس میں اپنی مستقل شاہی رہائش اختیار کر لی۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اختصاصی محل ریاستی تحویل میں آ گیا اور اس کی حیثیت شاہی رہائش گاہ سے بدل کر سرکاری اور انتظامی مقام کی ہو گئی۔ وقت کے ساتھ اس کے اردگرد کا علاقہ ایک وسیع حکومتی کمپلیکس میں تبدیل ہو گیا اور اس کی اصل شاہی شناخت بتدریج ختم ہوتی گئی۔
اگرچہ محل کی اصل تعمیراتی ساخت بڑی حد تک برقرار رکھی گئی، لیکن اندرونی کمروں کی ترتیب میں تبدیلیاں کی گئیں تاکہ انہیں دفتر، میٹنگ روم اور انتظامی کمروں کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمارت کے گرد سیکیورٹی انتظامات کو بھی مضبوط بنایا گیا، نئے گیٹ، حفاظتی باڑیں اور نگرانی کے انتظامات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد کے برسوں میں، خاص طور پر 1981 سے 1989 کے درمیان جب ایران کی نئی اسلامی جمہوریہ مستحکم ہوتی گئی، اس عمارت کو اعلیٰ سطح کی سرکاری اور سفارتی ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
اسی مقام پر مختلف غیر ملکی وفود اور سربراہانِ مملکت کی ملاقاتیں بھی منعقد ہوتی رہیں۔ انہی ملاقاتوں میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا دورہ خاصا یادگار ہے جس کا اظہار بھی انہوں نے کئی جگہوں پر کیا۔
جب وہ تہران آئے اور یہاں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات کی تو اس ملاقات میں یہ بات انہوں نے نمایاں طور پر دیکھی کہ کمرہ نہایت سادہ تھا، سفید دیواریں، محدود فرنیچر، ایک ایرانی پرچم اور امام خمینی کی تصویر کے سوا کوئی نمایاں شاہانہ آرائش موجود نہیں تھی۔ وہ اس مقام پر نظر آنے والی غیر معمولی سادگی سے خاصے متاثر ہوئے۔ ایران دنیا بھر میں اپنے قیمتی اور نفیس قالینوں کے لیے مشہور ہے، مگر اس ملاقات کے کمرے میں مہنگے ایرانی قالینوں کے بجائے زیلو (Zilu) بچھا ہوا تھا۔ (یہ عموماً نیلے سوتی کپاس کے دھاگوں سے بنا ایک سادہ اور ہلکا فرشی بچھاؤ ہوتا ہے جو عام طور پر مساجد، خانقاہوں یا سادہ گھروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔)
تاریخی حوالوں سے یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ یہ محل آیت اللہ علی خامنہ ای کے استعمال میں اس وقت بھی رہا جب وہ ایران کے صدر تھے۔ عمارت کے مرکزی حصے کو صدارتی دفتر اور دفتری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا جہاں حکومتی اجلاس، اہم ملاقاتیں اور انتظامی امور انجام دیے جاتے تھے۔
1989 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد اس مقام کو بیت رہبری یعنی سپریم لیڈر کے مرکزی دفتر میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان کے دفاتر اور رہائش بھی اسی کمپلیکس میں قائم کی گئی، اور وقت کے ساتھ اس کے اردگرد نئی عمارتیں تعمیر ہو کر یہ علاقہ ایک بڑے اور انتہائی محفوظ کمپلیکس میں تبدیل ہو گیا۔
تاہم، 28 فروری 2026 کے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد اس مقام کی صورتحال کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا کہ تہران کے اسی محفوظ کمپلیکس کے بعض حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی سیٹلائٹ تصاویر اور غیر سرکاری رپورٹس میں کمپلیکس کے اندر موجود کچھ عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے آثار دکھائے گئے، تاہم اس مقام کی انتہائی سخت سیکیورٹی کے باعث تاحال تفصیلات واضح طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
لیکن اس سانحے کے بعد جو سوال عالمی سطح پر پیدا ہوا ہے وہ یہ کہ کیا آج کے دور میں کسی بھی عالمی رہنما کی نجی رہائش گاہ واقعی محفوظ ہے؟
کیا اب حکمرانوں کے گھر بھی محفوظ رہے ہیں یا وہ خود جنگ کا ہدف بن چکے ہیں۔ تہران میں رہبرِ ایران کا گھر اپنی سادگی کے باوجود انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں واقع تھا مگر اس کے باوجود جدید عسکری ٹیکنالوجی اور میزائلوں اور ڈرونز کی حکمت عملیوں نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے Targeted Home Attacks کی پالیسی سامنے آئی ہے، جس کے تحت کسی رہنما یا عسکری شخصیت کو براہ راست اس کے گھر یا نجی مقام پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ماضی میں جنگیں روایتی محاذوں پر لڑی جاتی تھیں، مگر اب انٹیلی جنس بیسڈ میزائلز اور خودکش ڈرونز براہ راست رہائشی مقامات تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی خطرے کے مقابلے کے لیے ریاستیں اب Decoy Locations اور Digital Shielding کی حکمت عملیاں اختیار کر رہی ہیں، جن کا مقصد اصل مقام اور نقل و حرکت کو دشمن کی انٹیلی جنس سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
کیا آنے والے وقت میں پاکستان میں بھی حکمرانوں کے دفاتر اور رہائشیں بدستور شہر کے اندر نمایاں اور شاہانہ محلات کی شکل میں قائم رہیں گے یا پھر اعلیٰ قیادت زیر زمین بنکرز اور خفیہ کمانڈ سینٹرز کو ترجیح دیں گی؟