Home
Image

پنجاب حکومت کا تجاوزات کے خلاف آپریشن اور سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں کی مشکلات

ٹھیلے والے، چھابڑی فروش اور اسٹال لگا کر روزگار کمانے والے کہاں جائیں۔

حکومت پہلے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک ہاکرز بازار بناتی اور پھر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتی۔

خُدارا، شہر کی صفائی کے نام پر غریبوں کا صفایا نہ کریں۔


سبزی فروش، پھل فروش، چھابڑی والے، ریڑھی بان، تھڑیے، ٹھیہ دار، خوانچہ فروش، پھیری والے، ہاکرز، فٹ پاتھ پر اسٹال لگانے والے، ٹھیلے پر سامان بیچنے والے، چائے اور پکوان والے، سڑک کنارے ناشتہ، انڈا پراٹھا اور حلوہ پوری لگانے والے، دہی بھلے اور چنا چاٹ لگانے والے، سموسے اور پکوڑے تیار کرنے والے، لڈو پیٹھی اور پٹھورے لگانے والے، شامی برگر، شوارما اور بن کباب بنانے والے، تکہ و کباب فروش، بھنے چنے، مونگ پھلی اور مکئی کے دانے بیچنے والے، جوس اور شربت والے، آئس کریم اور گولا گنڈا فروخت کرنے والے، مٹکہ قلفی والے، کپڑے، جرابیں، کھلونے، ازاربند، غبارے، موبائل کور، چارجر اور دیگر چھوٹا الیکٹرانک سامان بیچنے والے، گھوم گھوم کر کتابیں اور اسٹیشنری بیچنے والے، جوتے پالش کرنے والے، سائیکل یا موٹر سائیکل پر نئے اور استعمال شدہ کپڑے فروخت کرنے والے، موسمی میوہ جات کے خوانچہ فروش، پان اور سگریٹ کے چھوٹے کھوکھے والے، پرانی کتابیں اور میگزین بیچنے والے، چابیاں بنانے والے، گھڑی اور موبائل مرمت کرنے والے فٹ پاتھ کاریگر، بیلٹ اور پرس بیچنے والے، چشمہ فروش، ہاتھ کی بنی چوڑیاں اور مصنوعی زیورات بیچنے والے، چھتری اور برساتی بیچنے والے، رکشہ یا ریڑھی پر سبزی منڈی سے سامان لا کر فروخت کرنے والے، دیہاڑی دار افراد اور دکانوں کے آگے عارضی سیٹ اپ لگا کر کاروبار کرنے والے لوگ ہمارے کلچر اور معیشت کا لازمی حصہ ہیں۔


یہ لوگ ہمارے شہروں کا حُسن بھی ہیں اور رونق بھی۔
یہی کردار ہر بچے کی آنے والی زندگی کی یادوں کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے جیتے جاگتے چہرے ہیں۔ اپنے اپنے محلوں میں یہ کسی سیاستدان، ٹک ٹاکر یا یوٹیوبر سے بھی زیادہ مشہور اور بااثر ہوتے ہیں،
ان میں ہر عمر کے مرد، خواتین اور بچے بلا تفریق ذات و مذہب شامل ہوتے ہیں اور یہی لوگ ایک شہر کا حُسن اور خوبصورتی ہوتے ہیں۔ کوئی شہر دنیا میں ایسا نہیں ہے جو ان کے بغیر آباد رہ سکے اور جو جگہیں ان کے بغیر آباد ہیں وہ قبرستان کہلاتی ہیں۔


دنیا کا کوئی معاشرہ ان کے بغیر نامکمل ہے۔ آپ دنیا کے کامیاب ترین ممالک میں بھی چلے جائیں، یہ لوگ وہاں بھی کسی نہ کسی صورت آپ کو ملیں گے۔ ان کی سرگرمیوں کو معاشیات میں Informal Economy کہا جاتا ہے، اردو میں اس کا ترجمہ غیر رسمی معیشت کیا جا سکتا ہے، جو حکومت کے باقاعدہ ریکارڈ، ٹیکسیشن یا سرکاری اعداد و شمار میں مکمل طور پر شامل نہیں ہوتیں۔


لیکن یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں تقریباً دو ارب افراد اسی غیر رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں، جو عالمی افرادی قوت کا لگ بھگ ساٹھ فیصد بنتے ہیں۔ یعنی عالمی معیشت میں ان کے کردار کو نظر انداز کرنا اب ممکن ہی نہیں رہا۔


ادھر حکومتِ پاکستان کی سربراہی میں چلنے والے ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ PIDE یعنی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹس کے مطابق بھی ہماری شہری لیبر فورس کا تقریباً % 11 حصہ انہی ٹھیلے اور ریڑھی بانوں پر مشتمل ہے، جبکہ مجموعی طور پر % 68 سے % 70 افراد اسی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سڑک کنارے روزی کمانے والوں کی معاشی صورت حال یہ ہے کہ تقریباً % 57 ٹھیلے والے اور خوانچہ فروش خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلدیاتی کارروائیوں کے باعث انہیں بعض اوقات اپنے ماہانہ منافع کے % 200 تک نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ % 98 سے زائد افراد کے پاس باقاعدہ لائسنس موجود نہیں، جس کے باعث وہ ہر وقت بے دخلی کے خطرے میں کام کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہے کہ تعلیمی لحاظ سے % 24 بالکل ان پڑھ، % 44 میٹرک تک اور % 11 انٹرمیڈیٹ یا اس سے زائد تعلیم یافتہ ہیں۔ نقل مکانی کے حوالے سے % 60 افراد دیہات یا چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں آئے، جبکہ % 90 کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔


وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے شہری نظم و نسق، ٹریفک کی روانی اور سڑک کنارے کھڑے ٹھیلوں کے خاتمے کے لیے تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز شروع کیے اور اس مقصد کے لیے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی PERA قائم کی گئی۔ تاہم ان کارروائیوں سے ریڑھی بانوں اور چھوٹے تاجروں کا روزگار براہ راست بری طرح متاثر ہوا اور متعدد افراد کی آمدنی تقریباً ختم ہو گئی۔ اگرچہ حکومت نے متبادل جگہوں اور بحالی کے اقدامات کا اعلان کیا، مگر اس کا عملی مظاہرہ میری نظروں کے سامنے سے نہیں گزرا۔


بین الاقوامی اصول یہ کہتے ہیں کہ پہلے متبادل بندوبست کیا جائے، پھر کارروائی کی جائے۔ اگر ہر یونین کونسل کی سطح پر باقاعدہ ہاکر بازار اور وینٹنگ زون قائم کر دیے جاتے، ریڑھی بانوں کو وہاں جگہ الاٹ کر دی جاتی، انہیں باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے اور ایک واضح فیس نظام بنایا جاتا، تو نہ صرف ان کا روزگار محفوظ رہتا بلکہ حکومت کو باقاعدہ ریونیو بھی حاصل ہوتا۔


دنیا کے کئی شہروں میں سنگا پور اور بنکاک کی طرح وینڈرز کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن نظام ہوتا ہے، شناختی کارڈ کی بنیاد پر ڈیٹا بیس بنایا جاتا ہے، سالانہ یا ماہانہ لائسنس فیس مقرر کی جاتی ہے، اور مخصوص زونز میں کام کی اجازت دی جاتی ہے۔ بعض ممالک میں وقت کی بنیاد پر شیڈول طے کیے جاتے ہیں، مثلاً صبح کے اوقات میں سبزی فروش اور شام میں فوڈ وینڈرز۔


اسی طرح صفائی اور صحت کے اصول بھی طے کیے جاتے ہیں، فوڈ ہینڈلنگ کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے، ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں، اور باقاعدہ انسپیکشن سسٹم موجود ہوتا ہے۔ کئی شہروں میں وینڈرز کے لیے یکساں ڈیزائن کے اسٹال یا ریڑھیاں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ شہر کی خوبصورتی بھی برقرار رہے۔(جیسا کہ لاہور کے کچھ علاقوں میں مجھے یہ دیکھنے کو بھی آیا ہے۔)


مزید یہ کہ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام، بینک اکاؤنٹس کی سہولت، مائیکرو فنانس تک رسائی، سوشل سیکیورٹی اسکیمیں، اور انشورنس جیسے اقدامات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طرح حکومت کو مستقل فیس اور ٹیکس کی صورت میں آمدنی ملتی ہے، جبکہ وینڈرز کو قانونی تحفظ، استحکام اور عزت کے ساتھ روزگار کا حق حاصل ہوتا ہے


وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اقدام شہری نظم و ضبط کے لیے قابلِ تحسین ہے، مگر اگر ترتیب یہ ہوتی کہ پہلے ہاکر بازار اور وینٹنگ زون بنائے جاتے اور بعد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جاتی تو نتائج زیادہ پائیدار اور منصفانہ ہوتے۔


مضمون جاری ہے، بقیہ اگلی قسط میں۔

0
Views
45
3

مزید مضامین

Image

کیا حکومت کو معلوم ہے کہ پاکستان میں سرکاری گاڑیوں پر روزانہ کتنا پٹرول خرچ ہو رہا ہے؟ ▫️ اگر م...

(اردو)
Image

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جس عمارت میں شہید ہوئے، وہ سابق شاہ ایران محمد رضا شاہ ...

(اردو)
Image

دوسری قسط: سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے پانچ سالوں میں کیا کیا؟؟ پانچ سال مکم...

(اردو)
Image

قسط 1: سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ یعنی سی بی ڈی گلبَرگ لاہور کو 26 فروری 2026 کو پانچ سال مکمل ہو گئے۔ ...

(اردو)
Image

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے خواتین کا وراثتی حق ختم کر ...

(اردو)