Home

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 18
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
(بجلی کی چوری اور کنڈا کلچر: پارٹ 2)

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

🔳 جب حکومت ڈاکہ ڈالے تو عوام ‘کنڈا’ کیوں نہ ڈالے؟
لوگوں کا یہ قدرے سخت سوال دراصل اس نفسیاتی کیفیت کا عکاس ہے کہ جب بجلی کے بلوں میں کیپیسٹی چارجز یا فکسڈ چارجز ان کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتے ہیں اور وہ اسے اپنی جیب پر ڈاکہ اور ریاستی ناانصافی سمجھنے لگتے ہیں، تو پھر بعض لوگ بجلی چوری کو احتجاج یا بدلہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا یہ عمل درحقیقت ریاست کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ہے، وہ معاشرہ جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں۔
دنیا بھر کی ریگولیٹر اتھارٹیز نے لائن لاسز کے حوالے سے یہ طے کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تقریباً پانچ فیصد تک نقصانات قابلِ قبول ہوتے ہیں، اور اس سے اوپر اگر لائن لاسز ہوں تو ان کا بوجھ صارف پر نہیں ڈالا جاتا بلکہ متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنی یا محکمہ کے ذمے ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔
بجلی چوری کو ‘لائن لاسز’ کی صورت میں ایک شریف شہری کے بل میں شامل کرنا اس کی عزتِ نفس پر حملے کے مترادف ہے۔ ایسا کرنے سے اسے ایسے جرم کی سزا دی جاتی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ہوتا۔

قانون کی زبان میں بجلی کی چوری ہر اُس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں میٹر یا سپلائی لائن کے ساتھ ایسی چھیڑ چھاڑ کی جائے کہ استعمال شدہ بجلی کا درست اندراج (Recording) نہ ہو سکے یا اسے جان بوجھ کر کم ظاہر کیا جائے۔ اس میں براہِ راست مداخلت کے ذریعے مین لائن سے کنڈا لگانا، میٹر ٹیمپرنگ کے ذریعے الیکٹرانک سرکٹ کو سلو کرنا یا شینٹ (Shunt) استعمال کرنا، اور نیوٹرل کی تبدیلی کے ذریعے میٹر کو بائی پاس کرنے کے لیے وائرنگ میں رد و بدل کرنا شامل ہے۔

بجلی کی چوری پاکستان میں ‘سوشل اسٹیٹس’ اور ‘نظریاتی بغاوت’ کا عجیب و غریب امتزاج بن چکی ہے۔
ہمارے ہاں ایک دیانتدار شہری، جو باقاعدگی سے بل بھرتا ہے، اسے معاشرہ ‘بے وقوف’ سمجھتا ہے، جبکہ بجلی چوری کرنے والے کو کامیاب انسان سمجھا جاتا ہے۔
اور یہیں سے اس نفسیاتی بحران نے جنم لیا ہے جس نے بجلی چوری کے مسئلے کو ہمارے ڈی این اے (DNA) کا حصہ بنا دیا ہے۔

اس دلچسپ نفسیاتی پہلو کو ہم بجلی چوری کے ان چار بنیادی طریقوں کی مدد سے سمجھ سکتے ہیں، جن کے پیچھے مختلف نفسیاتی محرکات کارفرما ہیں، اور ہر طریقہ اپنے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت اور justification (جواز) رکھتا ہے۔

1۔ کنڈا سسٹم (Direct Hooking)
یہ بجلی چوری کا سب سے آسان اور عام طریقہ ہے، جس میں مین لائن سے براہِ راست تار جوڑ کر بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں کوئی میٹر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے جتنی بھی بجلی استعمال کی جائے وہ مکمل طور پر ریکارڈ سے باہر رہتی ہے۔ نتیجتاً نہ صرف اصل کھپت چھپ جاتی ہے بلکہ اس کا مالی بوجھ بھی بالآخر پورے پاور سسٹم اور ایماندار صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔

2۔ سفید پوشی کا بھرم (The Middle Class Paradox)
معاشرے کا وہ طبقہ جو سرِعام کنڈا نہیں لگا سکتا، وہ میٹر ٹیمپرنگ کے ‘خاموش طریقوں’ پر عمل کرتا ہے۔ یہاں اصل نفسیات یہ ہوتی ہے کہ “میں چور نہیں لگنا چاہتا، مگر نقصان میں بھی نہیں رہنا چاہتا”۔ یہی سوچ اسے خاموش مگر منظم چوری کی طرف لے جاتی ہے۔

3۔ اہلکاروں اور صنعتکاروں کے درمیان غیر اعلانیہ تعاون ‏Informal Coordination between Officials and ‏Industrial Stakeholders
یہ بجلی چوری کی سب سے منظم اور طاقتور شکل ہے، جہاں صارف اکیلا نہیں ہوتا بلکہ سسٹم کے اندر کے لوگ بھی اس کی مدد میں شامل ہوتے ہیں۔
بڑی فیکٹریاں اور کارخانے بعض اوقات میٹر بائی پاس، ڈبل کنکشن یا غیر رجسٹرڈ لوڈ کے ذریعے بھاری مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ریڈنگ کم ڈالنا، بل ایڈجسٹ کرنا یا ریکارڈ میں تبدیلی جیسے طریقے اس چوری کو چھپانے میں مدد دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ چوری لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتی ہے، مگر آڈٹ سے اوجھل رہتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے ایک پورا سسٹمک نیٹ ورک کام کر رہا ہوتا ہے۔

4۔ بجلی بطور طاقت (Power Play)
دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بجلی کی چوری محض ایک معاشی ضرورت نہیں، بلکہ سماجی غلبے اور اثر و رسوخ کے اظہار کا ذریعہ بن چکی ہے۔ یہاں سرِعام ‘کنڈا’ ڈالنا صرف مفت بجلی حاصل کرنے کا طریقہ نہیں، بلکہ طاقت کی ایک علامت ہے؛ جس شخص کے گھر کے اوپر سے کنڈے کی تاریں بلا خوف و خطر گزر رہی ہوں اور کوئی انہیں ہٹانے کی جرأت نہ کرے، اسے ہی علاقے کا غیر سرکاری ‘چوہدری’، ‘وڈیرہ’ یا ‘سردار’ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسی خطرناک ذہنیت کو پروان چڑھاتی ہے جہاں ریاست کو جوابدہی کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور لوگ فخر سے یہ کہنے لگتے ہیں کہ “بل دینے کی ضرورت ہی کیا ہے، جتنا بھی آئے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے، جو ہوگا دیکھ لیں گے۔”

یہ بجلی چوری کے وہ چار بنیادی طریقے ہیں جو آج ہماری سوسائٹی میں مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔
کنڈا لگانے والا اسے مجبوری سمجھتا ہے، سفید پوش طبقہ اسے “سمارٹ ایڈجسٹمنٹ” کہتا ہے، بڑی انڈسٹری والے اسے کاروباری حکمت عملی بنا لیتے ہیں، اور بااثر سیاسی طبقہ اسے اپنی طاقت کا اظہار سمجھتا ہے۔
یعنی طریقے مختلف ہیں، مگر سوچ ایک ہی ہے۔
ہر شخص اپنaے عمل کے لیے کوئی نہ کوئی جواز تراش لیتا ہے، اور یہی self justification اس مسئلے کو ختم ہونے کے بجائے مزید مضبوط کرتی ہے۔

اب تک کی تحقیق کے مطابق، پاکستان میں بجلی چوری کا اصل محرک مہنگی بجلی کی قیمتیں نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے مابین ٹوٹتا ہوا وہ Bond ہے جو کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب ریاست اور عوام کے درمیان Social Contract کمزور پڑ جائے، تو شہری خود کو ریاست کے قوانین سے آزاد تصور کرنے لگتا ہے۔

جب ایک عام آدمی یہ دیکھتا ہے کہ اسے اپنے بلوں میں استعمال شدہ یونٹس کی قیمت کے علاوہ بھاری ٹیکسز اور اضافی چارجز بھی دینا پڑتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ، جس میں جج، جرنیل، بیوروکریٹس اور افسرانِ اعلیٰ شامل ہیں، مفت یا رعایتی بجلی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، تو اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیوروکریٹس کا مقام زیادہ بلند ہے؟ کیا جج زیادہ عزت اور سہولت کے قابل ہیں؟ اور کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
اور اگر ہے، تو پھر یہی سہولت ایک استاد، ایک ڈاکٹر، ایک انجینئر، ایک سائنسدان، ایک آئی ٹی پروفیشنل اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو بھی حاصل ہونی چاہیے۔

اسی کیفیت کو فرانسیسی مفکر ایمیل درکائیم نے انومی (Anomie) کا نام دیا تھا یعنی وہ معاشرتی حالت جہاں فرد کے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں اور درست اور غلط کا فرق دھندلا جاتا ہے۔ جب ریاست انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے، تو قانون کتابوں میں رہ جاتا ہے اور معاشرہ اپنے لیے نئے اصول خود تخلیق کرتا ہے۔
بجلی چوری ہمارے معاشرے میں اسی ردِ عمل کا نتیجہ ہے۔

(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
0
Views
5
0

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 17موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا(بجلی کی چوری اور ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 16موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟[ ہمارے پاور سسٹم ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 15موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 14موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 13 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...