🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 15
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
[مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے]
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
🔳 سمارٹ واپڈا (WAPDA 2.0) - پاکستان میں %50 سستی بجلی کی فراہمی کا نیا روڈ میپ
نجی پاور پلانٹس یعنی IPPs سے نجات اور واپڈا کی بحالی سے ہمارے بجلی کے بلوں میں 50 فیصد سے زائد کمی ممکن ہے۔ لیکن کیسے؟ آگے پڑھیے۔ اور مجھے لکھیے کہ یہ کتنے فیصد ممکن ہے تاکہ یہ سفارشات ہم حکومت کے سامنے اعتماد کے ساتھ رکھ سکیں۔
ہمارے تھنک ٹینک کا تجویز کردہ نام “واپڈا 2.0” دراصل 1958 کے پرانے واپڈا محکمے کو جدید تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کی ایک تجویز ہے۔
اگر پاکستان اپنے موجودہ IPPs ماڈل کو مرحلہ وار ختم کر کے ایک integrated اور centrally managed واپڈا طرز کے نظام کی طرف واپس آتا ہے، تو بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ ابتدائی تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ capacity payments، idle capacity، اور fragmented system کو کم کر کے مجموعی بلوں میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ کمی کتنی ہو سکتی ہے اور کن شرائط کے ساتھ ممکن ہے۔
ہمارے ملک کو اب فرسودہ پاور انفراسٹرکچر سے نکل کر ایک ایسی “نیشنل انرجی ہائی وے” کی ضرورت ہے، جو مکمل ڈیجیٹل اور خودمختار ہو۔ یہ ایک ایسا مرکزی نظام ہے جو بجلی بنانے یا بیچنے کے بجائے پورے توانائی کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرتا ہے، جہاں ہر یونٹ کی پیداوار، ترسیل اور کھپت real time میں دیکھی اور کنٹرول کی جا سکتی ہے۔
واپڈا ٹُو کا مطلب صرف اور صرف ٹیکنوکریٹس کی حکمرانی ہے، جس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز سیاستدانوں یا بیوروکریٹس کے بجائے ٹیکنوکریٹس، ڈیٹا سائنٹسٹس اور انرجی ماہرین پر مشتمل ہونا چاہیے، جو آج ہمارے پاور سیکٹر کی بکھری ہوئی 150 کے قریب کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر پاکستان میں توانائی کی مسلسل فراہمی (Energy Security) کو یقینی بنا سکے۔ (تجویز)
پاکستان کو بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کی نہیں بلکہ توانائی کو منظم کرنے والے ایک اعلیٰ مرکزی دماغ کی ضرورت ہے۔
اس مضمون کو انگلش میں پڑھنے کے لیے
www.SyedShayan.com
کو لاگ اِن کیجیے۔
مضمون کے آخر میں اپنی رائے ضرور دیجیے۔
منتخب آراء اور کمنٹس کو نام اور ای میل ایڈریس کے ساتھ وائٹ پیپر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ قسط میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح 1992 کے بعد پاکستان کے پاور سیکٹر کے سب سے مرکزی اور مضبوط محکمے واپڈا کو اصلاحات کے نام پر تقریباً 150 محکموں اور کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود نہ ہم بجلی کی قلت سے نکل سکے اور نہ ہی عوام کو سستی بجلی میسر آ سکی۔ بلکہ 1994 سے لے کر آج 2026 تک ان 32 سالوں میں 200 بلین ڈالر (تقریباً 56 ہزار ارب روپے یا 56 کھرب روپے) سے زائد رقم آئی پی پیز کو ادا کرنے کے باوجود آج بھی ہم مزید 9 بلین ڈالر (تقریباً 2 ہزار 500 ارب روپے یا 2.5 کھرب روپے) کے مقروض ہیں۔
واپڈا کو تقسیم کر کے جس معاشی تباہی کا ہم شکار ہوئے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ اور بعض پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز نے بجلی کی فراہمی کے نام پر جس طرح لوٹ مار کا بازار گرم کیا اور گورنمنٹ نے جس طرح ان کو نوازا، یہ پاکستان کی کرپشن کی آج تک کی سب سے بڑی داستان ہے۔ (محمد علی رپورٹ پڑھ کر دل دہلتا ہے کہ دن رات محنت کرنے والے اس محنت کش کے بجلی کے بل سے بھی کیپیسٹی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جو اپنے گھر والوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست بھی بمشکل کر پاتا ہے۔)
لیکن آج سوال یہ نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سے کیا کیا غلطیاں ہوئیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اب حل کیا ہے؟
اس حل کی تفصیلات میں جانے سے قبل ان نئے بننے والے محکموں کی کارگزاری کی ایک ناقابلِ معافی مثال دیکھیے۔
نیپرا کے مطابق ہمارے پاس تقریباً 46,605 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن دوسری طرف پاکستان کا قومی گرڈ، جسے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی چلاتی ہے، 500 اور 220 کلو وولٹ پر مشتمل ترسیلی نظام کے ذریعے تقریباً 25,950 ایم وی اے کی ٹرانسفارمیشن صلاحیت رکھتا ہے، (اور عملی طور پر یہ 25,516 میگاواٹ تک بجلی کی ایویکیویشن بھی کر چکا ہے۔) اس سے واضح ہوتا ہے کہ قومی گرڈ کی مؤثر آپریشنل صلاحیت تقریباً 25,000 سے 26,000 میگاواٹ کے درمیان ہے۔
یعنی ہمارا بجلی کا ترسیلی نظام (Power Transmission System)، جس کے ذریعے بجلی پاور پلانٹس سے نکل کر لمبے فاصلے طے کرتی ہوئی شہروں اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک تک پہنچتی ہے، 26,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ حکومت یا وزارتِ توانائی نے نجی پاور پلانٹس سے 46,605 میگاواٹ تک بجلی کے پیداواری معاہدے کیسے کر لیے؟ یعنی تقریباً 20,655 میگاواٹ اضافی بجلی خریدنے کی ضمانت انہوں نے کس بنیاد پر دی؟ کہ جب اسے مکمل طور پر استعمال ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اگر اس اضافی 20,655 میگاواٹ پر اوسط لاگت اور منافع کو دیکھا جائے تو یہ رقم سالانہ تقریباً 2,000 سے 2,500 ارب روپے بنتی ہے، جو کسی نہ کسی صورت میں عوام سے کیپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کر کے ان پاور پلانٹس کو دی جا رہی ہے۔
تو اس وقت سوال یہ ہے کہ جب قومی گرڈ کی حد صرف چھبیس ہزار میگاواٹ تھی، تو پھر چھیالیس ہزار چھ سو میگاواٹ تک بجلی حاصل کرنے کے لیے آئی پی پیز کس نے لگوائے اور یہ معاہدے ان سے کس نے کیے کہ ہم ہر حال میں ادائیگی کریں گے، جبکہ ہمارا نظام اس بجلی کو اٹھانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے عمل میں ہماری منسٹری آف انرجی نے پالیسی اور منظوری دی، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے پاور پرچیزنگ معاہدے کیے، اور نیپرا نے ٹیرف اور مالیاتی شرائط کی منظوری دی۔ یعنی یہ ایک محکمے کا نہیں بلکہ اصلاحات کے نام پر قائم ہونے والے کئی محکمہ جات کا مشترکہ فیصلہ تھا، لیکن اب یہ تعین کون کرے کہ کون سا محکمہ ذمہ دار ہے اور کس کا باقاعدہ احتساب ہونا چاہیے؟
اب یا تو پڑھنے والے اس کا جواب دیں یا متعلقہ حکومتی محکمے اس کی وضاحت کریں کہ اصل حقائق کیا ہیں، کیونکہ عقل یہ سب کچھ ماننے سے انکاری ہے، ورنہ اسے nothing more than institutional absurdity ہی کہا جا سکتا ہے۔
(یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 46,605 میگاواٹ ملک کی کل پیداواری صلاحیت ہے، نہ کہ مکمل طور پر استعمال ہونے والی بجلی۔ اس میں تقریباً 2,813 میگاواٹ net metering بھی شامل ہے، اور کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ صرف ٹرانسمیشن کی کمی نہیں بلکہ ڈیمانڈ پلاننگ اور idle plants جیسے عوامل سے بھی بنتا ہے، اس لیے 20,000 میگاواٹ کے فرق کو صرف ایک اشارتی imbalance سمجھنا چاہیے۔)
اوپر دی گئی اس ایک واضح مثال سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی کمی نے ہمارے پاور سیکٹر کو پچھلے 32 سالوں میں کس حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ اور حیرت و تعجب کی بات یہ ہے کہ سب کے سب یہ محکمے ایک مرکزی سربراہ کے بغیر ہی کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر ان تمام اداروں کے اوپر ایک مضبوط اور واضح مرکزی اتھارٹی موجود ہوتی تو آج نہ ملک کو اتنا مالی نقصان اٹھانا پڑتا، نہ ملک میں یہ معاشی دباؤ پیدا ہوتا، اور نہ ہی عوام کو مہنگی بجلی کے بلوں کا یہ بوجھ سہنا پڑتا۔ اور یہی وہ پس منظر ہے جس کی بنیاد پر ہماری طرف سے واپڈا (Water and Power Development Authority) کی بحالی کی یہ تجویز آپ کے سامنے رکھی گئی ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اسے کس حد تک مناسب سمجھتے ہیں یا اس کا کوئی اور بہتر حل پیش کرتے ہیں۔
اگرچہ پچھلی قسط میں واپڈا کی بحالی کی تجویز پیش کی گئی تھی، مگر اس قسط میں ہم بات ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور تجویز سے تصویر کی طرف چلتے ہیں۔
واپڈا کا یقیناً یہ ایک نیا تصور ہے جسے آپ سادہ لفظوں میں “واپڈا 2.0” کہہ سکتے ہیں۔ یعنی Brand (نام) وہی رہے گا جس پر عوام کو اعتماد ہے، مگر اس کا Version (نیا ایڈیشن) مکمل طور پر بدل چکا ہوگا۔ اس کے اندر کے تمام Bugs (خرابیاں) دور کیے جائیں گے، اس کی Performance (کارکردگی) کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے گا، اور اس میں ایسے نئے Features (سہولیات) شامل ہوں گے جو موجودہ ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ ہوں۔
یہ اصطلاح اس لیے اہم ہے کیونکہ آج کا عام آدمی بھی اپنے کمپیوٹر کے سافٹ ویئرز اور موبائل کی ایپس کے ذریعے اس تصور کو فوراً سمجھ لیتا ہے کہ نام وہی رہتا ہے مگر سسٹم یا کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ “واپڈا 2.0” دراصل ایک ایسے جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارے کی علامت ہے جو ماضی کی کمزوریوں پر قابو پا کر آج کے دور کے مطابق دوبارہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
واپڈا کا نام اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کے دور دراز دیہات تک ہر شخص اسے جانتا اور پہچانتا ہے، جبکہ DISCOs، NTDC یا CPPA جیسے نام عام آدمی کے لیے اجنبی ہیں۔ “واپڈا ٹو” نئی نسل کے سمجھنے کے لیے بھی آسان ہے اور پرانی نسل بھی اسے اعتماد کے ساتھ قبول کرے گی، کہ یہ پرانا بیوروکریٹک نظام نہیں بلکہ ایک جدید، اپ گریڈڈ اور ڈیجیٹل ورژن ہے۔
یہ ‘سمارٹ واپڈا’ ایسی صلاحیت کا حامل ہو گا کہ اسپین کے جدید گرڈ ماڈل کی طرز پر سو سے اوپر بکھرے ہوئے اداروں کو ایک سنگل کمانڈ کے تحت لا کر اربوں روپے کے انتظامی اخراجات بچا سکے۔
آئی پی پیز کی اجارہ داری ختم کر سکے اور ایک ایسی مارکیٹ تشکیل دے سکے جہاں صرف سستی بجلی ہی گرڈ کا حصہ بنے گی۔ یہ دراصل ایک ‘نیشنل انرجی ہائی وے’ ہو گا جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی چوری اور لائن لاسز کو کم کرے گا، اور درآمدی ایندھن کے بجائے ہائیڈل اور مقامی ذرائع پر انحصار کر کے پاکستان کو 45 کھرب روپے کے اس بوجھ سے نجات دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس نے ہماری معیشت کو 34 سالوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔
اگرچہ اس وقت ہماری دنیا میں بجلی کے روایتی طریقوں کو جدید بنانے کے کئی تصورات سامنے آ چکے ہیں۔ امریکہ میں “Government 2.0” کے تحت حکومتی نظام کو ڈیجیٹل، شفاف اور عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ جرمنی نے “Industry 4.0” کے ذریعے اپنے صنعتی ڈھانچے کو سمارٹ ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ہم آہنگ کیا۔
اسی طرح اسپین کے توانائی کے ادارے Redeia کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے اپنے قومی گرڈ کو ایک سمارٹ، مرکزی اور ڈیٹا پر مبنی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہاں بجلی کے گرڈ کے ساتھ فائبر آپٹک نیٹ ورک کو منسلک کر کے یہ ثابت کیا گیا کہ ایک ہی قومی انفراسٹرکچر کو توانائی، ڈیٹا، نگرانی اور آپریشنل کنٹرول کے لیے بیک وقت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، یوں اس ملک میں آج ٹرانسمیشن نیٹ ورک ایک ہائبرڈ ڈیجیٹل سسٹم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اسی طرح برطانیہ نے اپنے گرڈ سسٹم کو ایک flexible اور intelligent نظام میں تبدیل کیا، جہاں قابلِ تجدید توانائی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جاتا ہے، جبکہ ریئل ٹائم balancing، smart metering اور مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے پورے نظام کو زیادہ مؤثر اور مستحکم بنا دیا گیا ہے۔
فرانس نے اپنے گرڈ کو ایک مرکزی اور سمارٹ نظام بنا کر نیوکلیئر اور قابلِ تجدید توانائی کے امتزاج سے بجلی کی مستحکم اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔
بھارت نے اپنے بکھرے ہوئے نظام کو “One Nation, One Grid” کے تحت یکجا کر کے پورے ملک کو ایک مربوط اور مرکزی گرڈ میں تبدیل کر دیا، جس سے بجلی کی ترسیل اور توازن میں نمایاں بہتری آئی۔
افریقہ میں ایتھوپیا کی مثال بھی کسی حد تک پاکستان سے ملتی ہے، جہاں بجلی کے نظام میں ہائیڈرو پاور کا بڑا کردار ہے۔ وہاں آئی پی پیز آئے ضرور، مگر انہیں مکمل آزادی نہیں دی گئی بلکہ ریاستی کنٹرول کے تحت رکھا گیا۔ پورا نظام اب بھی مرکزی اور مربوط ہے، جہاں بنیادی ادارہ ہی فیصلہ سازی کا محور ہے اور نجی پیدا کنندگان اسی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں، نہ کہ اس سے باہر نکل کر نظام پر حاوی ہو سکیں۔
ایشیا میں ویتنام کی مثال بھی بہت اہم ہے، جہاں ریاست نے EVN کے ذریعے بجلی کے پورے نظام پر مرکزی کنٹرول برقرار رکھا۔ وہاں آئی پی پیز اور نجی سرمایہ کاری کو مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک منظم ریاستی فریم ورک کے اندر رکھا گیا، چنانچہ نجی شعبہ نظام پر حاوی نہیں ہو سکا بلکہ مرکزی ادارے کے تحت کام کرنے پر مجبور رہا۔
جبکہ چلی نے اپنے بجلی کے شعبے کو مکمل طور پر ری اسٹرکچر کر کے اسے ایک مسابقتی مارکیٹ میں تبدیل کر دیا۔
انہی عالمی رجحانات کے تسلسل میں ان کی مثال سامنے رکھ کر “واپڈا 2.0” پاکستان میں ایک نئی انرجی مارکیٹ تشکیل دے سکتا ہے، جہاں صرف سستی بجلی ہی گرڈ کا حصہ بنے گی، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سمارٹ مانیٹرنگ کے ذریعے بجلی چوری، لائن لاسز اور غیر مؤثر فیصلوں کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ یوں یہ تصور محض ایک ادارے کی بحالی نہیں بلکہ ایک مکمل نیشنل انرجی ہائی وے کی بنیاد ہے، جو پاکستان کے توانائی کے نظام کو جدید، شفاف اور پائیدار سمت میں لے جا سکتا ہے۔
🔳 اب ہم آتے ہیں اس تصور کی طرف کہ اگر پاکستان اپنے موجودہ IPPs ماڈل کو مرحلہ وار ختم کر کے ایک integrated اور centrally managed واپڈا طرز کے نظام کی طرف واپس آتا ہے، تو بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی کیسے ممکن ہے۔
ابتدائی تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ capacity payments (کیپیسٹی ادائیگیاں)، idle capacity (غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت)، اور fragmented system (بکھرا ہوا نظام) کو کم کر کے مجموعی بجلی کے بلوں میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
درج ذیل 8 پوائنٹس میں کوشش کی گئی ہے کہ اس پورے مسئلے کو سادہ اور قابلِ عمل انداز میں بیان کیا جائے تاکہ واضح ہو سکے کہ کن اقدامات کے ذریعے عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو مرحلہ وار کم کیا جا سکتا ہے۔
بظاہر ان 8 اصلاحات سے 50 سے 55 فیصد بلکہ بعض صورتوں میں اس کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے، تاہم یہ ایک ممکنہ تخمینہ ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
1- capacity payments، take-or-pay ماڈل، اور ضرورت سے زیادہ مہنگی contracted capacity کو restructure کرنے سے %20 سے %25 تک کمی ممکن ہے۔
2- IPP معاہدوں کو renegotiate کر کے dollar indexation، غیر متوازن returns، اور سخت ادائیگی کی شرائط کم کرنے سے %5 سے %8 مزید کمی ممکن ہے۔
3- idle، کم استعمال ہونے والے، یا مہنگے پاور پلانٹس کو optimize، retire، convert یا system سے نکالنے سے %5 سے %7 کمی ممکن ہے۔
4- transmission اور distribution losses کو بہتر grid management، modernisation، اور system control کے ذریعے کم کرنے سے %3 سے %5 کمی ممکن ہے۔
5- DISCOs کی inefficiency، بجلی چوری، کمزور recovery، اور bad governance کو کنٹرول کرنے سے %5 سے %7 کمی ممکن ہے۔
6- fuel mix کو least-cost basis پر لا کر، مقامی اور سستی پیداوار کو ترجیح دے کر، اور مہنگے ایندھن پر انحصار کم کر کے %4 سے %6 کمی ممکن ہے۔
7- circular debt، surcharge burden، اور پاور سیکٹر کی financing cost کو کم کر کے %3 سے %5 کمی ممکن ہے۔
8- fragmented انتظامی ڈھانچے، over-invoicing، غیر شفاف اخراجات، اور procurement کی بدانتظامی کو audit اور institutional reform کے ذریعے کم کرنے سے %2 سے %4 کمی ممکن ہے۔
قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان آٹھ نکات میں circular debt (گردشی قرضہ) اور surcharge burden (اضافی بوجھ) جیسے اہم عوامل بھی شامل ہیں، اور اگر ان سب کی مجموعی بچت کو جمع کیا جائے تو تقریباً 46 فیصد سے 55 فیصد تک کمی کی گنجائش بنتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ مشترکہ اصلاحات کا حقیقی نتیجہ ہے۔
تاہم یہ اندازے صرف اس صورت میں اپنا اثر دکھا سکتے ہیں کہ جب اصلاحات پر عمل درآمد شروع ہو۔ بجلی کے بلوں میں حقیقی کمی اس بات پر زیادہ depend کرے گی کہ حکومت کتنی سنجیدگی سے فیصلے کرتی ہے، نظام کتنا efficiently چلتا ہے۔
(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)
1
Views
32
This article is very eye opening.